فیس بک پیج سے منسلک ہوں

این آر او کیس : کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دینگے , سپریم کورٹ

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ /معظم رصا تبسم / اللہ داد صدیقی : سپریم کورٹ نے این آر او کیس میں درخواست گزار فیروز شاہ گیلانی ، وفاق اور نیب درخواست قابل سماعت ہونے کے حوالے سے جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دیں گے_

جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے این آر او کیس کی سماعت کی ملک قیوم کی جانب سے بیان حلفی عدالت عظمیٰ میں جمع کرادیا گیاجسٹس اعجاز الاحسن نے درخواست گزار فیروز شاہ گیلانی سے کہا کہ وہ درخواست کے قابل سماعت ہونے پر بحث کریں،جس پر انہوں نے جواب دیا کہ مجھے ابھی تک سارے کاغذات نہیں دیئے گئے، این آر او ججمنٹ میں کہا گیا سوئس بینکوں میں دولت پاکستانیوں کی ہے جبکہ باہر ساری دولت آصف زرداری لے گئے، زرداری کے پیر نے بھی کہا کہ اس کے 60 ملین ڈالر سوئس بینکوں میں پڑے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ ساری اخباری باتیں ہیں اگر کوئی مواد موجود ہے تو بتائیں یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے، آپ کو ہمیں مطمئن کرنا ہوگا،

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آصف زرداری کے وکیل کہتے ہیں کہ آصف زرداری تمام مقدمات میں بری ہو چکے ہیں، کیا بریت کے بعد(3) 184 کے تحت دوبارہ مقدمہ کھولا جا سکتا ہے، آپ بتائیں دستاویزات کہاں پڑی ہیں ہم سںنی سنائی باتوں پر فیصلہ نہیں کریں گے،

فیروز شاہ گیلانی نے عدالت کو بتایا کہ یہ معلومات نیب نے دینی ہیں کیونکہ معلومات مختلف ریفرنس میں پڑی ہیں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آصف زرداری ایک طویل ٹرائل کے بعد بری ہوئے، 60 ملیں ڈالر آصف زرداری کے نام پر نہیں تھے،آصف زرداری آٹھ سال جیل میں رہے معاملہ ختم ہی نہیں ہو رہا، مجھے آصف زرداری، مشرف اور ملک قیوم کے بیان حلفی مہیا کیے جائیں اس کے بعد درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر دلائل دوں گا، عدالت نے درخواست گزار ، نیب اور وفاق کو درخواست کے قابل سماعت ہونے کے حوالے جوا جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی_