فیس بک پیج سے منسلک ہوں

سینیٹ ہاوس کمیٹی کا سی ڈی اے کی کارکردگی پر اظہار عدم اطمینان

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/ معظم رضاتبسم: ایوان بالاء کی ہاؤس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر سلیم مانڈوی والاکی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا ۔ ہاؤس کمیٹی اجلاس میں یکم نومبر 2018 کو کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کے علاوہ ہاؤس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ ، پارلیمنٹ لاجز میں جینی ٹوریل سروسز کیلئے نئی شرائط ، موجودہ لاجز کی تزین و آرئش کے پی سی II- کیلئے وزارت داخلہ ، وزارت خزانہ ، وزارت پارلیمانی امور ، نیسپک اور چیئرمین سی ڈی اے سے بریفنگ ، کمیٹی کی ہدایت کے مطابق نئے لاجز بلاک کی تعمیر کے حوالے سے ٹھیکدار کے ساتھ مسئلے کے حل کیلئے وزارت داخلہ ، وزارت پارلیمانی امور اور سی ڈی اے سے تفصیلی بریفنگ کے علاوہ فائر آڈٹ کیلئے ڈائریکٹوریٹ جنرل سول ڈیفنس سے تفصیلی بریفنگ حاصل کی گئی ۔
ہاؤس کمیٹی کو یکم نومبر2018 کو دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کے حوالے سے تفصیلی آگاہ کیا گیا ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سینیٹ ہاؤس کمیٹی کا آج 9 واں اجلاس ہے مگر اتنا کام نہیں ہوا جتنا ہونا چاہیے تھا ۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے کی کارکردگی سے یہ کمیٹی مطمئن نہیں ہے ۔ سینیٹر کلثوم پروین نے ہاؤس کمیٹی اجلاس میں ذیلی کمیٹی کی رپورٹ پیش کی انہوں نے کہا کہ سینیٹر اعظم سواتی کو کمیٹی کی کارروائی بارے تفصیلی آگاہ کر دیا گیا ہے وہ کمیٹی کی رپورٹ پر مطمعن ہیں انہوں نے کہا کہ ذیلی کمیٹی نے ہدایت کی تھی کہ ٹینڈرز فارم سب کو دینے چاہیے ۔اور آئندہ ٹینڈرز جاری کرنے میں تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی ۔دکانوں کو ٹھیکے پر دینے کے حوالے سے ٹی او آر تیار کر لیے گئے ہیں اور ذیلی کمیٹی سے شیئر بھی کیے گئے ہیں اور ذیلی کمیٹی نے یہ سفارش بھی کی تھی کہ سی ڈی اے کے پارلیمنٹ لاجز میں تعینات ملازمین کے تبادلے بھی ہونے چاہیے تاکہ کسی کی اجارہ داری قائم نہ ہو سکے ۔ ہاؤس کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایمبولینس کی فراہمی کے حوالے سے وزارت صحت نے سمری تیار کر کے وزارت خزانہ کو بھیجنی ہے وزارت کیڈ ختم ہو چکی ہے ۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ سمری سینیٹ ہاؤس کمیٹی کو بھیجی جائے تاکہ وزارت خزانہ کے ساتھ معاملہ اٹھایا جائے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سی ڈی اے کو وزارت خزانہ نے 93ملین کم فراہم کیے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سی ڈی اے پارلیمنٹ لاجز کیلئے جاری کیے گئے فنڈ کو استعمال نہیں کر سکی ۔ اراکین کمیٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے کارکردگی کو بہتر کرے اور اگر آئندہ بھی یہی سلسلہ رہا تو اس کا بجٹ مزید کم ہو جائے گا۔ ہاؤس کمیٹی کو بتایا گیا کہ پارلیمنٹ لاجز میں سیکورٹی کیلئے مزید 19 کیمرے لگانے کی نشاندہی کردی گئی ہے جس پر 40 لاکھ خرچ ہونگے اور جلد اس کا ٹینڈر جاری کر دیا جائے گا۔ سینیٹ ہاؤس کمیٹی نے ڈائریکٹو ریٹ جنرل سول ڈیفنس کی طرف سے پارلیمنٹ لاجز میں کرائی گئی فائر ڈرل پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ صرف ساز وسامان کو چیک کرنا ہی فائر ڈرل نہیں ہوتی ،آلات کو استعمال کرنا بھی ضروری ہوتا ہے ۔ ہاؤس کمیٹی ہدایت کرتی ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں دوبارہ جلد سے جلد فائر ڈرل کرائی جائے اور آلات کا استعمال کیا جائے ۔ پارلیمنٹ لاجز کے نئے بلاک کی تعمیر کے حوالے سے تعمیراتی کمپنی حبیب اینڈ رفیق کے مسئلے کے حل کیلئے وزارت داخلہ ، وزارت پارلیمانی امور ، چیئرمین سی ڈی اے اور دو اراکین کمیٹی سینیٹرز میر محمد یوسف بادینی اور سردار محمد شفیق ترین کو ایک کمیٹی اجلاس بلا کر معاملے کا دوستانہ حل نکالنے کی ہدایت کی تھی ۔ ہاؤس کمیٹی کو بتایا گیا کہ کمیٹی کی طرف سے کوئی کنونیئر کمیٹی نامزد نہیں ہوا تھا اس لئے کمیٹی اجلاس نہ ہو سکا جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے چیئرمین سی ڈی اے کی سربراہی میں کمیٹی اجلاس بلانے کی ہدایت کر دی اور سینیٹر میر محمد یوسف بادینی کی جگہ سینیٹر کلثوم پروین کو شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ۔ سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ نئے بلاک کی تعمیر کا ٹھیکہ 2012 میں دیا گیا تھا اب 2018 بھی ختم ہونے کو ہے منصوبوں کی بروقت تکمیل نہ ہونے سے ملک کو اربوں روپے نقصان ہوتا ہے ۔ ہاؤس کمیٹی کو بتایا گیا کہ پارلیمنٹ لاجز میں دکانوں اور کیفے ٹیریا کیلئے ٹی او آر بن چکے ہیں ۔تین دن کے اندر اخبار میں ٹینڈر زکا اشتہار آ جائے گا۔ آئیسکو حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پارلیمنٹ لاجز میں سہولت ڈیسک قائم کر دیئے گئے ہیں۔ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز میر محمد یوسف بادینی ، سردار محمد شفیق ترین ، اور کلثوم پروین کے علاوہ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت داخلہ ، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت پارلیمانی امور ، سپیشل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن ، ڈپٹی ڈی جی این ایچ آر سی ، ڈپٹی ڈائریکٹر ورک سی ڈی اے ، ڈی جی سول ڈیفنس اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