فیس بک پیج سے منسلک ہوں

وفاقی وزراء کا دورہ نیو اسلام آباد ائیرپورٹ: مسائل ،مہنگی غیرمعیاری تعمیر بارے پندرہ روز میں رپورٹ طلب

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/معظم رضا تبسم: وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر تارکین وطن کو ہوائی اڈوں پر سہولیات کے جائزہ کیلئے وفاقی وزراء چوہدری فواد حسین، غلام سرور خان، محمد میاں سومرو، عامر محمود کیانی، وزیر مملکت شہریار خان آفریدی، وزیراعظم کے مشیر ذوالفقار علی بخاری اور ملک امین اسلم پر مشتمل وفد کا اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ، سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے نیو اسلام آباد ایئرپورٹ منصوبہ کے بارے میں انہیں بریفنگ دی گئی،وزرائ نے نیو اسلام آباد ایئرپورٹ منصوبہ کی لاگت میں اضافہ اور ایئرپورٹ کی تعمیر میں غیر معیاری کام کے ذمہ داروں کی تفصیلات 15 روز میں طلب کر لیں، وزراءنے اسلام آباد ایئرپورٹ پر افرادی قوت کی کمی کی تفصیلات بھی مانگ لیں-
وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر تارکین وطن کو ہوائی اڈوں پر سہولیات کے جائزہ کیلئے وفاقی وزراءکے وفد نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ کیا۔ دورہ کے دوران انہیں سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے نیو اسلام آباد ایئرپورٹ منصوبہ کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ وزراءنے نیو اسلام آباد ایئرپورٹ منصوبہ کی لاگت میں اضافہ اور ایئرپورٹ کی تعمیر میں غیر معیاری کام کے ذمہ داروں کی تفصیلات 15 روز میں طلب کر لیں۔ وزراءنے اسلام آباد ایئرپورٹ پر افرادی قوت کی کمی کی تفصیلات بھی مانگ لیں جبکہ ایئرپورٹ میں بیت الخلاءکی صفائی یقینی بنانے، پاکستانی تارکین وطن کیلئے غیر رجسٹرڈ موبائل رجسٹرڈ کرانے کیلئے کا?نٹرز کی تعداد بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ وفاقی وزراءجن میں وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین، وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل غلام سرور خان، وفاقی وزیر نجکاری و ہوا بازی محمد میاں سومرو، وفاقی وزیر برائے قومی صحت عامر محمود کیانی، وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی، وزیراعظم کے مشیر ذوالفقار علی بخاری اور وزیراعظم کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم شامل تھے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے وفاقی وزراءکو بتایا گیا کہ نیو اسلام آباد ایئرپورٹ پر افرادی قوت کی کمی کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے، انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے سول ایوی ایشن اتھارٹی حکام سے استفسار کیا کہ بیرون ملک سے کئی گھنٹے کی مسافت طے کرکے یہاں آنے والے تارکین وطن کو غیر رجسٹرڈ موبائل کی رجسٹریشن کیلئے قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے، اس کا کوئی حل نکالا جائے، ایئرپورٹ پر بیت الخلاءکی صفائی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ حکومت کو فیتے کاٹنے میں زیادہ دلچسپی تھی۔ وفاقی وزیر برائے نجکاری محمد میاں سومرو نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی واضح ہدایات ہیں کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دی جائیں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا کہ پہلی بار کسٹم، اے این ایف اور ایف آئی اے حکام بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے سامان کی ایک ساتھ چیکنگ کرتے ہیں جو قابل تحسین ہے، ان کا آپس میں ٹیم ورک اور روزانہ کی بنیاد پر ان کی ملاقاتیں ہونی چاہئیں، ایئرپورٹ جدید سہولیات سے مزین ہونا چاہئے، ایئرپورٹس پر ایسے سکینرز نصب کئے جائیں کہ ان میں جونہی کسی غیر ملکی کا پاسپورٹ سکین ہو تو خود بخود اس کی زبان میں ہی اسے خوش آمدید کہا جائے، دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان کیلئے بھی کوئی منفرد سلوگن متعارف کرایا جائے، انٹرن شپ پر مختلف تعلیمی اداروں کے طالب علموں کو رکھا جائے تاکہ وہ بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کا خیرمقدم اور انہیں رہنمائی فراہم کر سکیں۔ محمد میاں سومرو نے کہا کہ ایئرپورٹ کے احاطہ میں عمرہ کی سعادت یا محنت مزدوری کیلئے جانے والوں کو سستی اشیائ خوردونوش کی فراہمی کا بھی انتظام ہونا چاہئے۔ وزیر صحت عامر محمود کیانی نے کہا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر بنایا جانے والا ٹراما سنٹر 40 بستروں پر مشتمل ہے اس کا انتظام وزارت صحت کو دیا جائے وہ بہتر انداز میں اسے چلا سکتی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر ذوالفقار علی بخاری نے تجویز دی کہ غیر رجسٹرڈ موبائل کی رجسٹریشن کیلئے آن لائن سسٹم متعارف کرایا جائے تاکہ بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی مشکلات کم ہو سکیں۔ وفاقی وزیر برائے پٹرولیم غلام سرور خان نے کہا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ کے مضافاتی علاقوں سے سیکشن 4 کے تحت لوگوں کی اراضی کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کی گئی ہے، سول ایوی ایشن اتھارٹی فیصلہ کرے اس نے ان سے یہ زمین خریدنی ہے یا نہیں جبکہ اسلام آباد ایئرپورٹ کو پانی کی فراہمی کا مستقل حل نکالا جائے، جن دو ڈیموں سے پانی فراہم کیا جا رہا ہے ان سے پانچ سال سے زیادہ پانی کی فراہمی ممکن نہیں ہے، ان ڈیمز کے متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ کا انفراسٹرکچر غیر معیاری ہے، جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا گیا تو پی سی ون کے مطابق اس کی لاگت 38 ارب روپے کے لگ بھگ تھی تاہم اس کی تکمیل 2018ءمیں کئی گنا زیادہ لاگت سے ہوئی اور تمام انفراسٹرکچر بھی غیر معیاری ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا کہ نیب اس معاملہ کی تحقیقات کر رہا ہے، ایف آئی اے نے بھی اس کی تحقیقات کی ہیں، نیب اپنا کام کرتا رہے گا تاہم ایف آئی اے کی فائنڈنگ نکالی جائیں اور آئندہ اجلاس میں یہ رپورٹ فراہم کی جائے تاکہ اس کو وزیراعظم کے سامنے پیش کیا جائے۔ وزراءنے سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ایئر پورٹ انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی غیر معیاری تعمیر کے ذمہ داروں کی تفصیلات سے 15 دنوں میں آگاہ کرے، اس وقت بھی غیر معیاری کام ہو رہا ہے جبکہ ایئرپورٹ پر افرادی قوت کی کمی کی تفصیلات بھی فراہم کی جائے

