فیس بک پیج سے منسلک ہوں

آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی ضمانت میں 7 جنوری 2019 تک توسیع

اسلام آباد پالیٹکس مانیٹر: بینکنگ عدالت کراچی نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی ضمانت میں 7 جنوری 2019 تک توسیع کردی۔

سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور کی بینکنگ عدالت میں پیشی کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ارکان پارلیمنٹ، ارکان صوبائی اسمبلی اور کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی جبکہ سیکیورٹی انتظامات کے پیش نظر عدالت کے اطراف بیریئرز لگادیے گئے تھے۔

آصف زرداری کی بینکنگ عدالت پیشی کے موقع پر سینیٹر رحمٰن ملک، سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی، نثار کھوڑو، امتیاز شیخ، سلمان مراد، وقار مہدی، راشد ربانی، اعجاز جاکھرانی اور دیگر رہنماؤں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

عدالت میں پیشی کے موقع پر کارکنان نے کمرہ عدالت میں گھسنے کی کوشش کی اور آصف زرداری کے حق میں نعرے بازی کی، جس پر عدالت کے جج نے کمرہ عدالت کی صورتحال پر برہمی کا اظہار کیا۔

دوران سماعت عدالت کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ اس کیس میں کیا پوزیشن ہے، جس پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے بتایا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی) رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے اور اس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے۔

بعد ازاں عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی ضمانت میں 7 جنوری تک توسیع کردی۔
اس سے قبل سابق صدر آصف علی زرداری کی ممکنہ گرفتاری کے پیش نظر پیپلز پارٹی نے حکمت عملی تیار کی تھی اور تمام ارکان پارلیمنٹ، ارکان صوبائی اسمبلی اور کارکنان کو عدالت پہنچنے کی ہدایت کی تھی جبکہ خواتین ونگ نے بھی تمام عہدیداروں کو عدالت میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