فیس بک پیج سے منسلک ہوں

مشکل حالات سے گھبرانے والے نہیں, زرداری کا پارٹی اعلی سطحی اجلاس سے خطاب

اسلاباد پالیٹکس رپورٹ / معظم رضا تبسم : پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر پاکستان و پی پی پی پارلیامینٹرین کے صدر آصف علی زرداری کی زیرصدارت پارٹی کے سینیئر رہنماوَں اور اراکین اسمبلی کا اہم اجلاس بلاول ہاوَس کراچی میں ہوا۔ اجلاس کے دوران شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے 11 ویں یوم شہادت کے موقعے پر گڑھی خدابخش میں ہونے والے جلسہ عام کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں سید خورشید احمد شاہ، قائم علی شاہ، قمر الزمان کائرہ، نثار احمد کھڑو، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ، سردار لظیف کھوسہ علی مدد جتک، ہمایوں خان، چودھری لطیف اور پارٹی کے دیگر رہنماوَں، وزراء اور اراکین اسمبلی نے شرکت کی-

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے کہا کہ وہ مشکل حالات سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔ مشکل حالات میں وہ ہمیشہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوکر نکلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں موجودہ حالات کو مشکل وقت نہیں کہتا۔ مشکل وقت وہ تھا، جس کا سامنا شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے کیا تھا، جنہوں نے ضیاء جیسے بدترین آمر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خلاف لگائے جانے والے تمام الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ جھوٹے دستاویزات کے ذریعے ہمیں ڈرایا، دھمکایا نہیں جاسکتا۔ ہم پر جتنا ظلم کیا جائیگا، ہم برداشت کا بھی اتنا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ہم اِتنا برداشت کریں گے کہ ظلم کرنے والے تھک جائیں گے۔

آصف علی زرداری نے کہا 27 دسمبر کو پاکستان کی عوام ثابت کرے گی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ختم نہیں کیا جاسکتا اور انشااللہ پیپلز پارٹی عوام کی حمایت سے الیکشنز جیتے گی اور وفاق سمیت چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں حکومتیں بھی بنائے گی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا یوم شہادت بھرپور عقیدت و احترام سے منایا جائیگا اور اس موقعے پر پارٹی کی سینٹرل ایگزیکیوٹو کمیٹی کے اجلاس کے دوران پارٹی کی نئی حکمت عملی تشکیل دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ون یونٹ کی جانب دھکیلنے کی سازش کی جارہی ہے۔ ایک طرف پانی اور گئس بند کردیئے گئے تو دوسری جانب صوبائی حکومت کو اس کے جائز فنڈز بھی نہیں دیئے جا رہے۔ کالاباغ ڈیم کی حمایت میں مہم بھی چلائی گئی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس ملک کو 1973ع کا آئین دیا، جبکہ بعد میں آنے والے آمر اس متفقہ دستور کا حلیہ بگاڑتے رہے۔ ہم نے 18 ویں ترمیم کے ذریعے 1973ع کے آئین کو اصل شکل میں بحال کیا۔ ہم 18 ترمیم کے معاملے پر کسی مصلحت کا شکار نہیں ہونگے۔ ہم نے ہمیشہ غیرجمہوری قوتوں کو شکست دی ہے۔ 27 دسمبر کو ملک طول و عرض سے ہر مکتبہ فکر کے لوگ گڑھی خدابخش میں جمع ہو کر سازشی عناصر کو شکست فاش سے ہمکنار کریں گے۔