این آر او، اٹھارویں ترمیم کا درد سر، پیناڈول کی کس کو ضرورت؟

سو دن میں انقلاب برپا کرنے کے دعوؤں کیساتھ مسند اقتدار سنبھالنے والے وزیراعظم کی دو ماہ میں کارکردگی یہی ہے کہ وہ متنازعہ فیصلے کرکے واپس لینے یعنی ’’ یو ٹرن ‘‘کے ریکارڈ قائم کرگئے ہیں سو دن میں بڑی تبدیلی کے وعدہ سے بھی مکرتے  مکرتے چھ ماہ اور دوسال تک چلے گئے ہیں ۔
وزیر اعظم نے 70روز بعد قوم سے’’ کان کھول خطاب‘‘ کرتے ہوئے خوشخبری دی کہ پاکستان کو بارہ بلین ڈالر کا مزید مقروض کردیا ہے ۔ اس سے ایک روز قبل ہی بجلی قیمتوں میں اضافہ کا فیصلہ کرتے ہوئے عوام پر بجلی گرائی تھی ۔ عوام مزید قرض کے بوجھ کو ’’ خوشخبری‘‘ قرار دیئے جانے پر ابھی انگشت بہدندان تھے کہ خان صاحب تو وہ اس لئے اقتدار میں آئے تھے کہ قرضہ نہیں لینگے ۔ابھی خطاب سننے والے اسی مخصمے میں تھے کہ ٹی وی سکرین پر خان صاحب کا دہن بگڑااور وہ گویا ہوئے ۔
’’کان کھول کے سن لو ! میں کسی کو ’این آر او‘ نہیں دونگا‘‘
میرے ذہن میں ان تمام اپوزیشن جماعتوں کے امیدواروں سے ہونیو الی ملاقاتیں گھوم گئیں جو بتاتے رہے کہ کس طرح انہیں ’’ یہ خاکی یہ تیرے پراسرار بندے‘‘بلا بلا کر جتوانے کا جھانسہ دیکر پی ٹی آئی کا ’’ پرنا ‘‘ کاندھے پر سجانے اور’’ ٹوپی ‘‘پہنانے کو کوشاں رہے ۔ حکومتی اتحاد میں جو بھان متی کا کنبہ اکٹھا ہوا وہ سب نیب مقدمات زدہ ہونے کے باوجود انتخابات جیتنے کے اہل ہی اس بنیاد پر قرار پائے کہ ’’ این آر او ‘‘ مل چکا تھا۔ حکمران جماعت پر فارن فنڈنگ کیس لئے انتخابات سے بہت پہلے اسی جماعت کے بانی نظریاتی کارکن اکبر ایس بابر نے عدالتوں سے الیکشن کمیشن تک مارے مارے پھر رہے ہیں مگر ’’نان سٹارکپتان‘‘ ابھی تک خود کو احتساب کے لئے پیش کرنے کو تیار نہیں۔
واضح کرتا چلوں کہ اکبر ایس بابر کوئی ایرا غیرا پی ٹی آئی کارکن نہیں جو چلتے چلتے اپنے سیاسی کپتان کے ساتھ سیلفی بنوا کر اتراتا پھر رہا ہو ۔ یہ وہی اکبر ایس بابر تھے جو جنرل ریٹائرڈ مشرف دو آمریت میں عمران خان کو متعدد بار ساتھ لیکر میرے دفتر آب پارہ اسلام آباد انٹرویو کروانے لاتے رہے۔ اس وقت اکبر ایس بابر عمران خان کے میڈیا ایڈوائزر بھی تھے۔ وہ انٹرویوز بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں ۔
ویسے تو وزیراعظم کے اپنے بنی گالا گھر کی غیر قانونی تعمیرات کو ریگولرائز کرنے کا عدالت عظمی کے ذریعے جو عمل ہوا وہ بھی حزب اختلاف سے تو تنقید کا نشانہ بنا ہی مگر بنی گالہ وزیراعظم ہاؤس کے اڑوس پڑوس میں آپریشن سے بے گھر ہونے والوں کی بددعاؤں سے بھی نہیں بچا جن کے گھر اسی بنیاد پر گرا دئیے گئے کہ وہ ریگولرائز طریقے سے تعمیر نہیں ہوئے تھے جس بنیاد پر وزیراعظم کا گھر بچادیا گیا۔ کے پی کے وزراء سے لیکر وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری تک کے پیچھے نیب والے لکیر ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔ مگرسب مسند اقتدار ہیں ۔
قومی اسمبلی میں منتخب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو نیب گرفتار کر لیتی اس کیس میں جس کی تحقیقات انہوں نے بحثیت وزیراعلی خود کروا کر بدعنوانی کے کا تعین کروایا ہو گرفتار کر لیا جاتا ہے ۔اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعت پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے سربراہ اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری اور انکی بہن فریال تالپورکو مشکوک اکاؤنٹس کے کیس ، جس میں وہ ملزم بھی قرار نہیں دیئے گئے انہیں نیب بار بار بلا کر عوام میں بدنام کرنے سے گریزاں نہیں مگر وزیراعظم کی اپنی بہن کی بیرون ملک جائیدادوں کے انکشاف پر نیب انہیں فون تک نہیں کرتا ۔ این آر او کس کو ملا عوام کو سمجھنے میں کوئی مشکل تو نہیں ؟
