فیس بک پیج سے منسلک ہوں

پی ٹی سی ایل پینشنرز کا معاملہ ، سینیٹ کمیٹی نے16 جنوری کو خصوصی اجلاس بلا لیا

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/معظم رضا تبسم: سینیٹ کی ذیلی کمیٹی نے معاملہ حل نہ ہونے کی صورت میں ذمہ داروں کیخلاف تحریک استحقاق لانے کا عندیہ دیدیا۔ بوڑھے پینشنرز کا سامنا کرتے شرمندگی ہوتی، سولہ جنوری کو معاملہ حل کرنے کے لئے خصوصی اجلاس بلا لیا۔
سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کا اجلاس سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں 28نومبر کو کمیٹی میں پی ٹی سی ایل کے پنشنرز کے واجبات کی ادائیگی کے حوالے سے جاری کردہ ہدایات اور سفارشات پر تفصیلی بحث کے ساتھ ساتھ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے پی ٹی سی ایل اور نجکاری ڈویژن کے درمیان خریدوفروخت کے معاہدے کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ نجکاری کا عمل 2004-2005 میں شروع ہوا جس میں پی ٹی سی ایل کے26 فیصد بی کلاس شیئرز کی نیلامی کا اشتہار دیا گیا۔ جون 2005 تک کل 12میں سے 3 کمپنیز نے فائنل بڈنگ کے مراحل طے کر سکیں جن میں سے میسر ایتی سلاٹ کو یہ کنٹریکٹ ایوارڈ ہوا۔ کمیٹی کے استفسار پر بتایا گیا کہ پی ٹی سی ایل کے3,384املاک تھیں ان میں سے کچھ ادارے کے نام نہیں تھے جنہیں بعد میں پوری جانچ پڑتال کے ساتھ ادارے کے نام کروایا گیا۔ اب ان املاک کی تعداد 3248 ہے۔ 2005 سے اب تک اثاثہ جات کا معاملہ زیر التوا رہا۔ 2018 میں حکومت نے ان معاملات کا ازسرنو جائزہ لیتے ہوئے اسے جلد ازجلد نمٹانے کی ہدایات کی ہیں۔ رواں سال جنوری میں اس پر واضح صورتحال کے ساتھ کمیٹی کو آگاہ کیا جائے گا۔ ممبران کمیٹی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایمپلائز ٹرسٹ کے معاملے پر ادارے کی جانب سے غیرملکی تسلی بخش جواب پر نہایت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کمیٹی میں سو فیصد حاضری معاملے کے نہایت اہم ہونے کا ثبوت ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ ٹرسٹ بنانے کا مقصد لوگوں کی فلاح وبہبود ہوتا ہے نہ کہ کمپنی کا نفع نقصان جانچنا ہے۔ چیئرپرسن کمیٹی نے کہا بوڑھے پنشنرز کا سامنا کرتے ہمیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کمیٹی کی طرف سے دی جانے والے گزارشات کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ اگر یہی صورتحال رہی تو پوری کمیٹی ذمہ داران کے خلاف تحریک استحقاق لے کر آئے گی۔ کمیٹی نے اس معاملہ پر 16جنوری کو دوبارہ کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا۔