فیس بک پیج سے منسلک ہوں

نوجوانو, محنت کشو! فیض کی شاعری کو نصابِ جہد بناوَ اور چلے چلو- بلاول بھٹو

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/ معظم رضا تبسم: فیض احمد فیض کی 33ویں برسی عقیدت و احترام سے بیس نومبر کو منائی جا رہی ہے اس حوالے سے مشاعروں اور سیمیناروں کا انعقاد کیا جا رہاہے ۔ فیض احمد فیض پاکستان کے ترقی پسند شاعر تھے جنہیں لینن پرائز سے نواز گیا پاکستان میں مزاحمتی سیاست پر فیض احمد فیض کی شاعری کے اثرات نمایاں ہیں اور آج کی مزاحمتی اور عوامی سیاست فیض کی شاعری کے بغیرچلتی ہی نہیں۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے فیض احمد فیض کی برسی پر پیغام میں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے – بلاول بھٹو زرداری نے پیغام میں کہا ہے کہ فیض ترقی پسند شاعری کے امام، اپنی ذات میں فرد نہیں پوری تحریک تھے۔انہوں نے ہمیشہ عوام کو انسانی قوتوں کا سرچشمہ قرار دیا۔ان کی شاعری ہر دور کے جبر واستحصال کے خلاف توانا للکار ہے: بلاول بھٹو زرداری ** وہ فکر و اظہار کی آزادی کے داعی اور مظلوم و پسماندہ طبقات کے وکیل تھے۔ پاکستان میں عدم مساوات اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیئے فکرِ فیض کو عام کرنا ہوگا۔آج کے نوجوانوں کو فیض احمد فیض سے تعلق استوار رکھنے کی زیادہ ضرورت ہےکیونکہ فیض حکومتی و معاشرتی سطح پر حقیقی اور جعلی تبدیلی میں فرق کی سمجھ دیتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے نوجوانوں اور محنت کشوں پر زور دیا ہے کہ فیض کی شاعری کو نصابِ جہد بناوَ اور چلے چلو کیونکہ ابھی گرانی شب میں کمی نہیں آئی، وہ منزل ابھی نہیں آئی۔