فیس بک پیج سے منسلک ہوں

ایوان فیلڈ ریفرنس: نواز, مریم اور صفدر کی ضمانت ختم کرنیکی درخواست مسترد

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ: سپریم کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد محمد صفدر کی ضمانت برقرار رکھتے ہوئے نیب کی درخواست خارج کردی ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی بینچ نے چيف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سماعت کی۔  جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس مشير عالم، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس مظہر عالم بھی بینچ کا حصہ تھے۔ نیب پراسکیوٹر اکرم قریشی اور شریف فیملی کی جانب سے وکیل خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل صفائی خواجہ حارث نے کہا کہ17  قانونی نکات ہیں جن پر عدالت نے بحث کا کہا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قبل ازیں اس پر بات ہو چکی ہے آج پہلے نیب کا موقف سن لیتے ہیں۔ استغاثہ کے وکیل اکرم قریشی نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا معطلی میں قانونی تضاضے کو مدنظر نہیں رکھا، کیس کے میرٹس پر بات کی گئی جو کہ ہائیکورٹ کا اختیار نہیں ہے۔ بینچ کے سربراہ نے نیب کے وکیل سے استفسار کیا کہ ہمیں سارے حقائق پتا ہیں اس سے ہٹ کر آپ کس بنیاد پر ضمانت منسوخی چاہتے ہیں، آپ بتا دیں کن اصولوں پر ضمانت منسوخ ہو سکتی ہے اور یہ بھی بتا دیں کہ کیا ہائی کورٹ کو سزا معطل کرنے کا اختیار تھا۔ وکیل اکرم قریشی نے مؤقف اپنایا کہ ضمانت کے کیس میں میرٹ کو نہیں دیکھا جا سکتا لیکن ہائی کورٹ نے میرٹ کو دیکھا، اس کیس میں ہائی کورٹ ٹرائل کورٹ کے میرٹ پر گئی جو کہ اختیارات سے تجاوز تھا، ہائی کورٹ نے خصوصی حالات کو بنیاد بنایا۔ جسٹس گلزار نے کہا کہ لیکن ضروری نہیں کہ یہ حالات واقعی ایسے ہوں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ ضمانت تو اب ہوگئی ہے بےشک غلط اصولوں پر ہوئی ہو، آپ ہمیں مطمئن کریں کہ ہم کیوں کر ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیں۔ بینچ کے رکن ، جسٹس گلزار نے استغاثہ سے استفسار کیا کہ آپ ضمانت منسوخی کن بنیادوں پر چاہ رہے ہیں؟ نیب وکیل اکرم قریشی نے مؤقف اپنایا کہ میں سپریم کورٹ کے مقدمات کی بنیاد پر ہی کہہ رہا ہوں، صرف ہارڈشپ کے اصولوں پر ضمانت ہو سکتی ہے جب کہ نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت ہارڈشپ کے اصولوں پر نہیں ہے سپریم کورٹ نے نواز شریف کی سزا معطلی کے خلاف اپیل خارج کرتے ہوئے سماعت برخاست کردی۔ گزشتہ برس ستمبر میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں شریف خاندان کی سزاؤں سے متعلق درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے احتساب عدالت کی دی گئی سزائیں معطل کر دی تھیں۔ یاد رہے کہ احتساب عدالت نے 6 جولائی 2018 کو نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں 10 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی، جسے بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے 19 ستمبر کو معطل کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا تھا۔