فیس بک پیج سے منسلک ہوں

پاکستان: نام نہاد دہشتگردی کیخلاف نام نہاد جنگ انسانی حقوق کی خراب صورتحال کی وجہ

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ / معظم رضا تبسم: سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے نام نہاد دہشتگردی کے خلاف نام نہاد جنگ اور قومی سلامتی امور کو پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کی بتدریج خراب ہونے کی وجہ قراردیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ گذشتہ سال کی تیسری یونیورسل پریاڈک رپورٹ کوپارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے جس میں اقوام متحدہ کی جانب سے پیش کی جانے والی سفارشات اور انسانی حقوق کو بہتر بنانے کے لئے پاکستان کی جانب سے کئے گئے وعدوں کا ذکر ہے۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے زیر اہتمام “انسانی حقوق کے محافظوں” کے موضوع پر ایک مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال بتدریج خراب ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ نام نہاد دہشتگردی کے خلاف نام نہاد جنگ اور قومی سلامتی کے امور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور قبائلی علاقے میں عوام نہیں جا سکتے اور حراستی مراکز گوئنتانامو بے کی طرف کے جیل خانے بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پناہ گزینوں کے تحفظ کے لئے کوئی قوانین نہیں۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ  افراد کو مسلسل غائب کیا جا رہا ہے اور لاپتہ کمیشن کے چیئرمین نے سینیٹ میں یہ اعتراف کیا ہے کہ 153سکیورٹی اہلکار ان افراد کی گمشدگی میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے محافظوں کو ریاستی اور غیرریاستی عناصر سے سخت خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کے محافظوں کے لئے بیس سال قبل ایک ڈکلیریشن جاری کیا تھا جس کی حمایت پاکستان نے بھی کی تھی تاہم پاکستان نے نومبر 2015ءمیں اقوام متحدہ کی قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیا جس میں انسانی حقوق کے محافظوں کے لئے تحفظ فراہم کرنے کو کہا گیا تھا۔

فرحت اللہ بابر نے یہ مطالبہ کیا کہ حراستی مراکز میں عام جیلوں کے قوانین لاگو کئے جائیں اور قبائلی علاقوں کو ڈی ملٹرائزڈ کیا جائے کیونکہ اب یہ علاقے خیبرپختونخواہ کا حصہ بن چکے ہیں۔ فرحت اللہ بابر نے تجویز دی کہ انسانی حقوق کے محافظوں کا کردار تسلیم کرنے کے لئے قانون سازی کی جائے اور ان کو ظلم و زیادتی سے تحفظ دینا یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو تحفظ دینے کے لئے سینیٹ کی کمیٹی نے ایک بل کو حتمی شکل دے دی ہے۔ انہوں نے اس بل کو فوری طور پر منظور کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست انسانی حقوق کے لئے طاقت استعمال کرتی ہے جیسا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے سلسلے میں کر رہی ہے۔