فوجی عدالتوں کے معاملہ پر بے بس حکومت، طاقت پکڑتی اپوزیشن اور مڈٹرم الیکشن کارڈ

پارلیمنٹ ہاوس میں گذشتہ روزاپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی دعوت پر اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے فیصلے پر سرعت سےبدھ کوعمل شروع ہوگیا ۔ قومی اسمبلی اجلاس میں سپریم کورٹ حکم پربلاول بھٹو زرداری کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنے کے معاملے پرشاہد خاقان عباسی کی حلیف پی پی چئیرمین کے حق میں جہاں آواز سنی گئی وہیں پارلیمنٹ میں شاہ محمود قریشی کی زبانی فوجی عدالتوں کی توسیع کے لئے حکومتی بے بسی کا اظہار بھی وا ہوگیا۔

قومی اسمبلی کے بدھ کواسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت اجلاس میں اپوزیشن لیڈ ر شہباز شریف اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو بھی شریک ہوئے۔ اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی میں گیس کی قیمتوں میں اضافے، بڑھتی ہوئی مہنگائی، قرضوں میں اضافہ اور سی پیک منصوبوں میں کٹوتی ، مہمد ڈیم ٹھیکے میں بے ضابطگیوں، بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور ادویات کی قیمتوں میں اضافہ بارے میں بسات تحاریک التوا جمع کرادی۔ تحاریک التوا شاہد خاقان عباسی، خواجہ محمد آصف، سعد رفیق اور مریم اورنگزیب کی جانب سے جمع کرائی گئیں جن پربحث میں حکومت کو اپوزیشن کی سخت تنقید اور سوالات پرجوابدہ ہونا پڑیگا۔

حکومتی کارکردگی کا ناقد ہونا اپوزیشن کا حق ہوتا مگر جب وزیراعظم پارلیمنٹ سے مسلسل غیر حاضر ہیں تو انکی اپنی جماعت کے اراکین کا حکومت کارکردگی پر ضبط ٹوٹتا دکھائی دے رہاہے۔ جس کا مظاہرہ پی ٹی آئی کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں سامنے آیا جہاں حکومتی وزیر شاہ محمود قریشی بھی اپنے وزیر خزانہ اسد عمر کے معاشی لائحہ عمل پر پارٹی اراکین کے ساتھ ناقدین کی صف میں شامل رہے۔ پی ٹی آئی اراکین قومی اسمبلی نے اجلاس میں تجاوزات ہٹانے کی پالیسی ، بڑھتی مہنگائی ، اورسرکاری اداروں میں انکی بے وقعتی کے گلے کئے اورقرار دیا کہ جاری پالیسیوں سے حکومت و پارٹی کی عوام میں ساکھ تباہ ہو کر رہ گئی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے حکومتی زرعی پالیسی کو ہدف تنقید بنایا جس کی ناکامی کاشتکار اور چھوٹے کسانوں کے سڑکوں پر احتجاج کی صورت نظرآرہی ہے۔ پی ٹی آئی وزیر اور اراکین اگر خود اپنی حکومت کی پالیسیوں کی ناکامی پر واہ ویلا کر رہے ہوں تو اپوزیشن کے موقف کو کون غلط یا سیاسی پوائنٹ سکورننگ کہہ پائے گا؟

