فیس بک پیج سے منسلک ہوں

خادم رضوی سمیت 95 رہنما اورسینکڑوں کارکن نظربند،کریک ڈاؤن جاری

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ /معظم رضاتبسم: تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی سربراہ خادم حسین رضوی سمیت 95 رہنماووں کو 30 روز تک نظر بند رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا جبکہ ملک بھر میں کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔  پنجاب میں1100 سے زائد افراد کو تین ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا,کراچی سے بھی 100 سے زائد افراد کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے ۔

ڈپٹی کمشنر لاہور نے خادم حسین رضوی کو 30 روز تک نظر بند رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ گزشتہ روز تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لیا تھا۔خادم حسین رضوی کے ساتھ ساتھ ٹی ایل پی کے کارکنان کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کرتے ہوئے پولیس نے سیکڑوں کی تعداد میں کارکنان کو گرفتار کرلیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق پنجاب میں1100 سے زائد افراد کو تین ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ٹی ایل پی کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن ابھی بھی جاری ہے۔

تحریک لبیک پاکستان کے زیر حراست کارکنوں کو 2، 2 ہفتوں تک تین ایم پی او کے تحت نظر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کراچی میں سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ایسٹ اظفر مہیسر کا کہنا ہے کہ قانون کا ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ایس ایس پی ایسٹ نے نمائش چورنگی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سیکیورٹی پر مامور جوانوں کو بریفنگ دی اور انہیں صورتحال سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل بھی بتایا۔ اس دوران کا کہنا تھا کہ پالیسی واضح ہے کہ کسی کو بھی روڈ بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ایس ایس پی ایسٹ کا مزید کہنا تھا کہ ایک روز قبل پولیس اور رینجرز پر فائرنگ کی گئی اور پبلک ٹرانسپورٹ پر پتھراؤ کیا گیا جو ناقابل برداشت ہے۔ دھرنے کی آڑ میں شر انگیزی کی جارہی ہے، قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

ایس ایس پی ایسٹ اظفر مہیسر نے بتایا کہ گزشتہ رات 100 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جن پر دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ خادم حسین رضوی کی گرفتاری کے بعد وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے بیان جاری کیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ انہیں حفاظتی تحویل میں لے کر مہمان خانے میں منتقل کیا گیا ہے۔