فیس بک پیج سے منسلک ہوں

نواز شریف کو ایک ریفرنس میں سزا دوسرے میں بریت کی کلین چٹ

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ: احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو ایک نیب ریفرنس میں بری اور دوسرے میں سزا سنادی۔ العزیزیہ ریفرنس میں  7 سال قید اور ڈھائی کروڑ  ڈالرز جرمانے کے علاوہ جائیداد ضبطگی کا حکم سنایا گیا جبکہ فیلگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کو کلین چٹ دیدی گئی، عدالت نے اڈیالہ جیل کے بجائے کوٹ لکھپت جیل لاہور منتقل کرنے کی استدعا منظور کرلی، تاہم وہ آج رات اڈیالہ جیل میں گزاریں گے-

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے العزیزیہ اسٹیل اورفلیگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ سنایا جو 19 دسمبر کو فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا گیا تھا۔ احتساب عدالت نے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سیکشن 9 اے 5 کے تحت مجرم قرار دیا۔

مختصر فیصلے میں احتساب عدالت نے قرار دیا کہ  کہ فلیگ شپ ریفرنس میں کیس نہیں بنتا، اس لیے نواز شریف کو بری کیا جا رہا ہے۔ العزیزیہ ریفرنس میں  ٹھوس ثبوت موجود ہیں جن کی بنا پر نواز شریف کو 7 سال قید اور ڈھائی کروڑ ڈالرز جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے انہیں اڈیالہ جیل کے بجائے لاہور منتقل کرنے کی درخواست  پر احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے  فیصلہ محفوط کرلیا جو کچھ دیر بعد سناتے ہوئے درخواست منظور کرلی گئی۔ اس دوران  کمرہ عدالت میں موجود پولیس اہلکاروں نے نواز شریف کو حراست میں لے لیا۔

نواز شریف نے عدالتی فیصلے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا،  نواز شریف نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں اڈایالہ کے بجائے براہ راست کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا جائے- عدالت نے ان کی درخواست منظور کرلی_ فیصلے کے بعد نوازشریف کو گرفتار کرکے  اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا جہاں وہ رات گزاریں گے اور کل انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا جائیگا-