تبدیلی کا جو دعوی عمران خان لیکر آئے تھے اس پر انہوں نے خوب عمل کیا عوام کو دی گئی سہولتیں ختم دیں ۔آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے لئے سبسڈی ختم کردیں۔ نوکریاں دینے کے وعدے پر آئے مگر نوکریاں کتم کرنا شروع کردیں۔ سول اداروں کو عسکریوں کے ہاتھ دینا شروع کردیا۔ روپیہ ٹکا ٹوکری اور ڈالر مہان کر دیا۔ سو دن میں جنوبی پنجاب صوبہ بنانا تھا مگر پہلے سے موجود صوبوں کے حقوق پر ڈاکے کی سوچ غالب ہے۔ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے وسائل کم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔
آصف علی زرداری نے گذشتہ روز ہی اپنے خلاف ہونیوالی کارروائیوں کی وجہ اٹھارویں ترمیم کی واپسی پر راضی نہ ہونے کو قرار دیا ہے۔اور اٹھارویں ترمیم رول بیک کرنے والوں کی خواہش رکھنے والوں پر واضح کیا ہے کہ گرفتار کرنا ہے تو کر لومگر وہ چاہیں بھی تو اٹھارویں ترمیم رول بیک نہیں کر سکتے کیونکہ پنجاب ، بلوچستان ، اور سندھ کو اسی ترمیم کی وجہ سے مالی وسائل ملے ہیں اور پنجاب میں بڑے منصوبے مکمل ہو سکے ہیں۔ اسی روز ایک’’ اصطبلی صحافی‘‘ کا کالم بھی موقر اخبار میں شائع ہوا تھا۔ جس میں آصف علی زرداری کی گرفتاری کی تیاریوں کو اٹھارویں ترمیم سے منسلک کیا گیاتھا۔
’’ نان سٹار کپتانی حکومت ‘‘میں اٹھارویں ترمیم رول بیک کرنے کی جتنی’’ شدت ‘‘ہے میاں نواز شریف کی اتنی ہی لمبی’’ سیاسی عدت ‘‘ ہے ۔ گو کہ آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان پوری کوشش میں ہیں کہ وفاق کو مضبوط بنانیوالی اٹھارویں ترمیم کے خلاف ہونیوالے’’ طوفان تحرک ‘‘پر بروقت بند باندھ دیا جائے مگر مسلم لیگ ن کی قیاد ت بوجہ ابھی سیاسی عدت ختم کرنے کو تیار نہیں کہ شہباز شریف کی گرفتاری انکی’’ سیاسی حدت‘‘پر پانی ڈال گئی ۔ وجہ نواز شریف یہ بتا رہے کہ ابھی انکا شہباز اسیر ہے۔
اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کے لئے ترجمان ’’نان سٹار کپتان حکومت ‘‘فواد چوہدری دلیل دیتے ہیں کہ اٹھارویں ترمیم میں کچھ چیزیں بری ہیں جیسے اٹھارویں ترمیم کے باعث چاروں صوبوں میں ’’ پیناڈال ‘‘ کی گولی کا معیار برقرار نہیں رکھا۔ پیناڈال کی گولی سے ایک واقعہ یاد آگیا یقیناًیہ واقعہ حکومت کی اٹھارویں ترمیم کے ذریعے ’’ پیناڈول‘‘ کا پوری جدید ریاست مدینہ عمرانیہ میں یکساں معیار کرنے کی خواہش کے پس پردہ محرکات سمجھ آجائیں گے۔
یہ ان دنوں کا واقعہ ہے جب اٹھارویں ترمیم پر عمل درآمد ہوئے کچھ ماہ ہی گزرے تھے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے کیفے ٹیریا میں ساتھیوں کے ساتھ گپ شپ چل رہی تھی۔ ساتھ والی ٹیبل پر ایک سوٹ بوٹ کپڑے پہلے بزنس مینوں کا گروپ آ بیٹھا ۔ ٹیبل قریب قریب ہونے کی وجہ سے ان کی گفتگو سماعت سے ٹکرا رہی تھی۔ان کی گفتگو سے واضح تھا کہ اتفاقا پارلیمنٹ ہاؤس میں اپنے اپنے کام سے آئے تھے اور ملاقات ہوگئی سو چائے پینے کیفے ٹیریا آگئے۔
ایک بزنس میں نے دوسرے سے پوچھا ۔ سنائیں آپ کا میڈیسن کا کام کیسا چل رہا؟
وہ تو پیک اپ کردیا، اب سکن ( کھالوں) کی امپورٹ کررہے ہیں ۔ دوسرے نے جواب دیا۔
میڈیسن کا کام کیوں چھوڑ دیا؟ پہلے نے مزید استفسار کیا۔
یار پہلے ایک جگہ معاملہ طے ہو جاتا تھا اب اٹھارویں ترمیم کے بعد ہر صوبہ ، فاٹا اور کشمیر میں الگ الگ معاملات طے کرنے پڑتے ہیں۔ اب اتنی تو بچت نہیں کہ پانچ جگہ شئیرکریں۔ سو چھوڑ دیا ۔
یہ محض میڈیسن کمپنیوں کے بزنس کا معاملہ ہے اگر مزید سمجھنا ہو کہ اسے مرکزیت میں کیوں لانے کی خواہش ہے تو کسی میڈیسن کمپنی کے میڈیکل ریپ سے پوچھ لیں کہ میڈیسن کمپنیاں گلی محلوں اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں بیٹھے ڈاکٹروں پر انکی میڈیسن مریضوں کو تجویز کرنے کے عوض کتنا مال نچھاور کرتیں ہیں تو سمجھ آجائے گا کہ اس طرح کے کئی بزنس سے تقسیم ہونے والے کمیشنوں سے وفاقی حکومت محروم ہے اور یہ بھی سمجھ آجا ئیگاکہ’’ نان سٹارکپتان حکومت ‘‘کے لئے اٹھارویں ترمیم کیوں درد سر بنی ہوئی ہے جس کے لئے مرکز کو ’’ پیناڈول‘‘ کی ضرورت محسوس ہو رہی۔