اقتصادی دہشتگرد کون، احتساب کس کا؟

نیا پاکستان بن رہاہے پرانا پاکستان کرپٹ قرار دیا جا رہا ہے ، بتایا جا رہا خزانہ لٹ چکا اوراب لوٹنے والوں کا کبھی سعودی اور کبھی چینی ماڈل کے ذریعے بدعنوان سیاستدانوں سے لوٹی ہوئی دولت نکالنے کی نوید سنائی جا رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر WhoIsEconomicTerrorist# کے عنوان سے پاکستان کے عوام کا نفسیاتی آپریشن کیا جارہا ہے عوام کو باور کرایا جا رہا ہے ذہنوں میں بٹھایا جا رہا ہے کہ ماضی کی مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی حکومتیں عالمی اداروں سے قرضے لوٹ کر عوام اور پاکستان کوبدحال بناتی رہیں۔

اعلی عدلیہ سے بھی ایسے ہی ریمارکس آ رہےکہ ” اب قبروں سے نکال کر احتساب کرنیکا وقت آگیا ہے”۔

پارلیمنٹ کی احستابی کمیٹی جیسے پبلک اکاونٹس کمیٹی کہتے ہیں اس کی سربراہی حکومت اپنے پاس اس لئے رکھنا چاہتی ہے کہ سابقہ حکومتوں کا خود احتساب کرسکے۔ اپوزیشن کو اس لئے کمیٹی کی سربراہی نہیں دینا چاہتی کہ سابقہ حکومتوں میں وہی رہے تو اپنا ہی احتساب کیوں کر کریں گے؟

وزیراعظم کا اپنا گھر اگر غیرقانونی تعمیرات کا حامل پایا جاتاہے تو ریلیف کا مستحق پاتا اورغریب جو گھر نہ بنانے کی سکت ہونے کے باعث کسی خالی جگہ نالے کے کنارے بلدیہ کے اہکاروں کو دو پیسے رشوت دیکر کچا مکان بنا بیٹھا تھا تو ریاست و عدالت سے قبضہ مافیا قرارپاتا۔ نیا پاکستان بنانے والے ہرصورت احتساب کرنیکا نعرہ لگا رہے ہیں۔

عدالت کا جج اگر محکمہ میں بے ضابطگیوں سے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا مرتکب ہوتا تو اول تو احتساب کا عمل ہی ندارد اگر کوئی شکایت درج بھی ہو جائے تو ریٹائرمنٹ کی حدوں کو چھونے تک معاملہ ہی زیر غور نہیں آتا اور آ بھی جائے تو عدلیہ کا ایسا کمال احتساب کا اپنا نظام ہے کہ الزام اڑن چھو ہو جاتا۔ نیا پاکستان بنانے والے پھر بھی ہرصورت احتساب کرنیکا نعرہ لگا رہے ہیں۔

بعین معاملہ مقدس سمجھے جانے والے قومی سلامتی کے اداروں کا کہ افسر پر الزام ہو تو کیس عدالت یا تفیش کاروں کی فائلوں میں ایسے ہی گم رہتا جیسے ملک میں لاپتہ افراد کہ کہیں ہوتے تو ہیں مگر نظروں سے اوجھل اور الزام زدہ افسر ملکی حدود سے ہی نکل جاتا کہ احتسابی قانون کے حدود میں ہی نہ رہے۔ نیا پاکستان بنانے والے پھر بھی ہرصورت سیاستدانوں کے احتساب کرنیکا نعرہ لگا رہے ہیں۔

بات شروع ہوئی تھی پرانا پاکستان لٹنے سے۔۔ ایک قائد اعظم کا پاکستان تھا جو 1947 میں بنا اور 1971ء میں لٹ کٹا مگر الزام ایک سیاستدان پر لگا کر معاملہ گول ہو گیا۔ اس کے ذمہ داروں پر ایک حمود الرحمان کمیشن رپورٹ شائع ہو چکی۔ اس رپورٹ کا تو کچھ نہیں ہوا ۔ تاہم اس رپورٹ میں شامل کرداروں کی آنندہ نسل آج اقتدارکے سنگھاسن پر براجمان دکھائی دیتی ہے۔  نیا پاکستان بنانے والے پھر بھی ہرصورت سیاستدانوں کے احتساب کرنیکا نعرہ لگا رہے ہیں۔

