فیس بک پیج سے منسلک ہوں

معاون خصوصی کی جے آئی ٹی کیساتھ ایف آئی اے موجودگی پر وزیراعظم وضاحت دیں, پی پی رہنما

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ / معظم رضا تبسم :پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ معاون خصوصی کی جے آئی ٹی کیساتھ ایف آئی سے موجودگی پر وزیراعظم وضاحت دیں اور سپریم کورٹ اس کا نوٹس لے‘ یہ احتساب الرحمن کا نیا روپ ہے۔ نیب کے سربراہ سے کہتے ہیں کہ اب ان کو اپنی غیر جانبداری ثابت کرنا ہوگی۔ 26 تاریخ کو سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد ان کو پتہ چلے گا کہ پیپلزپارٹی کیا ہے ۔ احتساب کیلئے تیار ہیں اگر احتساب ہو یہ نہ ہو کہ احتساب کے نام پر انتقام کی سیاست کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولا بخش چانڈیو اور پیپلزپارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات نفیسہ شاہ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ ڈپٹی مرکزی سیکرٹری اطلاعات پاکستان پیپلزپارٹی پلوشہ خان اور نذیر ڈھوکی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ احتساب کے نام پر انتقام اور نتشار پھیلایا جارہا ہے۔ کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر ایف آئی اے کے دفتر میں اس وقت موجود تھے جب جے آئی ٹی کے افسران بھی وہاں موجود تھے۔ یہ بہت سنگین صورتحال ہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی ایف آئی اے کے دفتر میں وزیراعظم کے کہنے پر گئے ہیں۔ اس حوالے سے وزیراعظم پاکستان اپنی وضاحت دین اور سپریم کورٹ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے چونکہ 24 تاریخ کو جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ میں اپنی رپورٹ پیش کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے سے پہلے ہی حکومتی وزراءاس حوالے سے اپنے بیانات جاری کررہے ہیں۔ اگر احتساب کا ادارہ موجود ہے تو احتساب کے حوالے سے معاون خصوصی کی کیا ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ شہزاد اکبر انسانی حقوق کے وکیل تھے اور ان ڈرون حملوں کے حوالے سے وہ وکالت کرتے رہے ہیں۔ یہ روزانہ اپنے بیان تبدیل کرتے ہیں کہ چار ہزار غیر قانونی اکاﺅنٹ ملے ہیں 26 ممالک سے ہمارا معاہدہ ہوگیا ہے دو سو ارب ڈالر پاکستانیوں کے باہر کے ملکوں میں ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات حکومتی وزراءانتشار پیداکررہے ہیں یہ کچھ کرنا نہیں چاہتے صرف باتوں میں ہی وقت گزارنا چاہتے ہیں 1500 بلین کے اثاثے دکھائے اب وہ کہاں گئے وزیراعظم نے کہا تھا کہ گورنر ہاﺅس گرا دیں گے پوٹوکول اور وی آئی پی کلچر کو ختم کردیں گے۔ اگر ان کے پاس ثبوت ہیں تو لے آئیں۔ گزشتہ حکومت کا بھی ایک وزیر جو اب ان کو چھوڑ گیا ہے وہ بھی روز اس طرح کے بیان دیتا تھا انہوں نے کہا کہ سچ ہے تو لے آئیں ہم بھاگنے والے نہیں ہماری قیادت سرخرو ہوگی لگتا ہے تبدیلی آکر انڈو اور مرغی پر رک گئی ہے۔ احتساب کا نعرہ لگانے والوں کا بھی احتساب ضرور ہوگا۔ جس نے بھی تکبر کی زبان بولی اس کو بھگتنا پڑا ہے۔ ہم نے مشرف ‘ضیاءالحق اور نواز شریف کا دور بھی دیکھا ہوا ہے اب بھی دیکھ لیں گے جو تجزیہ نگار عمران خان کے دوست ہیں وہ ان کو اچھے نہیںلگتے ۔ پنجاب میں ذوالفقار علی بھٹو کے چاہنے والوں کی نسلیں آباد ہیں انہوں نے کہا کہ جو جمہوریت کے دوست ہیں وہ حکومت کو روکیں کیونکہ حکومتیں گالیاں نہیں دیتیں وہ اپوزیشن کو گلے سے لگاتی ہیں ہم نے پہلے بھی ملکی سالمیت کیلئے اتحاد کیا۔ کیونکہ پیپلزپارٹی جمہوریت چاہتی ہے۔ شیخ رشید نے جو پشن گوئیاں کی وہ پوری نہیں ہوئیں انہوں نے تو موجودہ پارٹی میں ہی جھاڑو پھیر دیا ہے اب بادل آئے ہیں تو بارش برسے گی۔ لاکھوں نوکریاں دینے والوں ملنے کی بجائے لوگ بے روزگار ہورہے ہیں فیصل وواڈو ‘ حلیم خان اور جہانگیر ترین کی بھی پراپرٹی نکلے گی۔