فرحت اللہ بابر نے ایسا کیا کہہ دیا تھا جو خبر نہ بن سکا؟

 بات کچھ بھی نہیں تھی، ایک روشنی کی کرن جو سپریم کورٹ کے فیصلے سے پھوٹ رہی تھی تاریک راہوں میں بھٹکتی جمہوریت کا رخ اس روشنی کی کرن کی جانب موڑنا ہی تو تھا-

بات بس اتنی سی تھی کہ سپریم کورٹ نے آٹھ فروری کو جاری ایک بیان میں فرحت اللہ بابر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنا کام کر دیا ہے اور اب پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مینڈیٹ کے تعین کے لئے مناسب قانون سازی کرے۔فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ سنایا توسابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے ریاست کی درستگی کے لئے ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے جمہوریت کے راستے کو روشن کر دیا ہے۔

فرحت اللہ بابر نے اپنے بیان میں یہ بھی کہہ دیا کہ اس فیصلے سے جمہوری اداروں کو جو موقع ملا ہے اس سے وہ فائدہ اٹھائیں تاکہ عوامی آراءکو توڑ مروڑ کے پیش کرنے کا سلسلہ ختم ہو، سیاست میں چور دروازے سے دخل اندازی کا خاتمہ ہو اور مخالفانہ آواز دبانے کا سلسلہ بھی ختم ہو۔

اپنے بیان میں فرحت اللہ بابر نے یاد دلاتے ہوئے کہا کہ کہ کچھ عرصہ قبل سینیٹ میں یہ کوشش کی گئی تھی کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو قانون کے فریم ورک کے اندر لایا جائے۔ انہوں نے سینیٹ سے کہا کہ وہ آئی ایس آئی اور دیگر انٹیلی ایجنسیوں کے مینڈیٹ کا تعین کرنے کے لئے قانون سازی میں پہل کریں جیسا کہ سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے۔

فرحت اللہ بابر نے بیان میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں وزارت دفاع اور فوج کے متعلقہ سربراہان کو حکم دیا ہے کہ ان کے اداروں میں جو لوگ بھی اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے گئے ہیں انہیں سزا دی جائے۔ یہ حکم تازہ ہوا کا جھونکا ہے اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس بارے قانون سازی کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔

فرحت اللہ بابر کابیان میں کہنا تھا کہ اس وقت یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ جن لوگوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے انہیں حقیقت میں سزا دی جائے بلکہ یہ بات اہم ہے کہ سزا دلوانے کا عمل قانون سازی ابھی سے شروع کی جائے۔

فرحت اللہ بابر نے اپنے بیان میں توجہ مبذول کروائی تھی کہ سپریم کورٹ کےفیصلے میں یہ ریمارکس کہ پیمرا ان کیبل آپریٹروں کے خلاف ایکشن لینے میں ناکام رہا جو کنٹونمنٹ کے علاقوں میں خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے جس سے یہ بات ظاہر ہوگئی ہے کہ کون لوگ ہیں جو عوامی رائے اور مخالفت کی آواز کو دبانا چاہتے تھے۔ اب پیمرا پر یہ لازم ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرے۔

فرحت اللہ بابر نے بس یہی کہا تھا کہ اس فیصلے میں پارلیمنٹ، ریاستی اداروں اور سول سوسائٹی کے راستے کو روشن کر دیا ہے۔

بات صرف اتنی تھی مگر اخبار کی سیاہی سے روشن بیان کہاں چھاپے جا سکتے اب ۔