بدلتی سیاسی صورت حال اور “خاموش شب خون” کی گونج

انتخابات دوہزار اٹھارہ کے نتیجہ میں تشکیل پائی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پہلے سو دن مکمل ہو گئے۔ وفاق,پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں برسراقتدار تحریک انصاف نے دھوم دھام سے پہلے سو دن کی کارکردگی اور آئندہ کے لائحہ عمل کے اعلان کے لئے بھرپور پروگرام منعقد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جبکہ سندھ میں برسراقتدار پاکستان پیپلزپارٹی جو کہ گذشتہ نے اپنے سو دن کی حکمرانی کی کارکردگی عوام کے سامنے رکھنے کے بجائے یوم تاسیس کی پارٹی سیاسی سرگرمی کو فوقیت دی اور تاسیسی جلسہ کو ہی حکومت کی سو دن کی کارکردگی پر تیر چلانے کا کمان بنایا۔

مسلم لیگ ن کے نااہل قرار پائے سابق وزیراعظم نواز شریف اور انکی سیاسی وارث قرار دی جانیوالی بیٹی مریم نواز معنی خیز خاموشی اوڑھے ہوئے ہیں،پارٹی سربراہ اور اپوزیشن لیڈر اسیر نیب ہیں تاہم سیکنڈ لائن قیادت نے حکومت  کی سو دن کی کارکردگی پر پوری تیاری سے چارچ شیٹ جاری کی۔

پیپلزپارٹی نے سکھر میں یوم تاسیس کا بھرپور جلسہ منعقد کیا۔ بلاول بھٹو زرداری کے یوم تاسیس جلسہ سے قبل انہیں زرداری گروپ کے ڈائریکٹر کی حثیت سے بے نامی بینک اکاونٹس معاملہ کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کا سوال نامہ بھی موصول ہوا جس کا جواب انہوں نے داخل کروا دیا۔ حالانکہ پیپلزپارٹی حکومت اور ریاست کو ہر مشکل مرحلے پر بلوچستان میں حکومتی تبدیلی ہو یا انتہا پسندی ودہشتگردی کیخلاف آپریشن، ٹرمپ کی آئی ایم ایف کو پاکستان کو قرضہ نہ دینے کا دباو ہو یا ریاست کو درپیش مذہبی گروہ کے دھرنے کا چیلنج، پارٹی غیر مشروط حمایت دیتی چلی آرہی ہے۔

پیپلزپارٹی جو یہ تاثر دے رہی ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو بھجوایا گیا نوٹس دراصل پی ٹی آئی حکومت پر سخت تنقید کا شاخسانہ ہے۔ یہ ایک پوری کہانی ہے کہ بلاول نے کس مرحلہ پر سخت موقف اختیار کیا اوراس کے پیچھے کیا سیاست رہی کہ بلاول بھٹو کو حکومت کیخلاف سخت موقف لینا پڑا اور جوابا حکومت نے بلاول کو بھی بے نامی اکاونٹ معاملہ میں ملوث کرنے کا اقدام اٹھایا۔ یہ الگ بات کہ بلاول بھٹو زرداری [ جیسا کہ اس معاملہ سے باخبر پارٹی زعماء کی طرف سے بتایا جارہا ہے ] کی زرداری گروپ میں ڈائریکٹر کی حثیت صرف کاغذی ہے اور ان کا اس گروپ کے لین دین یا کاروباری معاملات سے کوئی خاص تعلق نہیں۔ بے نامی اکاونٹس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے پیپلزپارٹی کے نوجوان چئیرمین کو جو سوال نامہ بھجوایا گیا اس پرجواب بھی ایسا ہی بتایا جا رہاہے کہ” اس بارے میں انکے والد سے پوچھا جائے”۔ تاہم قانونی ماہرین کی واضح رائے ہے کہ ایسا جواب فراہم کرکے اپنی ذمہ داری سے بلاول بھٹوزرداری خود کو مبرا نہیں کر سکتے۔

سابق صدر آصف علی زرداری اپنے انٹرویو میں واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ بے نامی اکاونٹ کے معاملہ پر خود کا دفاع کر سکتے ہیں۔ تاہم معاملہ سے باخبر پارٹی زعماء خود معاملہ پر متوشش ہیں کہ صدر زرداری کا دفاع کرنے والے وکلاء بھی کہہ چکے کہ وہ کیس تو بھرپور لڑیں گے تاہم تکنیکی معاملہ میں کہیں گڑبڑ سامنے آئیگی تو وہ بھی کچھ نہیں کر سکیں گے۔ واضح رہے ایسے ہی تکنیکی معاملہ پر مشرف دور میں اپوزیشن قیادتوں کونہ صرف سیاست میں حصہ لینے بلکہ پارٹی کی قیادت کرنے سے بھی روک دیا گیا تھا۔ تاہم آصف علی زرداری اپنے دفاع میں کونسی چال چھپائے بیٹھے ہیں کہ وہ اس قدر اعتماد میں ہیں یقینا سوائے انکے کوئی نہیں جانتا۔ تاہم آصف علی زرداری اس معاملے کو مقتدر حلقوں کی جانب سے اٹھاوریں ترمیم میں تبدیلیوں کے لئے انکی رضامندی حاصل کرنے کےلئے دباو کا حربہ قرار دے رہے ہیں۔ کیامعاملہ اتنا ہی سادہ ہےاور محدود ہے؟

