فیس بک پیج سے منسلک ہوں

سینیٹ کمیٹی سیفران، باجوڑ،کرم اور خیبر ایجینسوں کو ریلیف پیکج میں شامل نہ کرنے پر جواب طلب

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ /معظم رضا تبسم : سینیٹ قائمہ کمیٹی سیفران نے وزیراعظم رفاٹا کی 3 ایجنسیوں باجوڑ ، کرم اور خیبر کے شامل نہ کرنے کا نوٹس لے لیا،دوہفتوں میں رپورٹ طلب کر لی۔ اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کے بعد فاٹا سیکرٹریٹ ختم کر دیا گیا ہے جبکہ فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو برقرار رکھے جائیگا۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی سفیران کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر تاج محمد آفریدی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اے ڈی پی 2018-19 ، خیبر ایجنسی کے آئی ڈی پیز ، فاٹا کی سکیموں میں مقامی و غیر مقامی ملازمین کی تعداد ، فاٹا سیکرٹریٹ کے محکمہ صحت کے ملازمین بشمول سیوریج اور ملیریا اور ڈیوٹی سے غیر حاضر ملازمین اور ان کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات اور فاٹا سیکرٹریٹ ایس این ایز کے التواء کے معاملات کے علاوہ زرعی ترقیاتی بنک اور وزارت خزانہ کی طرف سے وزیراعظم کے اعلان کردہ کسانوں کیلئے ریلیف پیکجز کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔

زرعی ترقیاتی بنک کے صدر اور وزارت خزانہ کے حکام نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم کے اعلان کے بعد اسٹیٹ بنک نے تمام بنکوں / ڈی ایف آئیز بشمول ترقیاتی بنکوں کو صوبہ خیبر پختونخواہ کی مالاکنڈ ڈویژن کے 7 اضلاع مالاکنڈ ، سوات ، بونیر ، چترال ، لوئر اور اپر دیر اور شانگلہ کیلئے ریلیف پیکج کی ہدایات جاری کی گئیں تھی ۔ا ور ریلیف پیکج میں صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے والے فاٹا کی 3 ایجنسیوں باجوڑ ، کرم اور خیبر کے شامل نہیں تھے جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کے اعلان میں فاٹا کا اعلان شامل تھا ۔اسٹیٹ بنک پاکستان نے وہ نام شامل کیوں نہیں کیے ۔ اس حوالے سے دو ہفتوں میں کمیٹی کو آگاہ کیا جائے ۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ ریلیف پیکج فاٹا کی عوام کے مسائل کو حل کرنے کیلئے تھا جو 2009 تک تھا اس کو 2011 تکبڑھانے کی قائمہ کمیٹی سفارش کرتی ہے ۔ کسانوں نے جتنے بھی قرضے لیے تھے ان کو معاف کیا جائے ۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹانے کہا کہ فاٹا کی 3 ایجنسیوں کیلئے وزیراعظم سے تصدیق کر ا لیں گے اور کمیٹی کو آگاہ کر دیا جائے گا۔

اے ڈی پی 2018-19 بارے قائمہ کمیٹی کو تفصیل سے آگاہ کیا گیا ۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ فاٹا سیکرٹریٹ کے 6 محکمے تھے فاٹا کے ضم ہونے پر سیکرٹریٹ ختم ہو چکا ہے ۔ پی این ڈی ڈیپارٹمنٹ بھی ختم ہو چکا ہے ۔ تمام محکمے اب صوبوں کے محکموں کے ساتھ کام کر رہے ہیں ۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ضم ہونے والے فاٹا کے جتنے بھی منصوبے تھے وہ متاثر نہیں ہونے چاہیں ۔

قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پہلے سکیموں کیلئے سفیران اور ایف ڈی ڈبلیو پی کے پاس جاتے تھے اب یہ ایک ہی جگہ ہوگئے ہیں جس سے معاملات میں بہتری آئے گی ۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اے ڈی پی میں کل منظور شدہ سکیمیں726 ہیں جن کا فنڈ 12240 ملین مختص ہوا تھا ۔ 141 نامنظور سکیمیں تھیں جن کا 1935 ملین تھا ۔ نئی سکیمیں 319 جن کا فنڈ 6223 ملین روپے مختص تھا ۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کل 1186 سکیموں کیلئے 24 ہزار ملین روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ الیکشن کمیشن نے اپریل2018 میں انفراسٹرکچر کی سکیموں پر پابندی عائد کی تھی اس لئے 141 سکیمیں منظور نہیں ہو سکیں تھیں۔

قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ختم نہیں کیا گیا اس کے فنگشن صوبوں کے پاس ہیں اور فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو ٹیکنیکل وجوہات کی وجہ سے ساتھ رکھا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی نے سفارش کی کہ سیکموں کیلئے متعلقہ محکموں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ساتھ صرف رکن قومی اسمبلی کے بجائے پارلیمنٹرین کو ساتھ ملایا جائے اور پورے فاٹا کی تمام سیکموں کو جاری رکھا جائے جس پر قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ضم ہونے والے فاٹا کا سروے کرایا جارہا ہے جس سے معلومات اکھٹی ہونگی اوراس کے مطابق سکیمیں شروع کی جائیں گی ۔ سینیٹر لیفٹینٹ جنرل (ر) صلاح الدین ترمذی نے کہا کہ پہلے فاٹا کیلئے علیحدہ فنڈ ز رکھے جاتے تھے اب معاملات صوبائی حکومت کے پاس ہیں ۔ فاٹا کی ویلفیئر کیلئے آسانی پیدا کی جائے جس پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹا نے کہا کہ اس حوالے سے مناسب کام کیا گیا ہے ۔ فاٹا کے تمام محکمے صوبے کے پاس ہیں مگر ان کی آزاد حیثیت رہے گی اور پورے فاٹا کیلئے ایک اکاؤنٹ قائم کیا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پی ایچ ای کیلئے جو فنڈز مختص کیے گئے ہیں وہ صرف 3 فیصد ہیں اس کو بڑھانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ جبہ ڈیم پر اگر کام کر لیا جاتا تو فاٹا اور پشاور مستفید ہو سکتے تھے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ باڑہ ڈیم کا پی سی ون واپڈا نے بنالیا ہے اور فاٹا کی ہر ایجنسی میں ایک چھوٹا ڈیم بن چکا ہے ۔ قائمہ کمیٹی کو آئی ڈی پیز کے حوالے سے تفصیلی آگاہ کیا گیا کہ 91 ہزار آئی ڈی پیز میں سے90 ہزار واپس جا چکے ہیں ۔ 1117 خاندان باقی رہ گئے ہیں15 فروری کے بعد یہ عمل دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کچھ لوگ رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے وادی تیرہ میں احتجاج کر رہے ہیں ان کی رجسٹریشن کرائی جائے اور انہیں پیکج فراہم کیے جائیں-