فیس بک پیج سے منسلک ہوں

وزیراعظم , وفاقی وصوبائی وزراء کے نام ای سی ایل میں ڈالیں- فرحت اللہ بابر کا وزیر داخلہ کو خط

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ / معظم رضا تبسم : پاکستان پیپلزپارٹی نے مطالبہ کر دیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ان وفاقی اور صوبائی وزراءاور دیگر پارٹی لیڈران کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیںجن کے خلاف کرپشن کے الزام میں کوئی تحقیقات ہو رہی ہیں یا ان کے خلاف ریفرنس دائر کئے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے جن لوگوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ان میں وزیراعظم عمران خان نیازی، وفاقی وزراءپرویز خٹک، فہمیدہ مرزا، مقبول صدیقی اور زبیدہ جلال، کے پی کے وزیراعلیٰ محمود خان، کے پی کے سینئر وزیر عاطف خان، پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان اور پی ٹی آئی کے لیڈر جہانگیر ترین کے نام شامل ہیں۔ یہ مطالبہ پاکستان پیپلزپارٹی پالیمنٹیرینز کے سیکریٹری جنرل فرحت اللہ بابر نے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کے نام لکھے گئے ایک خط میں کیا۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ اگر صرف جے آئی ٹی رپورٹس کی بنیاد پر ای سی ایل پر نام ڈالے جا سکتے ہیں تو اسی اصول کے تحت پی ٹی آئی کے لیڈران کے نام بھی ای سی ایل پر ڈالے جائیں اور یہی اصول سب پر برابری کی بنیاد پر لاگو کیا جائے اور اس میں کوئی امتیاز نہ برتا جائے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ وزیر اطلاعات نے 27دسمبر کو اعلان کیا کہ سابق صدر آصف علی زرداری، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، رکن قومی اسمبلی فریال تالپور اور سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل پر ڈال دیا گیا ہے۔ اعلان کے مطابق جے آئی ٹی رپورٹ میں دئیے گئے تمام 172افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ کابینہ نے کیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ یہ بات انتہائی اہم ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے نوڈیرو میں اجلاس جو کہ محترمہ بینظیر بھٹوکے گیارہویں یوم شہادت کے موقع پر منعقد کیا گیا تھا کے چند گھنٹوں بعد ہی کابینہ نہ یہ فیصلہ کیا۔ سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ ان تمام افراد کے خلاف مساویانہ احتساب کیا جائے جن کی تنخواہیں قومی خزانے سے دی جاتی ہیں اور اس کے علاوہ موجودہ سیاسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے سی ای سی کے اجلاس نے چند اور اہم فیصلے کئے تھے۔ سی ای سی کے اجلاس کے فوراً بعد پاکستان پیپلزپارٹی کے لیڈروں کے نام ای سی ایل میں ڈالنا سیاسی انتقام کی واضح مثال ہے۔ یہ حقیقت کہ 172افراد کی فہرست میں کچھ لوگوں کے پورے نام بھی نہیں لکھے گئے ظاہر کرتی ہے کہ یہ نام ای سی ایل پر جلد بازی میں ڈالے گئے۔ ای سی ایل کی پالیسی میں ایک نیا عنصر بھی شامل کیا گیا ہے کہ صرف استغاثہ کے یکطرفہ بیان کئی بنیاد پر ای سی ایل میں نام ڈالا جا سکتا ہے جبکہ نہ کوئی ریفرنس دائر کیا گیا، نہ کوئی مقدمہ ہوا اور نہ ہی ملزمان سے کوئی سوال کیا گیا۔ اس لئے پیپلزپارٹی یہ توقع کرتی ہے کہ سب کے ساتھ مساوی سلوک ہوگا اور پی ٹی آئی کے جن لیڈران کے نام خط میں دئیے گئے ہیں ان کے نام بھی فوری طور پر ای سی ایل میں ڈالے جائیں گے۔