فیس بک پیج سے منسلک ہوں

فہمیدہ ریاض کا انتقال: بلاول بھٹوسمیت سیاسی رہنماووں،ادبی شخصیات کا اظہار تعزیت

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ / معظم رضا تبسم : اردو کی ممتاز شاعرہ اور افسانہ نگار فہمیدہ ریاض لاہورمیں انتقال کرگئیں- پاکستان کے سیاسی ، ادبی اور سماجی حلقوں میں ان کے انتقال پرسوگ طاری ہے۔

فہمیدہ ریاض اپنے تانیثی اور غیر روایتی خیالات کے لیے معروف تھیں۔ فہمیدہ ریاض 2013 میں اسلام آباد پالیٹکس ڈاٹ کام ویب سائٹ کے لئے کالم بھی لکھتی رہیں۔

فہمیدہ ریاض نےجمہوریت اور خواتین کے حقوق کے لیے بھرپور جدوجہد کی،وہ جنرل ضیاءالحق کے دور میں بھارت چلی گئی تھیں۔ ضیاءالحق کے انتقال کے بعد فہمیدہ ریاض پاکستان واپس آئیں۔ انھوں نے طالب علمی کےزمانےمیں حیدرآبادمیں پہلی نظم لکھی جو’’فنون‘‘میں چھپی،ان کی محبوب صنف سخن نظم تھی۔فہمیدہ ریاض کاپہلاشعری مجموعہ’’پتھر کی زبان‘‘1967میں آیا۔ دوسرا مجموعہ ’بدن دریدہ‘‘ 1973میں انگلینڈ کے زمانہ قیام میں شائع ہوا جبکہ ان کا تیسرا مجموعہ کلام دھوپ تھا۔ وہ نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد کی سربراہ بھی رہیں ہیں۔ فہمیدہ ریاض 28جولائی 1945 کو میرٹھ میں پیدا ہوئیں۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا فھمیدہ ریاض کے انتقال پر اظہارِ رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فہمیدہ ریاض ایک عہد تھیں، جو تمام ہوا- وہ ترقی پسندی کی علمبردار، حقوق نسواں کی محافظ اور جمہوریت کی وکیل تھیں- ضیاء کی آمریت میں حق گوئی پر جلاوطنی کی صعوبتیں برداشت اور مقدمات کا سامنا کیا- ان کی علمی و ادبی خدمات قوم کے لیئے بیش بہا خزانہ ہے:پیپلز پارٹی کی قیادت کا فھمیدہ ریاض صاحبہ سے محبت و احترام کا رشتہ رہا- شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے انہیں بُک فاوَنڈیشن کا ایم ڈی مقرر کیا۔ان کی خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز بھی دیا گیا۔ بلاول بھٹو زرداری کا سوگوار خاندان سے تعزیت و ہمدردی کا اظہار اور دعا کی ہے، اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے ممتاز شاعرہ اور افسانہ نگار فہمیدہ ریاض کے انتقال پر رنج وغم اور افسوس کااظہارکرتے ہوئے ان کی جمہوریت، علم وادب کے لئے خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

اپنے تعزیتی بیان میں انہوں نے کہاکہ فہمیدہ ریاض پاکستان کی ان خواتین میں سرفہرست شمار ہوتی ہیں جنہوں نے خواتین اور انسانی حقوق کے لئے تمام عمر مخلصانہ کوششیں کیں۔ انہیں اردو کے علاوہ سندھی اور فارسی پر بھی عبور حاصل تھا۔ ’پتھر کی زبان‘، ’بدن دریدہ‘،’دھوپ‘،’کیاتم پورا چاند نہ دیکھو گے‘ شعری مجموعوں کے علاوہ بھی انہوں نے ادب کے شعبہ میں نمایاں کاوشیں کیں۔مریم اورنگزیب نے کہاکہ فہمیدہ ریاض کا انتقال علم وادب اور جمہوریت کے لئے ایک نقصان ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی مرحومہ کو جوار رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبرجمیل دے۔

چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے معروف ادیبہ اور شاعرہ فہمیدہ ریاض کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تعزیتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ فہمیدہ ریاض کی خدمات نہ صرف ادب کے شعبے میں لائق تحسین ہیں بلکہ وہ خواتین کے حقوق اور جمہوریت کے استحکام کی ایک موثر آواز کے طور پر یاد رکھی جائیں گی۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ان کی وفات سے ملک ایک مدبر اور ذہین ادیبہ سے محروم ہو گیا ہے اور ان کی وفات سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنا آسان نہیں ہو گا۔ چیئرمین سینیٹ نے فہمیدہ ریاض مرحومہ کے درجات کی بلندی کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔

فہمیدہ ریاض کی نماز جنازہ اور تدفین آج جمعرات کو لاہور میں بعد نماز عصر کی جائیگی۔

فہمیدہ ریاض 2013 میں اسلام آباد پالیٹکس ویب سائٹس کےلئے کالم لکھتی رہیں ۔۔۔ ان کے یادگار کالم ۔۔۔۔

1- حجاب واک،فاطمہ جناح کا پوسٹراور اچھی فیڈریشن /فہمیدہ ریاض

http://urdu.islamabadpolitics.com/?p=2325

2- انڈیا ،ولیمہ اور فیڈرل اصول/فہمیدہ ریاض
http://urdu.islamabadpolitics.com/?p=3007

3- تمہارے سر میں گولی ماری جائے/ فہمیدہ ریاض
http://urdu.islamabadpolitics.com/?p=2338