فیس بک پیج سے منسلک ہوں

سینیٹ کمیٹی خزانہ کا اجلاس: بنک ٹریڈ یوینیز پرعائد پابندی کے خاتمے کا بل منظور

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/معظم رضا تبسم: سینیٹ قائمہ کمیٹی براے خزانہ نے بنکوں میں ٹریڈ یونین پر عائد پابندی کے خاتمے کے لیے بنکنگ کمپنیز ترمیمی بل 2018 کی کمیٹی نے منظوری دے دی جبکہ سینٹر قراۃ العین مری کی جانب سے پیش کیے گئے میٹرنٹی اور پیٹرنٹی رخصت بل پر وزارت قانون کے تعاون سے بل میں مزید بہتری لانے کے لئے اس بل پر مزید بحث کو موخر کر دیا گیا۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی براے خزانہ کا اجلاس سینٹر فاروق ایچ نائیک کیسربراہی میں بدھ کو پارلیمنٹ میں ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں سینٹر میاں رضاربانی کے بنکوں میں ٹریڈ یونین پر عائد پابندی کے خاتمے کے لیے بنکنگ کمپنیز ترمیمی بل 2018 پرکمیٹی اراکین نے غور کیا گیا۔ اجلاس میں سینٹر بیرسٹر محمد علی سیف کی جانب سے وکلاء اور سیاستدانوں کو بنک اکاؤنٹ کھولنے میں درپیش مشکلات پر سٹیٹ بنک سے اس حوالے سے تفصیلی ایس او پی مرتب کرنے کی تجویز دی۔ سینٹر میاں رضاربانی نے کہا کہ بنکوں میں ٹریڈ یونین کی سرگرمیوں پر پابندی ہے جو کہ آئین کے آرٹیکل 17سے متصادم ہے جس پر ڈپٹی گورنر سٹیٹ بنک نے کمیٹی کو بتایا کہ بنک کے اندر یونین کی سرگرمیوں، اسلحہ بنک کے اندر لے جانے، بنک کے ٹیلی فون کا غلط استعمال اور خوف و ہراس پھیلانے کی ممانعت ہے۔ وزارت قانون نے بھی اس حوالے سے اپنا تفصیلی موقف پیش کیا۔ جس پر کمیٹی نے متفقہ طور پر اس ترمیمی بل کی منظوری دے دی۔سینٹر قراۃالعین نے بتایا کہ سرکاری و نجی اداروں میں خواتین کو میٹرنٹی رخصت میں مشکلات درپیش ہیں۔ لہذا میٹرنٹی رخصت کو تین سے بڑھا کر چھ ماہ کیا جائے اور سرکاری و نجی اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ خواتین کو اس سہولت کو فراہم کریں جس پر کمیٹی نے وزارت کو ہدایات دیں کہ اراکین کمیٹی کی تجاویز کی روشنی میں بل میں مزید بہتری لائی جائے۔ کمیٹی نے بل پر مزید بحث اگلے اجلاس تک موخر کر دی۔