فیس بک پیج سے منسلک ہوں

آئی ایم ایف ، این ایف سی ایوارڈ اور’ یوٹرن ‘حکومت

سو دن میں تاریخی تبدیلیاں لانے کا ایجنڈا رکھنے والی تحریک انصاف حکومت کے پہلے پچاس روزہ دور اقتدار میں اتنے یوٹرن لئے کہ اب سو دن کا ایجنڈا ، سو یوٹرن کے ایجنڈا میں عملی طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ گذشتہ ہفتہ کے دوران پی ٹی آئی نے یو ٹرن لینے کا سلسلہ جاری رکھا۔
تحریک انصاف کی حکومت کے گذشتہ ’ہفتہ اقتدار ‘میں بدھ کادن اہم رہا ۔سنتے رہے ہیں کہ ’’بدھ کام سدھ ‘‘۔ شائد حکومت کی فاعل نکالنے والے نے یہی بتایا ہو گا ۔ اسی لئے ایک ہی دن میں یو ٹرن کی ہیٹ ٹرک کی گئی ۔ لئے گئے یو ٹرنوں سب سے نمایاں یو ٹرن احتساب اور مزاحیہ ترین آئی ایم ایف مہم بارے رہے۔

گذشتہ ہفتہ میں وزیر اعظم اورحکومتی وزرا ء کی چیئرمین نیب سے خفیہ اور اعلانیہ ملاقاتوں اور ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی حکومت کی جانب سے کرپشن الزامات میں گرفتار اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے قومی اسمبلی اجلاس میں انکشافات اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے حکومتی احتساب کو غیر منصافانہ قرار دینے کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری احتسا ب کے ادارے کی کارکردگی پر یوٹرن لیتے ہوئے نیب قوانین میں اصلاحات لانے کے عندیہ دیتے دکھائی دیئے۔ شہر اقتدار کی غلام گردشوں میں ایک حکومتی وزیر کے جلد نیب کی زد میں آنے کی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ پر اپنے دفتر اور گھر کی تزئین و آرائش کا معاملہ بھی ایف آئی اے کے زیر تفتیش ہے ۔ تاہم ایک وزیر پر الزام کی ماتحت ادارہ کیاتفتیش کریگا ؟ ایسی تفتیش و تحقیق میں شفافیت ندارد ۔

گذشتہ منگل کو وزیر اعظم عمران خان نے اپنے برطانوی شہریت کے حامل قریبی دوست جہانگیر المعروف چیکو کو معاون خصوصی برائے بیرونی سرمایہ کاری تعینات کیا مگر شومئی قسمت کہ وزیر اعظم کی قسمت میں ایک اور یوٹرن لکھا ہوا تھا۔ سپریم کورٹ نے بدھ کو مسلم لیگ ن کے دور سینیٹرز سعدیہ عباسی اور ہارون اختر کو دوہری شہریت کی بنیاد پر نااہل قرار دے دیا۔ پھر کیا تھا لمحوں میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے بیرونی سرمایہ کاری جہانگیر المعروف چیکو کا موڈ بگڑ گیا اور انہوں نے وزیر اعظم سے عہدہ قبول کرنے سے معذرت کرلی یا ان سے کروا لی گئی۔

سب سے مضحکہ خیز یو ٹرن وزیراعظم کا یہ بیان قرار پایا کہ شائد آئی ایم ایف کے پاس قرضے کے لئے نہ جانا پڑے۔ یہ بھی بدھ کے ڈھلتے لمحوں میں ہی چمتکار ہوا جب ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی مٹی پلید کئے جانے کے بعد یہ خبریں گرم تھیں کہ وزیر خزانہ اسد عمر باضابطہ طور پر آئی ایم ایف کو پندرہ بلین ڈالر قرضہ کی درخواست کر چکے ہیں۔وزیراعظم نے یہ عندیہ بھی دیا کہ دوست ممالک سے رابطے کررہے ہیں۔ آئی ایم ایف قرضے کے بدلے سخت شرائط رکھ رہی ہے جس میں صوبوں کے این ایف سی ایوارڈ میں حصے پر نظرثانی کرتے ہوئے کمی شامل ہے ۔ آئین کے تحت صدر مملکت کو اختیار حاصل کہ وہ قابل تقسیم پول کو از سرنو ترتیب دے سکے۔ تاہم صوبے این ایف سی ایورڈ میں کسی ردوبدل کو آئین کے منافی قرار دے رہی ہے کہ آئین میں صوبوں کے حصے میں اضافہ کئے جانے کا آپشن موجود ہے کمی کا نہیں ۔ تاہم اب وفاقی حکومت آئی ایم ایف کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے میں کمی کا اقدام اٹھانے کیلئے فاٹا کے لئے تین فیصد فنڈزکی فراہمی کو جواز بنا رہی اور باقی صوبوں کے فنڈز سے کٹوتی کا عندیہ دے رہی ہے۔ جس پر پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت کی جانب سے مزاحمت سامنے آرہی ہے۔ فاٹا کے لئے فنڈز کی فراہمی کو متنازعہ بنا کر پی ٹی آئی  فاٹا کے پی کے انضمام کوتاخیر کا شکار کرنے کی پالیسی پر گامزن دکھائی دیتی ہے-جو پی ٹی آئی کا ایک اور یو ٹرن ہے -

