فیس بک پیج سے منسلک ہوں

جنگلی جانور کہنے والے سکول کے مالک کو بلائیں، توہین عدالت کی کارروائی کریں گے

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ : فیسوں میں کمی سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کا اطلاق پورے ملک پر ہوگا۔ نجی سکولوں کی اضافی فیسوں سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ،چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بڑے بڑے لوگوں نے اپنی بیگمات کو سکول کھول کر دیے ہیں،اسکول فیسوں میں کمی کے بعد ری ایکشن دکھا رہے ہیں، فیس میں کمی کے حکم پر سکولوں نے سہولتیں کم کرنا شروع کر دی ہیں، پچاسی پچاسی لاکھ ڈائریکڑوں کو دیتے ہیں،یہ پڑھے لکھے لوگوں کی سپریم کورٹ کے حکم کی عزت ہے؟۔

سپریم کورٹ نے پانچ ہزارروپے ماہانہ سے زائد فیس والے سکولوں کو 20 فیصد کمی کا حکم دیتے ہوئےایک سکول مالک کو طلب کر لیا۔

صدر سپریم کورٹ بار امان اللہ کنرانی نے بھی اپنا مؤقف عدالت کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا کہ میرے بچوں کیساتھ نارواسلوک ہوا ہے۔

سماعت کے دوران سیکرٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن نےبتایا کہ کچھ اسکول کہہ رہے ہیں 5 ہزار پر فیس کم نہیں کریں گے،ایک سکول نے خط لکھا کہ جنگلی جانور ہمارے پیچھے لگے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جنگلی جانور کہنے والے سکول کے مالک کو بھی بلائیں، پہلے ایک کو بلایا ہے توہین عدالت کی کارروائی کریں گے، عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کریں، تضحیک برداشت نہیں،وکیل تیاری پکڑ لیں آج ہی ٹرائل کریںگے۔

سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے کہا کہ ایک ڈائریکٹر کی سالانہ تنخواہ بارہ کروڑ تیس لاکھ ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایک ڈائریکٹر ساڑھے دس کروڑ سالانہ لے رہی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ہیں وہ غریب لوگ جو بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔

دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آرڈرواضح ہے5ہزارسےاوپرفیس ہے تو پوری فیس پر کمی کرنے پڑے گی،سکول اسٹاف میں کمی سےمتعلق قانونی طور پر کچھ ہو سکتا ہے؟

اس موقع پر پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے صدر زعفران الٰہی عدالت میں پیش ہوئے، انہوں نے کہا کہ آپ نے ایک ماہ کی فیس واپس کرنے کا کہا،اس سے سکول بند ہو جائیں گے۔

چیف جسٹس نے پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے صدر کو جواب میں کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ کیسے بند کر دیتے ہیں، آپ نے سکول بند کرنے ہیں تو کر دیں، اربوں روپے اسکولوں سے کما رہے ہیں۔

عدالت نے لاء اینڈ جسٹس کمیشن کو اساتذہ کو نکالے جانے اور سہولیات میں کمی کرنےکی رپورٹ دینے کی ہدایت کردی ۔

ایف بی آر ممبر آڈٹ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی جس کے مطابقایک اعشاریہ دو ارب روپے ٹیکس سکولوں نے دینا ہے، سات اسکولوں کےخلاف کارروائی چل رہی ہے جبکہ کچھ سکولوں نے حکم امتناع لے رکھے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی نشاندہی سے پہلے ایف بی آر سوتا رہتا ہے،وہ دستاویزات نکالیں جس کے مطابق لاہورکےایک سکول کی ڈائریکٹر 85 لاکھ تنخواہ لے رہی ہیں۔