تھر المیہ ، جواب الجواب سیاست اور بلاول بھٹوکا ادراک

پاکستانی سیاست کا یہ المیہ ہے اور خصوصا حکمران سیاسی جماعتیں ، وفاق میں ہوں یا صوبہ ایک ہی قسم کا رجحان اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہیں۔ خصوصا سوشل میڈیا کے دور میں جب ہر کس و ناکس آزادی سے رائے دینے کا حق حاصل کر چکا ہے ۔ اپنی حکمرانی کی خامیوں کو چھپانا ہے اور دوسروں کی خامیاں اچھال کر اصل معاملہ سے توجہ ہٹانا ، جو عوام کی بقاء تک کو خطرے سے دوچار کئے ہوئے ہو۔

سیاسی جماعتوں کے نوجوان کارکنوں میں تسلسل سے ابھارا جانے والا زیر بحث رجحان پروان چڑھانے والے سیاسی جماعتوں کے وہی شاہ سے زیادہ شاہ سے وفاداری دکھانے والے کسی بھی معاملے کی سنگینی اور عوام کو درپیش بدترین تکالیف کو لایعنی بحث میں الجھا کراپنی سیاسی قیادت اور جماعت کی عوام میں ساکھ کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔

تھر کے معاملے کو ہی لیں ۔ تھر میں رواں برس خشک سالی کی قدرتی آفت نے اس صحرا میں بکھری آبادی کو شدید متاثر کیا۔ بارشیں نہ ہونے سے صرف صحرائے تھر ہی نہیں بلوچستان کے کئی اضلاع بھی متاثر ہوئے میں سیاست کا محور پیپلزپارٹی ہونے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ ہمیشہ کی طرح سندھ حکومت کی کارکردگی ہی بنی۔

ا س میں کوئی شک نہیں کہ تھر میں پیپلزپارٹی کے گذشتہ دور میں ترقیاتی کام ہوئے اور یہی وجہ رہی کہ انتخابات میں پیپلزپارٹی کے امیدوار ریکارڈ ووٹوں سے کامیاب بھی ہوئے گو کہ اس میں پیپلزپارٹی کی جانب سے امیدوار وں کا انتخاب بھی مقامی ووٹروں کو اپنی جانب راغب کرنے میں اہم رہا۔ مگر اس کامیابی کے تناظر میں سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکمرانی کو بہترین تر ین نہیں تو اس کی وجوہات بھی ہیں۔

صوبہ سندھ کو میسر وسائل ،مسائل اور مسائل حل نہ ہونے کی وجوہات کا موازنہ کرکے ہی صحیح صورت حال کا ادراک ممکن ہوسکتا ہے ۔ سندھ میں بھی ویسے ہی سیاسی جماعتیں ، ادارے اور چلانے والے ہیں جیسے پورے پاکستان میں،اس انفراسٹرکچر میں کام کرنے والوں میں وہی خامیاں ہیں جو پورے پاکستان کے ادارے چلانے والوں میں ہیں ۔کرپشن اور لاپرواہی کا عنصر بھی یقیناًموجود ہے۔

اب کیا کیا جائے گذشتہ ستر برس کی حکمرانی کی تاریخ میں سیاسی اور ریاستی ادارہ جاتی بدعنوانی میں تسلسل سے بڑھتا ہوا رجحان سب ہر جگہ یکساں ہے ۔ سیاسی جماعتیں ہوں یا ریاستی ادارے ، سیاسی حکومتوں کو مشورہ دینے والے عوامی مسائل کی وجوہات سے توجہ ہٹا کر خود کو احتساب کی زد میں آنے سے بچانے کے لئے تنقید و الزامات اورجواب الجواب میں الجھانے کے رجحان کو بڑھاوا دیتے ہیں۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری انتخابات 2018ء سے پارٹی کا اسٹیئرنگ سنبھال چکے ہیں۔
پیپلزپارٹی کی سندھ میں گورننس کو مخالفین تنقید کا نشانہ بنائے رہے۔ گذشتہ دس سالہ سندھ حکومت میں سب سے بڑا مسئلہ جو درپیش رہا وہ امن وامان اور خصوصا تھر کا معاملہ تھا۔ پیپلزپارٹی کی سابق حکومت میں تھر میں پیپلزپارٹی نے کئی منصوبے شروع کئے۔ پانی کی فراہمی سے لیکر شاہراہوں اور صحت کے منصوبے بنائے۔