بدھ کو جہاں حمزہ شہباز کو لاہور ہائیکورٹ سے بیرون ملک سفر کی اجازت ملنے کی خبر آئی وہیں قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو زرداری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے عدالتی فیصلے پرعملدرآمد نہ کرنے پر سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے آواز اٹھائی تو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے بلاول اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے ہٹانے کا حکم نہیں دیا، صرف اتنا کہا گیا کہ اس معاملے کو دیکھیں۔ کابینہ اجلاس میں یہ نقطہ اٹھایا گیا کہ عدالت کا تفصیلی حکم نہیں ملا، صرف اخبارات میں کہا گیا کہ ای سی ایل سے نام نکالنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ای سی ایل سے متعلق بنائی گئی حکومتی کمیٹی معاملے کو دیکھ رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے ایوان میں یہ موقف اختیار کرکے کہ “ای سی ایل سے نام نکالنے سے انکار کسی نے نہیں کیا ” نجانے اپنی بے بسی ظاہر کی یا بے حسی کا عندیہ دیا۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا جواب میں کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی نے 15 منٹ تقریر کی، میرا سوال یہ ہے کہ بتا دیں کہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی کا اصرار تھا کہ سپریم کورٹ نے بلاول بھٹو کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا اور حکومت کہہ رہی ہے سپریم کورٹ کے فیصلے کی کاپی نہیں ملی۔ کون سی قیامت آ جاتی اگر بلاول کا نام ای سی ایل سے نکا دیتے۔ شاہد خاقان نے سوال اٹھایا کہ ایسے شخص کو ای سی ایل پر کیوں رکھا ہے جس نے کبھی حکومتی عہدہ ہی نہیں سنبھالا؟

حکومتی بے بسی تو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ ہاوس میں میڈیا سے گفتگو میں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے حوالے سے بھی یہ کہہ کر ظاہر کر دی کہ حکومت کے پاس دوتہائی اکثریت نہیں بلکہ پارلیمنٹ میں کسی سیاسی جماعت یا اتحاد کے پاس نہیں کہ آئینی ترمیم کرکے فوجی عدالتوں کو مزید توسیع دے سکے۔ یہ بھی پتہ نہیں کہ یہ عندیہ انہوں نے فوجی عدالتوں کی توسیع چاہنے والوں کو جانتے بوجھتے کیا یا انجانے میں کہہ گئے ؟ تاہم انہوں نے عندیہ دیا کہ حکومت فوجی عدالتوں کی توسیع کے حوالے سے حزب اختلاف کو اعتماد میں لینے کے لئے کمیٹی بنائے گی ۔ قبل ازیں حکومتی حلقوں کے حوالے سے اطلاعات یہی تھیں کہ وزیراعظم عمران خان نے شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک کوفوجی عدالتوں کی توسیع کے لئے اپوزیشن سے رابطوں کو ٹاسک دیا۔

حکومت جو کہ اپوزیشن قیادت کو ای سی ایل جیسی غیر مفید پالیسی سے ڈیل کرنے کی روش اختیار کئے ہوئے ہے پارلیمان میں قانون سازی کے لئے ماحول کو ساز گار بنانے کے لئے کیا اقدامات اٹھاتی ہے بقول وزیر اطلاعات حکومت کو اپوزیشن کیخلاف زہر افشائی بند کرنے کا کہا جا رہا ہے تو یقینا کہہ وہی سکتے ہیں جو حکومت کو ڈکٹیٹ کروانے کی حثیت رکھتے ہوں اور ایسا ہونا بھی حکومت کے لئے کوئی نیک شگون نہیں ۔ یقینا حکومت میں موجود سینئر سیاستدانوں کو ماضی کے حکومتی تجربات کے تناظر میں ایسی مداخلت سے حالات کی سنگینی کا ادراک ہوگا۔

شنید ہے آنے والے ہفتوں میں انتخابات 2018 دھاندلی کی تحقیقات کا معاملہ بھی سر اٹھائے گاجو فی الوقت پارلیمانی کمیٹی میں زیر بحث ہے ابھی تک انکوائری کے لئے ٹی او آرز پر حکومت اپوزیشن اتفاق نہیں ہو سکا۔ اگر متحد ہوئی اپوزیشن نے انتخابی دھاندلی معاملہ پراسلام آباد کی جانب پی ٹی آئی طرز کے لانگ مارچ کا کارڈ استعمال کر لیا تو مسائل کی شکارحکومت کو دھچکے کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ گو کہ وزیراعظم پہلے ہی مڈٹرم انتخابات کا کارڈ شو کر چکے ہیں تاہم مڈ ٹرم انتخابات کے نتائج موجودہ کارکردگی کے تناظر میں پی ٹی آئی کی حمایت میں آ سکیں گے وزیراعظم اور انکی ٹیم کے لئے یقینا اہم سوال ہوگا۔