فوجی عدالتوں کی توسیع کا مرحلہ : مسئلہ کا حل کیا تیار ہو رہا؟

چاربرس قبل 2015 میں آرمی پبلک سکول کے سانحہ کے بعد جب نیشنل ایکشن پلان کے تحت سابق نواز شریف حکومت فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لائی تھی تو پاکستان تحریک انصاف جو آج برسراقتدار ہے فوجی عدالتوں کو عارضی انتظام قرار دے رہی تھی۔ پھر 2017 میں پہلی مرتبہ فوجی عدالتوں کو دو سالہ توسیع ملی تو اس معاملے پر حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان مذکرات کا طویل سلسلہ چلا تھا۔ اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلزپارٹی نے واضح پوزیشن یہی لی تھی کہ فوجی عدالتوں کی دوبارہ توسیع کی حمایت نہیں کرے گی مگر اسے نبھا نہ سکی۔

2017 میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان مذکرات  سے باخبر ذرائع کی جانب سے یہی بتایا جاتا ہے کہ پوری پیپلزپارٹی کی مخالفت کے باوجود پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے صدر آصف علی زرداری نے پارلیمانی پارٹی کو فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی حمایت کا فرمان جاری کردیا تھاجس پر پی پی اراکین پارلیمنٹ کو فوجی عدالتوں کی توسیع کا کڑوا گھونٹ بھرنا پڑا۔ آصف علی زرداری کی جانب سے بعین معاملہ موجودہ چیئرمین نیب کی تقرری کے مرحلہ پر ہواجس کوآصف علی زرداری اب پارلیمنٹ میں طلب کرنے کی تجویز دینے پر مجبور ہوئے۔

جب چار سال قبل ان فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا تو وجہ ایک ایسا استثنائی اقدام تھا، جس کی مدد سے وفاقی حکومت ملک میں دہشت گردانہ جرائم کے خلاف نظام انصاف میں محدود مدت کے لیے اصلاحات لا سکے۔ لیکن ان فوجی عدالتوں کے قیام کے ساتھ ہی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیموں نے زیادہ شفافیت کا مطالبہ شروع کر دیا تھا کہ یہ عدالتیں تو دنیا کے کسی بھی ملک میں قائم کی جانے والی فوجی عدالتوں کے کم از کم معیارات پر بھی پورا نہیں اترتی تھیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ فوجی عدالتوں کی چار سالہ مدت پوری پونے پرفوجی عدالتوں کے قیام کے ساتھ ملکی نظام انصاف میں اصلاحات کرنے کے حوالے سیاسی جماعتوں نے بھی کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔

اب جبکہ فوجی عدالتوں کی مدت میں دوسری بار توسیع کا مرحلہ درپیش ہے تو قومی سطح پر ایکبار پھر یہ سوال زیر بحث ہے کہ فوجی عدالتیں جس مقصد کے لیے بنی تهیں وە پورے کیوں نہیں ہو سکے ؟اورکیا 4 سال پہلے ان کی عدالتوں کے قیام اور پھربعدازاں مزید دوسال کی مدت توسیع کی منظوری نے پارلیمان اور سیاسی جماعتوں پر بهی سوالیە نشان نہیں لگادیا؟

یہ الگ بات کہ ان فوجی عدالتوں کے مخالفین اراکین پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے رہنما تو فوجی عدالتوں میں ایک دن کی توسیع بهی دینے کے روا دار دکھائی نہیں دیتے۔ فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی شفافیت اور ان میں زیادە تر سزائیں ایسے مجرموں کو سنائے جانے پرجن کے مقدمات انتہا پسندی سے متعلق نہیں تهے پر بھی اعتراضات اٹھا رہے ہیں۔

دوسری طرف اپوزیشن لیڈرمیاں شہباز شریف جن کی سابق حکومت نے ان فوجی عدالتوں کا قیام اور پھر مزید توسیع کویقینی بنائے رکھا اب دوسری بار فوجی عدالتوں کو توسیع دینے کے مرحلہ پر سمجھتے ہیں کہ آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے دہشت گردی میں کمی آئی اورفوجی عدالتیں بننے سے دہشت گردوں میں خوف پیدا ہوا اور دہشت گردی میں بھی کمی آئی۔ مگرجہاں وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ قانون کی حکمرانی کو آگے بڑھنا چاہے وہیں فوجی عدالتوں میں توسیع کے لیے بھی سوچ و بچار کا عندیہ دے رہے۔