بات قومی خزانے اور وسائل کو لوٹنے کی تھی ، اقتصادی دہشتگردی کی تھی ، سونیا پاکستان بنانے والوں نے پہلے ساٹھ دنوں میں ان کا کھوج لگا لیا۔ ملکی رقبہ لوٹنے والے غریبوں کے گھر اور جگہ جگہ روزگار کمانے کے لئے لگائے ٹھیلے ، ڈھابے اور کھوکھے اکھاڑ پھینکے۔ سابق حکومتوں نے جو قومی خزانے سے سسبڈی کی صورت بجلی کم قیمت میں فراہم کرکے عوام کو لوٹ مار میں شریک کیا تھا وہ سود سمیت واپس لینے کا اعلان کردیا اب عوام پچھلے برسوں کے بل بھی ادا کرینگے۔  سیاستدانوں کا احتساب ہونا چاہئیے کہ انہوں نے اقتصادی دہشتگردی کی۔

اب ایسا بھی نہیں ہے کہ سیاستدان لوٹ مار نہیں کرتے ۔ یہ لوٹ مار آئی ایم ایف کو بھی دکھائی دیتی ہے اور اسی لئے بار بار انہیں لوٹ مار کے لئے قرضے دیتے رہے مگر یہ سیاستدان ہی معاشی دہشتگرد تھے جنہوں نے لوٹ مار کی۔ آئی ایم ایف جو کہتا رہا کہ ٹیکس لگاءو وہ معاشی دہشتگردی تھوڑی وہ تو اس کا کاروبار ہے۔

سعودی حکمران ہوں یا چینی پاکستان ریاست میں ہمیشہ کردار ادا کرتے رہے۔ سعودی حکمران کی ایمانداری پر سوال تو خیر اٹھانا ہی ممکن نہیں کہ غیر شرعی ہونے کا فتوی بھی آسکتا، چین کی کیمونسٹ پارٹی کے اعلی عہدیداروں کی کرپشن کی کہانیاں دنیا میں زبان زد عام ہیں۔ اب پتہ نہیں یہ کیمونسٹ پارٹی پاکستانی سیاستدانوں کو کیا چورن بیچتی پھر رہی آج کل اسلام آباد میں، کوئی حکمران ہو یا اپوزیشن سیاسی جماعت، ہونے والے باہمی معاہدوں کی بھنک بھی نہیں پڑنے دے رہی جیسے سی پیک معاہدوں کی نہیں پڑنے دی تھی۔ جس کا نتیجہ سولہ بلین ڈالر کے تجارتی خسارے کی صورت نکلا۔ اسے کون اقتصادی دہشتگردی کہنے کی جرات رکھتا؟ ہاں مگر چینی قرضے سیاستدانوں نے لئے ان کا احتساب ہونا چاہئیے کہ انہوں نے اقتصادی دہشتگردی کی۔

خیر معاملہ تو لوٹا ہوا مال برآمد کرنے کے مشن کا ہےجس کے لئے اقتدار میں بیٹھے عمران خان کو قومی سلامتی کے اداروں کی بھی سپورٹ حاصل ہے۔ وہ الگ بات کہ امریکی صدر ٹرمپ بھپتی کستے ہوئے بار بار کہہ رہا ” پیسے لئے تو کام بھی کرو”۔ خیر وہ اپنی صفائی خود دیتے پھر رہے اور جس پیسے کی ٹرمپ بات کر رہے وہ کبھی قومی خزانہ کا حصہ بنے یا نہیں پارلیمنٹ یا عوام کو تو پتہ نہیں۔ نیا پاکستان بنانے والے پھر بھی ہرصورت سیاستدانوں کے احتساب کرنیکا نعرہ لگا رہے ہیں۔