فیس بک پیج سے منسلک ہوں

پیپلزپارٹی اجلاس :یکطرفہ احتساب نامنظور،فوجی عدالتوں کی مدت نہ بڑھانے کا فیصلہ

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/معظم رضا تبسم: شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 11ویں یوم شہادت کی برسی کے موقع پر نوڈیرو ہاﺅس گڑحی خدابخش میں پی پی پی اورپیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور فیڈرل کونسل کا مشترکہ اجلاس ہوا جس کی صدارت چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری اور صدر پی پی پی پارلیمنٹیرین آصف علی زرداری نے مشترکہ طور پر کی۔ اجلاس میں مرکزی اراکین مجلس عاملہ ،صوبائی صدور، صدر جنوبی پنجاب، صدر اے جے کے، صدرجی بی، صدرفاٹا اور خصوصی مدعوئین نے شرکت کی۔اجلاس میں پارٹی کی چیئرپرسن شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو ان کی 11ویں شہادت کی برسی کے موقع پر ان کی جمہوریت کے لئے قربانی اور محروم طبقات کے حقوق کے لئے لازوال جدوجہد کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اجلاس نے قرار دیا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے اقتدار اور زندگی کے خاتمے کے باوجود ان کی سوچ و فکر کا خاتمہ نہیں کیا جا سکا۔ اور یہی سوچ و فکر بھٹوازم ہے۔ جو پاکستان میں جمہوری شعور اور عوامی حقوق کی جنگ میں ایک اہم ہتھیار ہے۔
اجلاس میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو، شہید ذوالفقار علی بھٹو اور تمام شہدانِ جمہوریت کے لئے دعا کی گئی۔ اجلاس میں متفقہ طور پر قراردادیں منظورکی گئِیں۔
1۔ احتساب
یہ اجلاس ملک میں کرپشن کے نام پر یکطرفہ سیاسی احتساب کو یکسر مسترد کرتا ہے۔اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ صرف اپوزیشن کے ارکان کو احتساب کے نام پرجیل میں ڈالا جا رہا ہے جبکہ حکومتی اراکین اور خود وزیراعظم کے اپنے خاندان کے افراد کو واضح ثبوت موجود ہونے کے باوجود احتساب نہیں کیا جا رہا۔
اجلاس نے خبردار کیا کہ اگر احتساب کے نام پر پارٹی اور اپوزیشن قیادت کو ہراساں کرنے کی مہم جاری رکھی گئی تو حکومت اس کے نتائج کی خود ذمہ دار ہوگی اور اس سلسلے میں اجلاس نے تمام پارٹی تنظیموں کو ہدایت جاری کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ تمام افراد جو عوام کے ٹیکس سے تنخواہ وصول کرتے ہیں ان کو یکساں قانون کے تحت احتساب کے دائرے میں لانے کے لئے قانون سازی کی جائے۔
2۔ NAP
اجلاس نے NAP کے کئی پہلوﺅں پر کوئی عملدرآمد نہ کرنے، دہشتگرد تنظیموں کو mainstream کرنے کی پس پردہ کوششوں اور دہشتگردوں سے لڑنے کی بجائے ان کو خوش رکھنے کی پالیسی پر گہری تشویش کا آطہار کیا اور اسے ملک کی بقا اور سلامتی کے لئے انتہائی خطرناک قرار دیا۔ اجلاس نے قرار دیا کہ فوجی عدالتوں کی دوسری مدت کے خاتمے کے بعد ان کے قیام میں توسیع ہرگز نہیں کی جائے گی اور مطالبہ کیا کہ فاٹا اور KPK میں قائم کئے گئے Internment Centres پر لاگو خصوصی قوانین کا خاتمہ کیا جائے اور ان پر ملک کے دیگر جیلوں کے قوانین کا نفاذ کیا جائے۔
3۔ انضمام
اجلاس نے سابق قبائلی علاقہ جات کے KPK میں انضمام میں پیش رفت کو انتہائی مایوس کن قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ فاٹا میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں اور لوکل باڈیز کے انتخابات جلد از جلد کرائے جائیں اور Administration of FATA Regulation 2018 کو بنیادی انسانی حقوق سے ہم ااہنگ کرنے اور عوامی نمائندوں کو بااختیار بنانے کے لئے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے۔ فاٹا کے اندر آئین اور قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کے لئے پرامن جدوجہد کرنے والوں کو غدار اور ملک دشمن قرار دینے کی بجائے ان سے بات چیت کی جائے۔
4۔ 2018ءانتخابات