وزیراعظم کی جانب سے آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا امکان ظاہر کرنے کے اگلے روز جمعرات کووزیراعظم عمران خان اور ملائیشین ہمنصب مہاتیر محمد کے ٹیلی فونک رابطے کی خبر آئی مگر خبر جاری کرنے میں ہی’ یو ٹرن ‘ کو پروٹوکول سمجھتے ہوئے ملحوظ خاطر رکھا گیا۔ سپریم کورٹ سے صادق اور امین قرار پائے وزیراعظم کی جانب سے جاری ایک بیان میں قوم کو آگاہ کیا کہ ملائیشیا کے نومنتخب وزیراعظم مہاتیر محمد نے انہیں ٹیلی فون کیا اور وزیر اعظم بننے پر مبارکباد دی اور ملائیشیا کے دورے کی دعوت دی۔ ٹی وی چینلز پر اس خوشخبری کی ابھی بازگشت برقرار تھی کہ ملائیشین دفتر خارجہ نے اس حقیقت کھول کر بتا دی۔ ملائیشن وزارت خارجہ نے بیان جاری کیا کہ پاکستان کے وزیراعظم نے انکے وزیراعظم مہاتیر محمد کو فون کیا تھا اور جلد سے جلد انکے ملائیشیا دورہ اور ملاقات کی درخواست کی تھی۔ واضح رہے کہ مہاتیر محمد نے اقتدار میں آتے ہی چین سے کئے 20ارب ڈالر کا ریلوے لائن بچھانے کے معاہدے ختم کر دئیے تھے۔

پاکستانی وزیراعظم کی ٹیلی فون کال بارے حقیت سامنے لاکر’ سفارتی بدتہذیبی ‘ کاسلسلہ جو امریکی وزیر خارجہ کی فون کال سے شروع ہوا ملائیشیین وزیراعظم تک پہنچ گیا۔تحریک انصاف کے کارکن تو سوچ رہے ہونگے کہ اب پتہ نہیں ملائیشین سربراہ حکومت اور وزارت خارجہ صادق اور امین رہی یا نہیں ؟یا ملائیشیا کی سپریم کورٹ کا چیف جسٹس اس پر مہاتیر محمد یا ملائیشین وزارت خارجہ حکام کیخلاف سوموٹو نوٹس لے گا یا نہیں ؟

وزیراعظم عمران خان کے رواں ماہ کے آخر میں سعودی عرب کے ایک اور دورے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ قبل ازیں گذشتہ ماہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ ریاض کے بعد سعودی عرب کا ایک اعلی سطحی وفد اسلام آباد آیا تھا تو حکومت کی جانب سے بہت بڑی سعودی سرمایہ کاری گوادر او ر ادھار پر سعودی تیل پاکستان آنے کا عندیہ دیا گیا مگر بعد ازاں سعودی عرب حکام کے سرمایہ کاری بارے خبروں کی سچائی سامنے آنے پر حکومتی وزراء یوٹرن لیتے دکھائی دئیے۔

استنبول کے سعودی سفارتخانے میں صحافی جمال خوشجگی کے قتل میں سعودی اعلی شخصیت کے ملوث ہونے بارے امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد سعودی حکومت شدید دباؤ میں دکھائی دیتی ہے ۔ امریکی قیادت پاکستان کو قرضے بارے آئی ایم ایف کو پہلے ہی عندیہ دے چکی ہے اور جب سعودی اور کویتی وفود پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے اسلام آباد میں موجود تھے تو امریکی صدر ٹرمپ کی سعودی حکمران محمد سلمان کو واضح الفاظ میں کہا تھا کہ’’ بادشاہ تمہیں کہا تھا کہ تمہاری حکمرانی ہماری وجہ سے قائم ہے اور ہماری حمایت کے بغیر تمہارا دو ہفتے اقتدار باقی نہیں رہ پائے گا‘۔ اور پھر سعودی وفد کی پاکستان میں سرمایہ کاری بارے عدم دلچسپی کی خبروں میں یہ دورہ تحلیل ہو گیا۔

اب جبکہ سعودی حکمران جمال خوشگی قتل کے معاملہ پر امریکی صدر کے زیر عتاب دکھائی دے رہے ہیں وزیراعظم عمران خان کا دورہ کس حد تک کامیاب رہتا ہے یا اس دورے بارے بھی جلد کوئی یوٹرن سامنے آتا ہے۔