بلاول بھٹو کا دورہ گلگت بلتستان : پرانے وعدےدہرانے سے کوئی فرق نہیں پڑیگا!

پاکستان پیپلزپارٹی گلگت بلتستان نے پوری محنت کر کے اپنے چیئرمین کے دورہ اور جلسوں کو کامیاب بنانے کے لئے گاؤں گاؤں جا کر پارٹی کارکنوں کو متحرک کرنے کے لئے کوشاں رہے جلسہ بھی قابل ذکر ہوگیا۔ بلاول بھٹو نے دورہ کی جس محنت سے تیاری کی تھی ویسے ہی جلسہ میں اپنی تقریر پرفارم کرنے میں کامیاب رہے مگر گلگت بلتستان کے عوام کو ترقی اور خوشحالی کا عہد دہراتے ہوئے شائد بلاول بھٹو اور خورشید شاہ کے ذہن میں گذشتہ برس کئے وعدوں کا خیال بھی ذہن سے گزرا ہو۔

گلگت کے شاہی پولو گراؤنڈ میں سجائے پنڈال میں بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے حقوق کے لئے پیپلزپارٹی کے کردار کو نمایاں کیا اور مزید اقدامات کا وعدہ بھی کیا۔ وہ الگ بات کہ گلگت بلتستان بارے پیپلزپارٹی قیادت کے سابقہ اعلانات پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث سیاسی حریف ن لیگ کے وزیر اعلی حفیظ الرحمن کے طعنوں سے تنگ اور وعدوں کے ایفا ء نہ ہونے کے باعث مایوسی سے جیالوں کونکالنے کا چیئرمین بلاول بھٹو کی تقریر میں کوئی ذکر نہیں تھا۔       مسلم لیگ ن کے وزیراعلی حفیظ الرحمن گلگت بلتستان اسمبلی اجلاسوں اور عوامی اجتماعات میں جیالوں کو طعنے دیتے ہیں کہ پیپلزپارٹی کی قیادت گلگت بلتستان کے عوام اور منتخب نمائندوں سے کئے وعدوں کا لالی پاپ تو دیتی ہے مگر گلگت بلتستان کے عوام کی خوشحالی اور ترقی کے لئے کئے وعدوں پر عملدرآمد نہیں کرتی ۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے گذشتہ سال ملاقاتوں کے بعد رکن گلگت بلتستان اسمبلی جاوید اختر اورعمران ندیم سے ملاقاتو ں کے بعد نگر میں تین آر سی سی پل تعمیر کرنے اورسندھ کے تعلیمی اداروں میں گلگت بلتستان کے طلباء کے داخلوں کا کوٹہ بڑھانے کا اعلان کیا تھا مگر یہ وعدے ایفاء نہ ہو سکے۔اسی طرح پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما و سابق اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی سید خورشید شاہ نے بھی نگر میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے طلباء کے لئے ایک ہزار کنال اراضی پر کراچی میں ہاسٹل کے قیام کا اعلان کیا تھا مگر اس پر بھی عملدرآمدنہیں ہوسکا۔ پیپلزپارٹی کی قیادت کو گلگت بلتستان میں دوبارہ اپنی سیاسی مقبولیت بنانے کیلئے تنقید و تقریر کے بجائے عمل و ایفائے عہد کا راستہ اختیار کرنا پڑیگاوگرنہ گلگت بلتستان میں جو جلسے محترمہ بینظیر نے کئے ان کے مقابلے میں بلاول بھٹو کے جلسوں سے زمینی حقائق کے برعکس موازنے اور نوجوانوں کو مرغوب کرلینے کے فرمائشی دعوے چھپواکر پارٹی قیادت خو د کو بھلا تو سکتی ہے لیکن شمالی علاقاجات میں عوام میں ساکھ اور مقبولیت بحال نہیں کرسکتی جب تک کہ وعدوں کی تعبیر اور منصوبوں کی تعمیر عملی شکل میں زمین پر دکھائی نہ دے۔