فیس بک پیج سے منسلک ہوں

سی ڈی اے آپریشن کا دوسراروز، سب کا احتساب ہو گا، وزیر داخلہ کا عندیہ

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/معظم رضا تبسم : اسلام آباد انتظامیہ نے سی ڈی اے کا قائد اعظم یونیورسٹی کی زمین پر قائم غیر قا نونی تجاوزات اور تعمیرات کے خلاف آپریشن دوسرے روز بھی جاری رہا۔ وزیرمملکت برائے داخلہ شہریارآفریدی کا کہنا ہے کہ پاکستان بھرمیں حکام تجاوزات کےخلاف اہم کرداراداکررہےہیں، ہماری کسی سے کوئی ذاتی رنجش نہیں، سب کا احتساب ہوگا،کوئی قانون سےبالاترنہیں، بدقسمتی سے آج درسگاہوں پر قبضے ہو رہے ہیں،میرٹ اور قانون کے مطابق سب کام کیا جا رہا ہے،قائد اعظم یونیورسٹی کی 200 ایکڑ اراضی پر قبضہ ہے، تدریسی اراضی کو ہر حال میں واگزار کروائیں گے، 240کنال میں سے 80 کنال واگزار کروا دی ہے،60کنال زمین کی پیمائش کی جا رہی ہے، میری خواہش ہے کہ قائداعظم یونیورسٹی کو پورا حق ملے-

آپریشن کے پہلے روز سو کنال اوپن لینڈ واگزر کروا کر یونیورسٹی انتظا میہ کے حوالے کر دی گئی۔ یہ آپریشن یونیورسٹی کو الاٹ شدہ زمین پر قابض ایسے لوگوں کے خلاف کیا جا رہا ہے جو ایک عرصہ سے اس اراضی کو استعمال میں لائے ہوئے ہیں اور اپنے اثر کے باعث ان تجاوزات کے خلاف کوئی بھی کاروائی عمل میں لانے میں رکاوٹ کا باعث رہے تاہم موجودہ حکومت کی بلا امتیاز پالیسی کے تحت بلا امتیاز و تفریق سرکاری اراضی پر قائم تمام قسم کی تجاوزات ، تعمیرات اور غیر قا نونی قبضے ختم کروائے جا رہے ہیں ۔اس آپریشن میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات ، ڈائریکٹر انفورسمنت فہیم با دشاہ، سی ڈی اے کے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے تمام افسران و عملے سمیت آئی سی ٹی کے متعلقہ افسران ،سی ڈی اے کے لینڈ و بحالیات ڈائریکٹوریٹ ، ایم پی او ڈائریکٹوریٹ کے متعلقہ افسران و ملازمین کے علاوہ پولیس کی بھاری نفری نے حصہ لیا۔اس موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لیے کاؤنٹر ٹریریزم فورس اور اینٹی رائٹ فورس تعینات تھی جبکہ رینجرز کو بھی کسی بھی نا خوشگوار واقع سے نپٹنے کے لیے الرٹ رکھا گیا۔

آپریشن کے دوران تجاوزات کو مسمار کرنے کے لئے ایم پی او ڈائریکٹوریٹ کی بھاری مشینری کو بھی استعمال میں لایا گیا۔آپریشن کے پہلے دن تین عدد بڑے گھر ، 9چھوٹے گھر وں سمیت 15غیر قا نونی تعمیرات جن میں بیرونی دیواریں، کوارٹرز، لائبریری، مویشیوں کے چھپر، اور مہمان خانوں سمیت دیگر تعمیرات کو مسمار کر کے 80کنال بلٹ اپ پراپرٹی ایریا کو واگزار کروا لیا گیا۔ وا ضح رہے کہ یونیورسٹی انتظا میہ نے چیف کمشنر آئی سی ٹی اور سی ڈی اے سے درخواست کی تھی کہ یونیورسٹی کو الاٹ کردہ زمین غیر قا نونی قا بضین سے وا گزار کروائی جائے۔ آئی سی ٹی اور سی ڈی اے نے سروے آف پاکستان کی مشترکہ ڈیمارکیشن رپورٹ کی روشنی میں یہ کاروائی عمل میں لائی۔ یہ آپریشن 9جنوری تک جاری رہے گا۔