فیس بک پیج سے منسلک ہوں

وفاقی کابینہ اجلاس: 172 افراد کے نام ای سی ایل جائزہ کمیٹی کو بھیجنے کا فیصلہ

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/معظم رضا تبسم: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ کراچی میں ترقی کےلئے اومنی گروپ پر بھروسا نہیں کرسکتے،کابینہ نے 172 افراد کے نام ای سی ایل جائزہ کمیٹی کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کابینہ اجلاس کے بعد پریس بریفننگ میں فواد چوہدری نے کہا کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ ای سی ایل میں ڈالے گئے ناموں کا جائزہ لیا جائے، جائزہ کمیٹی نام ای سی ایل سے نکالنے یا نہ نکالنے پر سفارشات دے گی جو کابینہ کے آیندہ اجلاس میں زیر غور لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر کوئی نام وزارت داخلہ کے ذریعے آئے گا،اسے ای سی ایل میں ڈالیں گے۔

فواد چوہدری نے یہ بھی کہا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ملک سے فرار ہونے کےلئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنا جہاز دیا اور وہ واپس نہیں آئے۔ان کا کہنا تھا کہ ہونا یہ چاہیے تھاکہ سپریم کورٹ مجرم کو فرار کرانے پر شاہد خاقان عباسی کو نوٹس دیتی مگر ایسا نہیں ہوا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ کراچی میں ترقی کے لیے اومنی گروپ پر بھروسا نہیں کرسکتے، سندھ کے 2 ہزار ارب روپے دبئی اور لندن میں خرچ ہوئے۔فواد چوہدری نے کہا کہ 2 ہزار ارب روپے محلات خریدنے اور پرائیوٹ جہازوں کے کرایوں پر خرچ ہوئے،تحریک چلانے کی وہ لوگ باتیں کررہے ہیں جو کمرشل فلائٹ پر لاہور سے کراچی نہیں آتے۔ان کاکہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اپنے کیسز پر توجہ دے، دھمکیاں نہ دے، پی پی کے چار پانچ لوگوں کو نہیں پتا کہ کیا ہوا، باقی سندھ کے بچے بچے کو پتا ہے کہ پیسا کہاں خرچ ہوا۔وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ گورنر سندھ عمران اسماعیل کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی ہے، یہ کمیٹی وفاق کا پیسا کراچی سمیت سندھ میں خرچ کرنے کی سفارشات دے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نےکہا کہ وفاقی کابینہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں3 ججز کے اضافے کا بھی فیصلہ کیا ہے جبکہ وزارت شماریات مہنگائی کی صورتحال پر ہر ہفتے کابینہ کو بریفنگ دے دی۔