فیس بک پیج سے منسلک ہوں

فوج کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کی حمایت نہیں کرسکتی: فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ جاری

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ : سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کا 43 صفحات پرمشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ پڑھ کر سنایا جب کہ فیصلے میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمان بھی پڑھ کر سنائے گئے تاہم تفصیلی فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کر دیا جائے گا۔ فیصلے کی کاپی سیکرٹری دفاع، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی جی کو فراہم کرنے کا حکم دیا گیا۔

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے 22 نومبر کو فیض آباد دھرنے کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ازخود نوٹس کیس کا فیصلہ سنانا مشکل کام ہے، تفصیلی فیصلہ ویب سائٹ پر جاری کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری 43 صفحات پرمشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہر شخص کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی جماعت بنانے کا حق ہے، ہر شخص یا جماعت کو پر امن احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے، احتجاج کے دوران سڑکیں بند اور توڑ پھوڑ کرنے والوں کیخلاف لازمی کارروائی ہونی چاہئے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن متعلقہ قوانین پر عملدرآمد نہ کرنے والی سیاسی جماعت کیخلاف کارروائی کرے، فیصلہ قانون کے تحت الیکشن کمیشن کی کارروائی رسمی نہیں ہونی چاہیے، ہر سیاسی جماعت اپنے ذرائع آمدن سے متعلق جواب دہ ہے۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں سانحہ 12 مئی کا بھی ذکر کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ سانحہ 12 مئی کے مجرموں کو سزا نہ دے کر غلط مثال قائم کی گئی۔
تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ریاست کا رویہ غیر جانبدار اور شفاف ہونا چاہیے، قانون کا اطلاق حکومت اور حکومتی اداروں پر یکساں طور پر ہوتا ہے، سانحہ 12 مئی کے ذمہ دار حکومتی عہدیداروں کو سزا نہ ملنے سے غلط روایت پڑی، سانحہ 12 مئی، ریاست کی ناکامی نے دیگر لوگوں کو اپنے مقصد کیلئے تشدد کی راہ دکھائی۔

سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملک میں انتشار اور ملکی سالمیت کے خلاف نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا جب کہ فیصلے میں سانحہ 12 مئی میں مجرموں کو سزا نہ دینے کو بھی غلط مثال قرار دیا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے سنائے گئے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سیاسی پارٹیوں کو پر امن طور پر احتجاج کرنے کا قانونی حق حاصل ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حساس ادارے ملکی سالمیت میں نفرت پیدا کرنے والے لوگوں کو مانیٹر کریں اور سیکیورٹی ہاتھ میں لے کر اکسانے والے لوگوں پر بھی نظر رکھی جائے جب کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بھی ایسے تمام افراد کو مانیٹر کریں جو دہشت گردی، انتہا پسندی اور نفرت آمیز گفتگو کرتے ہیں۔

عدالت نے فیصلہ دیا کہ لوگوں کی جان و مال کو نقصان پہنچانے، بد امنی پر اکسانے اور فتوے دینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور قانون کے مفاد کے لئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔

فیصلے میں الیکشن کمیشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اُن سیاسی جماعتوں کے خلاف کارروائی کرے جو قانون پر عمل نہیں کرتے جب کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے ذرائع آمدن بتانے کی بھی پابند ہیں۔

عدالت نے نفرت انگیز پیغام نشر کرنے والے چینلز کے خلاف بھی پیمرا آرڈیننس کے تحت کارروائی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے کیبلز آپریٹرز جنہوں نے نشریات بند کیں ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔

فیصلے میں آئی ایس پی آر ،آئی ایس آئی ،آئی بی اور ایم آئی بشمول تمام خفیہ ایجنسیاں کو اپنے دائرہ کار تک محدود رہنے اور آزادی اظہار میں کمی یا مداخلت نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فوج کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کی حمایت نہیں کرسکتی، حلف کی خلاف ورزی کرنے والے افسران کیخلاف کارروائی اور حساس اداروں کے لیے قانون سازی کے بھی احکامات دئیے۔

واضح رہےسپریم کورٹ نےاسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم فیض آباد پر تحریک لبیک یا رسول کی جانب سے دیئے گئے دھرنے پر از خود نوٹس لیا تھا، مقدمےکی سماعت کے دوران عدالت نے حساس اداروں اور پولیس سے متعدد رپورٹس طلب کیں تھیں۔