حالیہ تھر کی صورت حال پیدا ہونے کے بعد اول اول تو پیپلزپارٹی سندھ حکومت کے وزراء نے روایتی انداز میں معاملہ کے پس پردہ رکھنے کی کوشش کی مگر میڈیا میں جب ادارئیے تک شائع ہونے لگے تو پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے خود تھر کے معاملہ پر ایکشن لیا۔ وزراء کی خود مانیٹرنگ شروع کی اب اندرون سندھ موجود خامیوں اور مسائل کا حل کے اقدامات ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دفتروں میں بیٹھے وزراء تھر کی صورتحال خود جانے بغیربیوروکریسی کی بریفنگ پر اور مسائل پر سیاسی بیانات دینے والوں کو خود میدان میں جانا پڑا۔

آج اگر صوبائی وزیر ناصر شاہ حقائق کا ادراک رکھتے ہوئے یہ اعتراف کرتے ہیں کہ تھر میں پانی کی فراہمی کے منصوبوں میں تیس فیصد بوجہ بند ہیں تو اس کو تسلیم کرنے میں کوئی ہزیمت نہیں کہ ستر فیصد پانی کی فراہمی کے منصوبے بہر حال تھر کے عوام کو سہولیات فراہم کررہے ہیں۔ یقیناًخامیوں کے ادراک کا رجحان ہی بہتری کا باعث ہوگا تو یہی تھر وہ جنت بنے گا جو پیپلزپارٹی کے نوجوان چیئرمین کی سوچ ہے۔

ہفتہ کے روز وزیرمحنت مرتضے بلوچ نے کلثوم بائی والیکا ہسپتال کراچی کا دورہ کیا تو صفائی، مریضوں کو دئیے جانے والے غیر صحتمند کھانے اور عملے کی ناقص کارکردگی اور مریضوں سے رویہ دیکھ کر لال پیلے ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ وزیرمحنت صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ کو معاملات درست نہ ہونے کی صورت میں سخت ایکشن کا عندیہ دیدیا۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی سندھ حکومت کے معاملات کی مانیٹرنگ کا نتیجہ ہی ہے کہ گذشتہ دس سالہ حکمرانی میں جو نہیں ہوا ،اب ہونا ممکن ہور ہا۔ سندھ حکومت تھر ، اندرون سندھ کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی دور کرنے کیلئے اقدامات لیتی دکھائی دیتی ہے۔ سندھ حکومت ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی پورا کرنے کیلئے 1500ڈاکٹروں کی بھرتی کا فیصلہ ہوا ہے۔

تھر کے قحط زدہ علاقوں میں گو کہ ادارہ جاتی کرپشن کے باعث کچھ کرپٹ اہلکاروں کے ہاتھوں گندم بیچے جانیکے واقعات یا گندم بوریوں سے چوری کرکے ریت بھرنے کے واقعات سامنے آئے تو اس کا مطلب یہ نہیں سب کرپشن کی نظر ہو گیا۔یقیناًایسا گذشتہ برسوں میں بھی ہوا اور تھر بحران میں کئی ٹن گندم گوداموں سے چوری پکڑی بھی گئی جس میں محض ایک نچلی سطح کے سرکاری اہلکارکو قربانی کا بکرا بنا کر معاملہ گول کر دیا گیا۔ یہ چوری ہونے والی گندم کہاں گئی کس نے خریدی اور پھر کہاں بکی یہ تحقیق کرنا یقیناًپارٹی اور سندھ حکومت کے مفاد میں ہوگا کہ حکومت سندھ کے ماتحت اداروں کے کرپٹ اہلکاروں کی طرح پارٹی میں موجود ایسے عناصر کی بھی بیخ کنی پیپلزپارٹی کے مفاد میں ہوگی جو پارٹی کی بدنامی کا باعث بنتے رہے۔

وفاق میں حکمران انصاف کے دعویدار حکمرانوں کا کردار تھر کے بحران پر سیاست کرنے سے زیادہ کوئی کردار سامنے نہیں آیا ۔ یہ کردار عوام سے ڈھکا چھپا نہیں کہ تھر میں قحط سالی سے متاثرین کی حالت زار پر صرف تنقید کے نشتر چلانے کی سیاست کرکے گندم افغانستان بھجوانے والوں کے برعکس سندھ حکومت نے تھر کے قحط زدہ عوام کو مفت گندم فراہم کی۔

وزیراعظم عمران خان ہر جلسہ اور حکمران بننے کے بعد بھی تقریرکی حد تک پاکستان کو جدید ریاست مدینہ بنانے کاعندیہ دیتے ہوئے کسی کتے کے مرنے پر بھی حکمران کو ذمہ دار قراردیتے تو ہیں مگر انکی عملی گورنرسندھ اور وفاقی حکومت کے نمائندوں کے دورہ تھرکی تصاویر سے عیاں ہوگئی۔ پیاسے تھر میں پانی ،خوراک اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے وفاق کاکوئی کردار سامنے نہیں آ سکا۔