 وزراءنے سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ایئر پورٹ انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی غیر معیاری تعمیر کے ذمہ داروں کی تفصیلات سے 15 دنوں میں آگاہ کرے، اس وقت بھی غیر معیاری کام ہو رہا ہے جبکہ ایئرپورٹ پر افرادی قوت کی کمی کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں، سول ایوی ایشن اتھارٹی کے باقاعدگی سے اجلاس منعقد کئے جائیں، مسافروں کی سہولت کیلئے موبائل فون رجسٹریشن کاﺅنٹرز کی تعداد بڑھائی جائے، کسٹم، اے ایس ایف اور ایف آئی اے کے اعلیٰ حکام سول ایوی ایشن اتھارٹی سے تعاون کریں، بیت الخلاءکی صفائی یقینی بنائی جائے۔ اس موقع پر سول ایوی ایشن اتھارٹی، کسٹم اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ حکام نے بتایا کہ بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کو ایک ڈیوٹی فری موبائل رجسٹرڈ کرانے کی سہولت دی گئی ہے، ایک رجسٹریشن پر ایک سے ڈیڑھ منٹ لگتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ جی نائن میں کسٹم ویئر ہاﺅس میں بھی یہ سہولت دی گئی ہے اور مسافروں وہاں پر 15 دنوں تک ڈیوٹی فری موبائل کی رجسٹریشن کرا سکتے ہیں، اب تک 5565 موبائل سیٹس رجسٹرڈ کئے گئے ہیں، اس عمل میں مسافروں کو مشکلات بھی پیش آتی ہیں اور وہ اکثر غصہ بھی ہوتے ہیں، ایئرپورٹ پر تین کاﺅنٹرز کام کر رہے ہیں، اگر جگہ مل جائے تو مزید دو کاﺅنٹر بنائے جا سکتے ہیں اس پر وزرائ نے متعلقہ حکام کو اضافی جگہ فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ وزراءکو بتایا گیا کہ ایئرپورٹ پر عملہ کی کمی ہے، انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے اپنی وائرلیس ڈیوائس استعمال کر رہے ہیں، 98 ممالک سے ایئر سروسز کے معاہدے ہیں، پی آئی اے کی گرتی ہوئی ساکھ کی بڑی وجہ اوپن سکائی پالیسی ہے۔ اس پالیسی کو فیئر سکائی پالیسی کی طرف لے جانے کیلئے فریقین سے مشاورت جاری ہے۔ وزراءنے حکام کو ہدایت کی کہ ڈیوٹی کے دوران عملہ پر موبائل فون کے غیر ضروری استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا کہ انتہائی مطلوب افراد کا ڈیٹا ہونا چاہئے تاکہ بھیس بدل کر کوئی باہر نہ جا سکے، کیمرے اس قدر مستند ہونے چاہئیں کہ ایسے افراد کی شناخت ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نظام متعارف ہو چکا ہے کہ اگر کوئی غیر متعلقہ آدمی کسی حساس مقام پر 5 میٹر کے اندر گن نکالتا ہے تو کیمرے خطرے کے الارم بجانا شروع کر دیتے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ جو غیر قانونی ٹیکسی ڈرائیور ایئرپورٹ کے احاطہ میں تنگ کرتے ہیں انہیں پولیس کے حوالہ کیا جاتا ہے۔ وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ ٹیکسی کیلئے کوپن سسٹم متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ حکام نے بتایا کہ گذشتہ حکومت کے احکامات تھے کہ بڑے ایئرپورٹس کو آﺅٹ سورس کیا جائے، پھر اسلام آباد ایئرپورٹ کو آﺅٹ سورس کرنے کا حکم دیا گیا تاہم یہ کام نہ ہو سکا، یہ کابینہ کا فیصلہ تھا اور کابینہ ہی اس کو ختم کر سکتی ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے کہا کہ گذشتہ حکومت کو فیتے کاٹنے میں زیادہ دلچسپی تھی۔