فیس بک پیج سے منسلک ہوں

وزیراعظم29 نومبر کو کارکردگی اور توانائی بحران خاتمے کی پالیسی پیش کرینگے

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ: وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ حکومت نے اپنے 100 دن میں 21 بنیاد رکھ دی ہے عمارت کھڑی ہو جائے گی ،وزیراعظم عمران خان29 نومبر کو قوم کے سامنے 100 دن کی کارکردگی اور توانائی بحران خاتمے کی پالیسی پیش کریں گے،حکومت کے پاس احتساب کا اختیار ہے ،قومی دولت سے بیرون ملک جائیدادیں بنائی جائیں گی تو اعتراض تو آئے گا،پاکستان اسلامی دنیا کا سب سے بہترین فوج اور جوہری طاقت کا حامل ملک ہے‘ سعودی عرب پاکستان کیلئے اور پاکستان سعودی عرب کیلئے اہم ہے اور رہے گا،مشرق وسطیٰ کی سیاست کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ سعودی عرب کیلئے پاکستان کی کتنی اہمیت ہے،سعودی عرب ،ملائیشیا اور چین سے مذاکرات کے بعد ادائیگیوں کے توازن کا مسئلہ نہیں رہا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو وزارت عظمیٰ تک پہنچانے میں پاکستان کی عوام اور میڈیا کا ہی کردار ہے، میڈیا کو اپنے بزنس ماڈل میں تبدیلی لانا ہوگی تاکہ میڈیا ورکرز کا روزگار محفوظ رہے، ہم نے میڈیا ہاؤسز کے 15 سال سے پھنسے 50 کروڑ روپے جاری کرائے تاکہ میڈیا ورکرز کو واجبات مل سکیں اور برطرفیاں اور چھانٹیاں نہ ہو۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان سرکاری پیسہ نواز شریف کی طرح اپنا ذاتی پیسہ نہیں سمجھتے۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ سعودی عرب ،ملائیشیا یا چین جاتے ہیں تو دو ملکوں کے مابین بات چیت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو پاکستان کی اہمیت کا اندازہ ہے ،مشرق وسطیٰ کی سیاست کو سمجھنے والے دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان اس وقت سعودی عرب کے لئے اہم ہے اور رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے جب سعودی عرب سے بات کی تھی تو اس وقت بات اور تھی اور اب صورتحال اور ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت دنیا میں سب سے بڑی فوج ،بڑی جوہری طاقت ہونے کی حیثیت سے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ملک ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات، چین، سعودی عرب سے جو ہمارے مذاکرات ہوئے ہیں اس کے نتیجے میں ادائیگیوں کے توازن کا مسئلہ اب اتنا بڑا مسئلہ نہیں رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان ،بلوچستان اور کے پی کے اب نظر انداز نہیں ہوں گے جیسے انہیں ماضی میں کیا گیا۔ایک سوال کے جواب میں ا نہوں نے کہا کہ آسیہ بی بی کے کیس کا حکومت سے کوئی لینا دینا نہیں، ای سی ایل میں نام شامل کرنے کا فیصلہ حکومت کورٹ کے حکم پر کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان سے معاہدے میں یہ تھا کہ نظرثانی اپیل دائر کی جائے گی اور حکومت اس میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی،جو آئین اور قانون کی پاسداری بھی ہے تاہم املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو نہیں چھوڑا جاسکتا ۔ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ مشرف دور میں نواز شریف اور شہباز شریف کہتے رہے کہ ہم باہر نہیں جائیں گے لیکن لڈیاں ڈالتے سب باہر چلے گئے۔ اب اگر انہیں این آر او مل جائے اب بھی لڈیاں ڈالتے جائیں گے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت احتساب کے پیچھے کھڑی ہے عوامی دباؤ نہ ہوتا اور عمران خان آواز نہ اٹھاتے تو احتساب کا عمل کیسے شروع ہوتا ۔انہوں نے کہا کہ اپنے پیسے سے کوئی بیرون ملک جائیداد بناتا ہے تو کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔عوام کا پیسا لوٹ کر آپ بیرون ملک جائیدادیں بنائیں گے تو اعتراض تو ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ سے کوئی لڑائی نہیں،سینیٹ میں بلائیں گے تو جائیں گے ورنہ نہیں جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے 100 دن کے ایجنڈے میں بنیاد رکھ دی ہے اور اس پر عمارت کھڑی کی جائے گی۔وزیراعظم عمران خان 29 نومبر کو 100 دن کی کارکردگی عوام کے سامنے رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کل 34 بڑے انیشیٹو لئے ہیں جن میں 21 انیشیٹو قومی سطح کے اور 13 صوبائی سطح کے اقدامات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم دفتر میں کوآرڈینیشن سیل قائم ہوچکا ہے‘ توانائی بحران کے خاتمہ کے حوالے سے پالیسی29 نومبر کو پیش کردی جائے گی جبکہ زرعی ایمرجنسی کا اعلان 27 نومبر کو ہو جائے گا۔جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے کمیٹی قائم کردی گئی ہے،29 نومبر کو اس سے متعلق بھی اہم اعلان ہوگا۔دو سو سے زائد ٹیکسٹائل ملوں نے کام شروع کردیا ہے ہزاروں لوگوں کو تو روزگار اسی میں مل گیا ہے جبکہ50 لاکھ گھروں کے حوالے سے بھی پالیسی سازی کا بہتر کام مکمل ہوچکا ہے۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر میڈیا پر زور دیا کہ وہ اپنے بزنس پلان میں سٹریٹجک ری تھنکنگ کریں تاکہ میڈیا ورکرز بے روزگار نہ ہوں۔