وزیراعظم عمران خان جو کرپشن کے خاتمے کے ایجنڈے کو اپنی حکمرانی کا محور بنائے ہوئے ہیں قرار دے رہے ہیں کہ ان کی حکومت کا نیب میں چلنے والے کرپشن مقدمات کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں کہ انہوں نے سو سال میں ایک چپڑاسی تک بھرتی نہیں کیا اور جبکہ انکی حکومت نے منی لانڈرنگ اور بے نامی اکاونٹس پر ایف آئی اے کو قوت دی ہے، جو ان معاملات کی تحقیقات کر رہی ہے جن میں بلاول بھٹو زرداری کو نوٹس ہوا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے موجودہ چئیرمین نیب کو پارٹی زعماء کی مخالفت کے باوجود آصف علی زرداری نے اس عہدہ کے لئے منظوری دی تھی۔

وزیراعظم عمران خان اپوزیشن قیادت پر کرپشن الزامات کو اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی اچھال رہے ہیں اپوزیشن زعماء اسے اپنی پارٹی قیادتوں کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنے کا مخصوص ایجنڈا سمجھنے لگے ہیں۔ چین کے بعد ملائیشیا میں وزیراعظم کے اپوزیشن قیادت کیخلاف بدعنوان ہونے کے تاثر بھرے خطاب اورقومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو نیب کیس میں گرفتار کئے جانے کے تناظر میں سیاسی قیادت کو حیلے بہانے اسیر رکھ کر تنقید سے بچنے کی ایک خطرناک سیاسی چال کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ نہ صرف پی پی بلکہ ن لیگ نے بھی اس پر ردعمل دیا۔

بلاول بھٹو نے گلگت دورہ کے اختتام پر پریس کانفرنس میں واضح کہا کہ ایسے حربے سے اپوزیشن دبنے والی نہیں۔ اسی پریس کانفرنس کے بعد بلاول بھٹو کو بے نامی اکاونٹس معاملہ پر بنی جے آئی ٹی کی جانب سے طلب کئے جانے بارے ذرائع کے حوالے سے خبریں لیک کی گئیں۔ پیپلزپارٹی نے جے آئی ٹی کو سوالنامہ پر داخل کیا گیا جواب میڈیا کو لیک کر کے منظم کردارکشی کئے جانے پر شدید ردعمل دیا اور سپریم کورٹ کو نوٹس لینے کا بھی کیا۔ مگرجس صورتحال کا حکومت کے سیاسی مخالفین کو سامنا ہے بعید نہیں کہ پی ٹی آئی زعماء کو بھی ایسے ہی چیلنج کا سامنا آنے والے دنوں میں ہو کہ مثال تو بن رہی اور کسی پر بھی لاگو ہو سکتی۔ بلاول بھٹو زرداری نے بھی یوم تاسیس جلسہ میں مینگل اور ایم کیو ایم والوں کوبھی مخاطب کیاجواقتدار میں رہتے ہوئے مظالم کا رونا رو رہے ہیں۔

واقعات کا تسلسل ہے  ایک مذہبی سیاسی جماعت جس کے سامنے ریاست دو بار سرنڈرکا الزام لینے پر مجبورہوئی اچانک بغاوت مقدمات جیسی بہادرانہ کارروائی کردی اور اس پر حیرانی کہ منٹوں میں ملک کو بند کرنے کی صلاحیت رکھنے والی جماعت کی قیادت گرفتار ہوئی اور پھر بغاوت کا مقدمہ بنا تو پتا بھی نہیں ہلا۔ دوسری طرف پشتون تحفظ تحریک “پی ٹی ایم” کے دو منتخب اراکین قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ کو گرفتار کر لیا جو خیبر پختونخواہ اور فاٹا میں پشتون عوام میں تیزی سے مقبول ہے۔ میڈیا کا گلا پہلے ہی گھونٹا جا چکا اور کسر پوری کرنے کو مزید اقدامات جلد سامنے آنے کو ہیں کہ گنتی کے میڈیا ہاوسز ہی باقی رہ جائیں۔

ملکی سیاست میں جو واقعات رونما ہو رہے ہیں اس تناظر میں فرحت اللہ بابر کی “خاموش شب خون” کی دوھائی گونج بنتی دکھائی دے رہی ہے  ،مگر اس صورتحال کی شکار سیاسی جماعتیں اورمیڈیا تنظمیں منقسم ہیں۔ عوام سیاسی قیادتوں کی جانب دیکھ رہی ہے-