اجلاس میں پارٹی کی طرف سے قائم کردہ کمیٹی کی 2018ءکے انتخابات کے بارے میں رپورٹ کا بھی جائزہ لیا اور قرار دیا کہ یہ انتخابات جعلی تھے۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ پارلیمانی کمیشن اس امر کا جلد از جلد جائزہ لے کہ سکیورٹی اداروں کے افراد کو پولنگ سٹیشن کے اندر تک رسائی، اور 95% فارم45 پر متعلقہ پولنگ ایجنٹوں کے دستخط نہ ہونے کے پیچھے کونسے عوام کارفرما تھے اور اس کے ذمہ داران کو بے نقاب کرے اور انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
5۔ مالی بحران
اجلاس نے ملک میں حالیہ سنگین مالی بحران، روپے کی قدر میں کمی، افراط زر اور مہنگائی میں اضافہا ور بینکوں کی طرف سے قرضوں پر شرح منافع میں اضافہ پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ حکومت اس بحران سے نکلنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ دوسرے ممالک سے حاصل کردہ قرضوں کی تفصیلات اور شرائط پارلیمان کے سامنے پیش کی جائیں۔
6۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ Charter of Democracyمیں طے شدہ ایک Truth & Reconciliationکمیشن قائم کیا جائے تاکہ تاریخ کو درست کرکے ملک کے اندر سیاسی اور سماجی تلخی کو کم کیا جا سکے۔ ایک بااختیار پارلیمانی کمیٹی برائے National Security بنائی جائے اور شہید ذوالفقار علی بھٹو پر عدالتی قتل کے فیصلے کے خلاف 2011ءمیں صدر پاکستان کی طرف دارئر کردہ سپریم کورٹمیں ریفرنس کی سماعت اور جلد فیصلہ کیا جائے۔
7۔ اجلاس نے 18ویں آئینی ترمیم کو لپیٹنے اور NFC ایوارڈ کے فارمولے کو تبدیل کرنے کی اعلانیہ اور غیراعلانیہ پس پردہ کوششوں کی مذمت کی اور خبردار کیا کہ ایسی کوششوں سے فیڈریشن پر کاری ضرب لگے گی۔ اجلاس نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ ادارے اپنے اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے ایک دوسرے کے دائرہ اختیار میں مداخلت کر رہے ہیں اور اسے فیڈریشن کی نفی اور صدارتی نظام کی طرف بڑھتا ہوا قدم قرار دیا۔ اجلاس نے مطالبہ کیاکہ اائین کے آرٹیکل 184-3 کے تحت اعلیٰ عدلیہ کے سوموٹو اختیار کو باضابطہ بنانے کے لئے قانون سازی کی جائے اور ایک Constitution کورٹ کا قیام عمل میں لایا جائے۔
8۔ کشمیر
اجلاس نے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی اور سنگین خلاف ورزیوں کی بھرپور مذمت کی اور کشمیری عوام کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
9۔ اجلاس نے GB کے لوگوں کو حقوق دینے میں کابینہ کی حالیہ ناکامی کا نوٹس لیا اور اس کی مذمت کی۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ GB کے عوام کو ان کے آئینی اور بنیادی انسانی حقوق دئیے جائیں اور CPEC میں تمام علاقوں بالخصوص بلوچستان اور فاٹا کے عوام کے مفادات کا تحفظ کیا جائے۔

10۔ اجلاس نے علیحدہ جنوبی پنجاب کا صوبہ جلد از جلد بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ حکومت اپنے کئے گئے وعدوں کے برخلاف اس مطالبے سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔ اجلاس نے قرار دیا کہ 2013ءمیں سینیٹ نے جنوبی پنجاب کا علیحدہ صوبہ بنانے کے لئے آئینی ترمیمی بل دو تہائی اکثریت سے پاس کیا تھا۔ حکومت اپنے کئے گئے وعدوں کا لحاظ رکھتے ہوئے پارلیمانی کمیشن کی رپورٹ اور سینیٹ سے منظور کردہ آئینی ترمیمی بل کی روشنی میں جلد از جلد علیحدہ صوبہ پنجاب کا قیام عمل میں لائے۔
11۔ اجلاس نے چیئرمین PPP بلاول بھٹو زرداری اور صدر PPPP آصف علی زرداری کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پارٹی کارکن ان کی دئی ہوئی کال پر ظلم و جبر کے خلاف اور بنیادی حقوق کی جنگ کے لئے میدان میں اترنے کے لئے تیار رہیں۔
12۔ اجلاس نے سندھ کے وزیراعلی سید مراد علی شاہ پر بھی مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