دوسری جانب پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے  کہا کہ  فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پر اپوزیشن کا اپنا مؤقف ہوسکتا ہے لیکن پیپلزپارٹی کی سی ای سی نے فریم ورک طے کیا ہے، حکومت کی جانب سےکسی نے فوجی عدالتوں کے معاملے پر ہم سے رابطہ نہیں کیا، پیپلز پارٹی کو فوجی عدالتوں سے متعلق بل کوسپورٹ کرنا مشکل ہوگا۔” بلاول بھٹو جس ” مشکل ” کا اشارہ دے رہے ہیں،اس کا مطلب” ناممکن” نہیں کیونکہ سیاست ممکنات تراشنے کا نام ہے مشکل اور ناممکن میں واضح فرق گذشتہ بار فوجی عدالتوں کی پارلیمان سے  توسیع دیئے جانے کے مرحلہ پر پیپلزپارٹی قائد آصف علی زرداری طے کر چکے ہیں۔

موجودہ پی ٹی آئی حکومت جو کہ ماضی میں فوجی عدالتوں کے قیام کو ایک عارضی اقدام قرار دیتی رہی اب نواز شریف کی نااہل قرار پائی حکومت کی بنائی ان عدالتوں کو تیسری بارتوسیع دلوانے کے لئے سرگرم ہے ۔ پاکستان میں مارشل لاء کے دور میں فوجی عدالتوں کے خلاف لڑنے والی وکلاء برادری میں سے معروف قانون دان اور موجودہ وزیر قانون بیرسڑ فروغ نسیم کا دوسال قبل بھی ان عدالتوں کی مدت میں توسیع پریہی موقف تھا کہ ’’ملک میں دہشت گردی کی ایک لہر تھی، امن و امان کی صورت حال مخدوش تھی، فوجی عدالتوں کے قیام کے بعد سے ان حالات میں بہت بہتری آئی ہے۔ لہٰذا اگر مشن تاحال مکمل نہیں ہوا، تو اس کو تکمیل تک پہنچایا جانا چاہیے۔‘‘

پاکستان بار کونسل نے فوجی عدالتوں کے قیام کو جب چیلنج کیا تھا تو اس وقت جسٹس ناصر الملک کی عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ فوجی عدالتوں کا قیام جوڈیشل ریویو سے مشروط ہوگا۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس فیصلے پر کبھی من وعن عمل نہیں کیا گیا اور کبھی فوجی عدالتوں کا جوڈیشل ریویو نہیں کیا گیا۔ عدالت کی جانب سے فوجی عدالتوں کا ریکارڈ بھی مانگا گیا اور وہ بھی نہیں دیا گیا اور عدلیہ اس معاملے پر خاموش رہی۔

سیاسی جماعتیں اور پارلیمان فوجی عدالتوں کے قیام کے چار برس بعد بھی عدالتی نظام میں بہتری کے لیے نئی قانون سازی سے کیوں گریزاں رہیں ؟ نظام انصاف میں دلچسپی نہ ہونے کا رجحان کیوں ترک نہیں ہو سکا؟ تاہم سیاسی حمایت نہ ہونے کی وجہ سے بظاہر فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع مشکلات کا شکار دکھائی دے رہی مگر سیاسی جماعتوں کا ٹریک ریکارڈ اور شہر اقتدار کی غلام گردشوں میں ہونے والے درپردہ ملاقاتوں کا منطقی نتجہ یہی نکلے گا کہ حکومت کا فوجی عدالتوں کی توسیع کی مخالفت پر” فریم ورک”بنائے بلاول بھٹو کی پیپلزپارٹی اور مائل با حمایت مسلم لیگ ن پر مشتمل اپوزیشن سے نظام انصاف میں تبدیلی کا مرحلہ شروع کرنے پر اتفاق ہوجائیگا- حکومت اور اپوزیشن میں نظام انصاف کی اصلاحات کے لئے دس بارہ مسودہ ہائے قانون کے بل پارلیمان میں پیش ہونگے-

اور یہی لائحہ عمل منگل کو پارلیمنٹ ہاوس میں ہونے والے اپوزیشن کے مشترکہ اجلاس کے طے کردہ تین نکاتی ایجنڈے معاشی حقوق ، انسانی حقوق اورجمہوری حقوق کو یقینی بناتے ہوئے ایک نئے چارٹر آف ڈیموکریسی کے تحت فوجی عدالتوں کی توسیع ہی نہیں نیب کو “ٹائیٹ” کرنے کا مرحلہ بھی خوش اسلوبی سے طے ہوگا جو حکومت اور اپوزیشن کا درد سر بنا ہوا۔