فیس بک پیج سے منسلک ہوں

بے نامی اکاؤنٹ کیس :پیپلز پارٹی نے سپریم کورٹ میں دی گئی جے آئی ٹی رپورٹ مسترد کر دی

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/ معظم رضاتبسم: پاکستان پیپلزپارٹی رہنماووں نے بےنامی اکاؤنٹس کیس میں جے آئی ٹی کی طرف سے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف بنی تھی اور اب آصف علی زرداری کے خلاف بنائی گئی ہے‘ جب تک الزامات ثابت نہیں ہوتے تب تک آصف علی زرداری اور فریال تالپور بے گناہ ہیں‘ پیپلزپارٹی 26 تاریخ کو سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ میں بڑے فیصلے کرے

ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر بخاری‘ فرحت اللہ بابر, سسی پلیجو اور سینیٹر شیری رحمن نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔

پی پی پی سیکرٹری جنرل سید نیئر حسین بخاری نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ ہمارے سیاسی مخالفت نے بنائی ہے پہلے دن سے بشیر میمن ہمارے ساتھ اپنے دل میں انا رکھتے تھے ۔ جے آئی ٹی رپورٹ 1977 ءمیں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف بنی تھی اور اب آصف علی زرداری کے خلاف جے آئی ٹی رپورٹ بنائی گئی ہے ۔ پہلی مرتبہ سلائیڈز کے ذریعے سپریم کورٹ کو بریفنگ دی گئی ہے ہمیں ابھی تک رپورٹ کی مصدقہ کاپی نہیں ملی۔ جب تک الزامات ثابت نہیں ہوتے تب تک آصف علی زرداری اور فریال تالپور بے گناہ ہیں۔ پارک لین کمپنی کی جب بنیاد رکھی گئی تب بلاول بھٹو کی عمر ایک سال تھی۔ پیپلزپارٹی ریفرنسز سے گھبرانے والی نہیں ہے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف بھی بے بنیاد چالان بنایا گیا تھا انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 26 تاریخ کو ہوگا جس میں بڑے فیصلے کئے جائیں گے۔

پی پی پی پارلیمنٹیرین کے سیکرٹری جنرل فرحت اللہ بابر نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں پہلی مرتبہ ایسا نہیں ہوا ہے پہلے یہ بھی الزام لگایا گیا تھا کہ ایک شخص کی ٹانگ میں بم لگا کر بھیجا گیا ہے۔ عدالتوں میں جس طریقے سے شہید بے نظیر بھٹو کو سزا ہوئی تھی او ربعد میں جب شواہد سامنے آئے کہ سپریم کورٹ نے کہا کہ اس میں جانبداری کا مظاہرہ کیا گیا ہے اور اس پر اعلیٰ عدلیہ کے دو ججز کو گھر جانا پڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم گھبرانے والے نہیں ہیں وزیراعظم کے معاون خصوصی ایف آئی اے میں کیا کررہے تھے جب چند گھنٹوں بعد جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرنا تھی۔ احتساب سب کا ہونا چاہیے اس میں دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت دانستہ طور پر اپوزیشن کو دبانا چاہتی ہے ہمارے وکلاءعدالت میں ثابت کریں گے کہ جے آئی ٹی کا حقائق سے کوئی واسطہ نہیں پیپلزپارٹی کا یکطرفہ احتساب ہورہا ہے۔ سیاسی مخالفین کی نظر میں صرف اپوزیشن پر ہی کیوں ہے۔

سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ ہم سینیٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ سے متعلق احتجاج کر چکے ہیں یہ حکومت اور جے آئی ٹی کا گٹھ جوڑ نظر آتا ہے احتساب کے لبادے میں انتقام لیا جارہا ہے۔ احتساب میں دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے ماضی میں بھی آصف علی زرداری کے خلاف کیسز بنائے گئے لیکن کچھ ثابت نہیں ہوا ایسا نہ ہو کہ لوگ سوا پوچھیں کہ شہید بے نظیر بھٹو اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کو انصاف نہیں ملا تھا۔ آئین کے خلاف کام کرنے والوں کو کچھ نہیں کہا جاتا۔ ہمیں بتائیں کہ نئے پاکستان میں یہی کام ہونے ہیں تو ہم پچھے نہیں ہٹیں گے۔ نئے پاکستان اور مدینہ کی ریاست میں زنجیروں میں ہی لاشیں پڑی ملتی ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن میں ساتھ ہیں۔