فیس بک پیج سے منسلک ہوں

اثاثے منجمند یا جے آئی ٹی رپورٹ مسترد؟ جعلی اکاؤنٹس کیس کی کل سماعت

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ /معظم رضا تبسم : جعلی اکاؤنٹس کیس میں جے آئی ٹی کی سفارش پرپاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے صدر آصف علی زرداری اور انکی ہمشیرہ فریال تالپور کی اثاثے منجمند ہوتے ہیں یا آصف علی زرداری کی درخواست پر جے آئی ٹی کی رپورٹ مسترد قرار پاتی ہے ؟ سپریم کورٹ کا بینچ کل پیرکو فریقین کی درخواستوں کی سماعت کریگا۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی درخواست میں استدعا کی کہ عدالت جے آئی ٹی رپورٹ کو مسترد کردے کیوں کہ ان پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں۔ درخواست میں آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی غلط کام نہیں کیا جس کا الزام ان پر لگایا گیا ہے، جے آئی ٹی نے گواہوں کے بیانات اور دستاویزات ہمیں فراہم نہیں کیں اور جے آئی ٹی کے الزامات سیاسی انتقام کا نتیجہ ہیں۔

درخواست گزار آصف علی زرداری نے الزام لگایا کہ دستاویزات کو دیکھے بغیر الزام لگانا آرٹیکل 10 اے کی خلاف ورزی ہے اس لیے سپریم کورٹ جے آئی ٹی کی رپورٹ کو مسترد کر دے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ لیک ہونے سے عدالت کا تقدس پامال ہوا اور رپورٹ لیک کروا کے ہمیں بدنام کیا گیا، میڈیا پر بحث کر کے لوگوں کے ذہنوں میں ہمارے خلاف زہر ڈالا گیا۔

آصف علی زرداری کی جانب سے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ رپورٹ میڈیا میں لیک ہونے کے بعد مشکوک ہو چکی جبکہ وفاقی وزرا کے رپورٹ پر بحث و مباحثے بھی اسے مشکوک بنا رہے ہیں۔ درخواست میں آصف علی زرداری کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ جے آئی ٹی نے حکومت کی آلہ کار بن کر ان پر اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی ہتک عزت کی۔

پی پی پی کے شریک چیئرمین کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی درخواست 17 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں کہا گیا کہ زرداری گروپ اور زرداری خاندان جے آئی ٹی کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور زرداری گروپ و خاندان جے آئی ٹی رپورٹ پر دفاع کا حق رکھتے ہیں۔

آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے ذریعے اور سپریم کورٹ کی مہر لگوانے کے لیے معاملہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھیجنے کی تجویز دی گئی جبکہ جے آئی ٹی کے پاس اختیار نہیں ہے کہ وہ معاملہ نیب کو بھجوانے کی تجویز دے۔ اس تجویز پر اگر عدالت فیصلہ دے تو یہ آئین کے آرٹیکل 10 اے کی خلاف ورزی ہو گی۔

آصف علی زرداری نے الزام لگایا کہ جے آئی ٹی نے زرداری گروپ اور آصف زرداری کے خلاف متعصبانہ رویہ اختیار کیا جبکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ آصف زرداری اور فریال تالپور کو ان کے ووٹرز کے سامنے نیچا دکھانے کے مترادف ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ فریال تالپور اپنے تمام اثاثے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور باقی اداروں میں جمع کروا چکی ہیں۔

واضح رہے کہ جعلی اکاؤنٹس کیس میں جے آئی ٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں ایک رپورٹ جمع کروائی گئی تھی جو بعد ازاں منظر عام پر آگئی اور نیوز چینلز پر اس حوالے سے تبصروں کا سلسلہ شروع ہوا۔

مذکورہ جے آئی ٹی رپورٹ میں سپریم کورٹ سے زرداری گروپ پرائیوٹ لمیٹڈ اور اومنی گروپ کے اثاثے منجمد کرنے کے احکامات جاری کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔جے آئی ٹی کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں ملنے والے اہم ترین شواہد اس بات کا ثبوت ہیں کہ 1981 میں 600 روپے اور 2001 میں 6 ہزار روپے کی سرمایہ کاری سے آغاز ہونے والے بالترتیب زرداری اور اومنی گروپ نے اثاثوں کو غلط قرضوں، حکومتی فنڈز، کک بیکس اور جرائم کی کارروائیوں سے اکھٹے کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’شواہد کے مطابق ان گروپس کی حوالہ ہنڈی کے ذریعے منی لانڈرنگ کی ایک تاریخ موجود ہے‘۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں عدالت عظمیٰ سے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) سے زیر تفتیش کمپنیوں کی ملکیت کو تبدیل نہ کرنے کے احکامات جاری کرنے کا بھی کہا گیا تھا۔

قبل ازیں جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ میں اپنی رپورٹ جمع کرواتے ہوئے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری، ہمشیرہ فریال تالپر اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمیت 172 افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی تجویز بھی دی تھی۔

تاہم 31 دسمبر کو عدالت نے اس کیس کی سماعت کرتے ہوئے ناموں کو ای سی ایل میں ڈالنے کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کابینہ کو اپنے 27 دسمبر کے فیصلے پر نظر ثانی کا حکم دیا تھا۔

جعلی اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات کرنیوالی جے آئی ٹی نے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے اثاثے منجمد کرنے کی سفارش کردی ہے۔ جعلی اکاؤنٹ اور منی لانڈرنگ کے کیس میں تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ میں نئی سفارشات جمع کرواتے ہوئے آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور، زرداری گروپ اور اومنی گروپ کے اثاثے منجمد کرنے کی سفارش کردی۔

جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ زرداری اور اومنی گروپس نے سرکاری فنڈز میں بے ضابطگیاں کیں، غیر قانونی اثاثے بنائے اور کمیشن بھی لیا۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق دونوں گروپس نے غیر قانونی پیسہ حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک منتقل کیا جس کے تمام شواہد بھی موجود ہیں۔

جے آئی ٹی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ دونوں گروپس اور ان کی ماتحت کمپنیوں کے اثاثے منجمد کردیے جائیں۔جے آئی ٹی کے مطابق ان اثاثوں کے بیرون ملک منتقل ہونے کا خدشہ ہے اس لیے احتساب عدالت کے فیصلے تک ان اثاثوں کو منجمد رکھا جائے، جبکہ ایس ای سی پی کو زرداری اور اومنی گروپ کے ڈائریکٹرز کی تبدیلی روکنے کا حکم بھی دیا جائے۔