پاکستان سے تعلقات میں تعطل واشنگٹن کا نقصان ہوگا

امریکی صدر ٹرمپ کے گذشتہ دنوں پاکستان بارے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر ہرزہ سرائی اور پاکستان کے وزیراعظم کی جانب سے ٹوئیٹر پر جواب الجواب سے پاکستان میں امریکہ بارے عوام میں منفی تاثر قائم ہوا ہے ۔ گذشتہ برسوں سے پاکستان کے بارے میں امریکی حکام کی جانب سے ایسے واقعات کا ایک تسلسل رہا ہے ۔
واضح رہے کہ سابق پیپلزپارٹی دور حکومت سے یہ سلسلہ شروع ہوا تھا جس کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت نے نہ صرف امریکہ سے شمسی ائیربیس واپس لیا تھا جو دہشتگردی کیخلاف جنگ میں امریکہ کا بیس بنا رہاتھا ۔اس وقت امریکہ کی جانب سے پاکستان کو دہشتگردی کیخلاف جنگ میں رکاوٹیں بھی کھڑی کی گئیں ایف سولہ طیاروں کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالی گئی تو سابق صدر آصف علی زرداری نے واضح کہا تھا کہ پاکستان امریکہ تعلقات ڈگمگاہٹ کا شکار ہیں، دونوں ممالک کے تعلقات میں تعطل پیدا ہوا تو امریکہ کو نقصان ہوگا-پاکستان اور امریکہ میں ایف سولہ طیاروں کی فراہمی روکنے کی کوشش سے اختلاف کھل کر سامنے آگیا تھا-امریکی اخبار شکاگو ٹربیون میں2016 میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں انہوں نے کہاتھا کہ امریکی کانگریس کا ایک حصہ پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فروخت روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کی بظاہر وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مخلص نہیں ۔
آصف علی زرداری نے اپنے مضمون میں واضح کہا تھا کہ امریکی سینیٹ کے ایسے ارکان کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ خود پاکستان آکر دہشتگردی کے خلاف ہمارے عزم کا مشاہدہ کریں۔ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے سب متحد ہیں۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سینکڑوں فوجیوں اور ہزاروں شہریوں کی قربانی دی ہے۔ دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ کیا ہے۔ پاکستان بے دلی کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہا۔ انہوں نے ایف سولہ طیاروں کی فراہمی میں رکاوٹ اور پاکستان کو ملنے والے دفاعی امداد میں کمی سے پاکستان کی علاقائی اور عالمی خطرات کے خلاف کارروائیاں متاثر ہونے کا واضح بتایا تھا۔ اور امریکہ کو باور کروایا تھا کہ اس طرح ایسی قوتوں کیلئے راہیں ہموار ہوں گی جو امریکی مفادات اور اقدار کی حمایت نہیں کرتیں۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں تعطل کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سے خطے میں طاقت کا توازن اور دہشتگردی مخالف اتحاد متاثر ہوگا۔ پاکستان کیساتھ تعلقات میں تعطل آنے سے امریکہ کا نقصان ہوگا۔آصف زرداری نے اپنے اس مضمون میں واضح کر دیا تھا کہ چین پاکستان کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت اور اس کی صلاحیتوں سے واقف ہے اور اس کی طرف سے بات چیت کا عمل جاری ہے۔ روس بھی چین کے نقش قدم پر ہے۔ پاکستان دہشتگردی کیخلاف اپنا فرنٹ لائن کردار جاری رکھنے کیلئے تیار ہے لیکن امریکہ کو بھی جنگ میں کامیابی یقینی بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
امریکی صدر ٹرمپ کے ٹویٹر پیغامات اس روز جاری ہوئے جب پاکستان میں حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک بیل آوٹ پیکج پر مذاکرات فائنل ہونے جا رہے تھے ۔ اس سے قبل بھی امریکی صدر نے آئی ایم ایف کو واضح پیغام دیا تھا کہ پاکستان کو چین کے قرضے اتارنے کے لئے قرضہ نہیں دینا چاہیئے ۔
صدر ٹرمپ کے بیان پر آئی ایس پی آر نے بھی شدید ردعمل جاری کیا ہے ۔ تاہم امریکی صدر کے ٹوئیٹربیان سے گو کہ انکے اپنے دفاعی ادارے پینٹاگون نے اتفاق نہیں کیا ہے اور دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیا مگر خطے میں دہشتگردی کیخلاف جاری جنگ کے اہم مرحلے پر صدر ٹرمپ کی ہرزہ سرائی خطے کی بدلتی صورتحال میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے لئے نیک شگون نہیں ۔