فیس بک پیج سے منسلک ہوں

پارلیمنٹ ہاوس اور پارلیمنٹرین غیر محفوظ ، سی ڈی اے ڈرامہ بے نقاب

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ /معظم رضا تبسم : سینٹ ہاوس کمیٹی کے سربراہ ڈپٹی چیئرمین سینٹ سلیم مانڈی والا نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں چپقلش پیدا کرنے کی سی ڈی اے حکام کی سازش کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ ہاوس کمیٹی اجلاس میں انکشاف کیا کہ اگر پارلیمنٹ ہاوس اور پارلیمنٹ لاجزمیں آگ لگ جائے تو سی ڈی اے کے پاس آگ بھجانے کے ضروری آلات نہیں پارلیمنٹ لاجز کے سیکیورٹی کیمرے بھی خراب پڑے ہیں۔

سینیٹ ہاؤس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر سلیم مانڈوی والاکی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا ۔ ہاؤس کمیٹی اجلاس میں 3 جنوری2019 کو ہونے والے کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کے علاوہ پارلیمنٹ لاجز میں جینی ٹوریل سروسز ، مالی سال 2018-19 کیلئے پارلیمنٹ لاجز کیلئے مختص اور استعمال بجٹ ، کمیٹی کی ہدایت کے مطابق نئے لاجز بلاک کی تعمیر کے حوالے سے ٹھیکدار کے ساتھ مسئلے کے حل کے معاملات ، ڈی جی سول ڈیفنس سے پارلیمنٹ لاجز میں فائر ڈرل کے علاوہ لاجز میں بجلی کے مسائل کے حل کیلئے آئیسکو حکام سے تفصیلی بریفنگ حاصل کی گئی ۔
ہاؤس کمیٹی کو3 جنوری2019 کو دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کے حوالے سے تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ انہوں نے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سے پارلیمنٹ لاجز کے معاملات کے حوالے سے ملاقات کی ہے ۔معاملات و مسائل کے حوالے سے جو بھی درخواستیں ہونگی وہ کمیٹی اجلاس سے منظور کرائی جائیں گی ۔ چیئرمین کمیٹی نے سی ڈی اے حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز میں دکانوں کے حوالے سے سینیٹ ہاؤس کمیٹی کو کچھ اور بتایا گیا او ر سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کو کچھ اور بتایا گیا ۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ہاؤس کمیٹی کو آگاہ کیا گیا تھا کہ دکانوں کو ٹھیکے پر دینے کیلئے پیپرا رولز کے مطابق ٹینڈر دینا پڑتا ہے اور گزشتہ اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ زبانی احکامات پر دو کانوں کو ٹھیکے پر دے دیا گیا ہے ۔ چیئرمین کمیٹی نے پارلیمنٹ لاجز اور پارلیمنٹ ہاؤس میں ناقص صفائی کی صورتحال ، باتھ رومز کی گندگی حالت اور سیکورٹی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاجز میں تعینات سی ڈی اے حکام کو علم ہی نہیں ہوتا کہ کون لوگ آرہے ہیں اور کون جارہے ہیں ۔ چھوٹے چھوٹے معاملات کو کمیٹی اجلاس میں زیر بحث لایا جاتا ہے ۔ پارلیمنٹ لاجز کے داخلے پر بھی سیکورٹی کیمرے خراب ہیں اور سی ڈی اے سے صرف ایک ہی شکایت آتی ہے کہ فنڈز موجود نہیں ہیں۔ ہاؤس کمیٹی نے ڈی جی سول ڈیفنس سے پارلیمنٹرین کیلئے ایک فائر ڈرل کرانے کا کہا تھا جو دو دفعہ منعقد ہوئی جو سراسر ایک مذاق ثابت ہوا ۔ ادارے کے پاس نہ ہی آگ بجھانے والے آلات صحیح حالت میں ہیں اور جو گیس بھرائی گئی تھی اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کمیٹی نے جو انکوائری کرنے کا کہاتھا وہ ابھی تک نہیں کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ ہاؤس یا پارلیمنٹ لاجز میں آگ لگ جائے تو سی ڈی اے کے پاس وہ آلات ہی نہیں ہیں جو آگ بجھا سکیں ۔ چیئرمین کمیٹی نے 25 فروری2019 کو پارلیمنٹ ہاؤس میں پارلیمنٹرین کیلئے غیر اعلانیہ فائر ڈرل منعقد کرانے کی ہدایت کر دی تاکہ انہیں علم ہو سکے آگ لگنے کی صورت میں اس پر کس طرح قابو پایا جا سکتا ہے ۔ چیئرمین کمیٹی نے لاجز کے اضافی بلاک کی تعمیر کے حوالے سے سی ڈی اے اور ٹھیکدار کے مابین مسائل کے حل طلب معاملات کو طے نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ اجلاس میں ایک مہینے کا وقت طلب کیا گیا تھا جو ابھی تک طے نہیں کیا جا سکا ۔جس پر چیئرمین سی ڈی اے نے موجودہ ماہ کے آخر تک معاملات طے ہونے کی یقین دہانی کرا دی ۔ چیئرمین کمیٹی نے سی ڈی اے حکام کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ایوانوں کے مابین چپکلش پیدا کرنے کی کوشش نہ کی جائے تمام معاملات طریقہ کار اور قواعد وضوابط کے مطابق سرانجام دیئے جائیں ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سیکورٹی کیمروں کیلئے 3 ملین کا منصوبہ ہے جبکہ مالی سال کے دوسرے اور تیسرے کوارٹر کے فنڈکی سمری وزارت داخلہ کے پاس ہے ۔ پہلے فنڈز وزارت خزانہ سے کیڈ کے ذریعے ملتے تھے اب وزارت خزانہ سے وزارت داخلہ کے ذریعے ملیں گے ۔ چیئرمین و اراکین کمیٹی نے پارلیمنٹ لاجز اور پارلیمنٹ ہاؤس کے باتھ رومز کی گندگی حالت پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جینی ٹورئیل سروسز کیلئے 5.6 ملین روپے بجٹ مختص کیا گیا ہے مگر صفائی کی صورتحال انتہائی ناقص ہے ۔اراکین کمیٹی نے گیس کے بھاری بلوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دو کمروں پر مشتمل سوٹ کا گیس کابل35 سے50 ہزار آنا شروع ہوگیا ہے جس پر چیئرمین کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں ایس این جی پی ایل کے حکام کو طلب کر لیا ۔اراکین کمیٹی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بجلی و گیس کے بل آخری تاریخ کو فراہم کیے جاتے ہیں ۔ سینیٹر میر محمدیوسف بادینی نے کہا کہ کمیٹی کو ایک فہرست فراہم کی جائے کہ لاجز سوٹ کے باتھ رومز اور کچن کے ٹائل کا کام اور دیگر تزئین و آرئش کے کام کیے گئے ہیں ۔
کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز میر محمد یوسف بادینی ، کلثوم پروین اور ثمینہ سعید کے علاوہ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت داخلہ ، چیئرمین سی ڈی اے عامر احمد علی ، ڈی جی سروسز پارلیمنٹ لاجز ، ڈی جی ورکس پارلیمنٹ لاجز ، ممبر فنانس سی ڈی اے ، ممبر انجینئر نگ سی ڈی اے ، ڈی جی سول ڈیفنس اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

** اس خبر سے متعلقہ ویڈیو دیکھنے کے لئے تصوہر پر کلک کریں