فیس بک پیج سے منسلک ہوں

اصغر خان کیس بند نہ کرنیکا فیصلہ

اسلام اباد پالیٹکس رپورٹ / معظم رضا تبسم : سپریم کورٹ کا اصغر خان کیس بند نہ کرنے کا فیصلہ, عدالت ایف آئی اے کے اخذ کئے نتائج سے مطمئن نہ ہوئی، ایف آئی اے کو ایک ہفتے میں جواب جمع کرانے کا حکم، سپریم کورٹ نے سیکریٹری دفاع کو نوٹس جاری کر دیا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس نے ایف آئی اے کے اصغر خان کیس بند کرنے سے متعلق ریمارکس دئیے کہ وہ عدالتی حکم کو ختم کر دیں، عدالت اس معاملے کی مزید تحقیقات کرائے گی۔ چیف جسٹس نے سلمان اکرم راجہ کو عدالت کی معاونت کا کہا، اور ان سے استفسار کیا کہ کیس کو کیسے آگے بڑھایا جائے؟ ایک فیصلہ آیا اور اب عملدرآمد کے وقت ایسا ہو رہا ہے، کچھ افراد کو اس معاملے سے علیحدہ کرنے کی تجویز تھی۔

درخواست گزار کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایاکہ کیس بند نہیں ہونا چاہیے، ایک شخص کہہ رہا ہے ہاں اس نے رقم تقسیم کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اس کے بعد پھر کیا رہ جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ اصغر خان مرحوم کی کوشش کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے، کیس بند کرنے کے معاملے میں اصغر خان فیملی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، اگر ایف آئی اے کے پاس اختیارات نہیں تو دوسرے ادارے سے تحقیقات کرالیتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جب فیصلہ آیا تو وہ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چودھری کو ملے، افتخار چودھری کو کہا کہ اتنا بڑا فیصلہ کیا کہ اب عدالت کچھ نہ کرے تو بھی یہی کافی ہے، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اصغر خان اور آسیہ بی بی کیس کے دونوں فیصلے تاریخ ساز ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ فوج کے ملوث لوگوں کے خلاف ملٹری کورٹ ٹرائل کررہی ہے سول کیخلاف الگ ٹرائل ہو رہا ہے، الگ الگ تحقیقات سے کیسے حتمی نتیجے تک پہنچیں گے، کابینہ نے کہا تھا کہ ان کا ٹرائل ملٹری کورٹ کرے گی، عدالت کو نہیں پتہ ملٹری والے کیا کارروائی کر رہے ہیں، کیوں نہ عدالت ان سے بھی رپورٹ طلب کر لے، ایسا نہ سمجھیں کہ فوج والے عدالتی دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ وہ بطور چیف جسٹس ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ سب ان کے اختیار میں ہے، کیوں نہ سیکریٹری دفاع کو طلب کر لیں، عدالت ایف آئی اے کی طرف سے اخذ کیے گئے نتائج اور وجوہات سے مطمئن نہیں، عدالت نے اصغر خان فیملی کے قانونی ورثا کی طرف سے دائر درخواست پر ایف آئی اے سے جواب طلب کر لیا۔ عدالت نے سیکریٹری دفاع کو نوٹس جاری کر دیا، عدالت نے ریمارکس دئیے کہ سیکریٹری دفاع بتائیں جن آرمی افسران کا معاملہ ان کو بھیجا گیا تھا اس کی تحقیقات کہاں تک پہنچیں، ایک ہفتے میں جواب جمع کرایا جائے، کیس پر مزید سماعت پچیس جنوری کو ہوگی-