بھٹو کے’ خواب بینظیر ‘ کی تعمیر کا سوال !

پاکستان پیپلزپارٹی اکیاون برس کی ہونے کو ہے۔ پاکستانی سیاست کی روایت پیپلز پارٹی کے بھٹو ازم فلسفے، اور ’روٹی کپڑا اورمکان’ کے نعرے نے عام پاکستانی کو اس حد تک متاثر کیا کہ آج تک اس کی تاثیر سماج میں موجود ہے۔ستر کی دہائی سے پاکستانی سیاست بھٹو اور اینٹی بھٹو میں منقسم چلی آرہی ہے۔حتی کہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف میں ہونے والا’ میثاق جمہوریت‘۔ جس پرکم وبیش تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے ملکی سیاست کی ریاضیات میں اس تقسیم کو جمع میں تبدیل نہیں کرسکا۔

ساٹھ کی ہنگامہ خیز دہائی میں بین الاقوامی اور ملکی سطح پر وقوع پذیر ہونے والے واقعات اور حالات ایوب خان سے ناراض ہوکر مستعفی ہونیوالے وزیر خار جہ ذوالفقارعلی بھٹو کیطرف سے ایک نئی سیاسی پارٹی بنانے کے قطعاً موافق وموزون تھے۔ ساٹھ کی دہائی میں پاکستان میں بائیں بازو کی مضبوط تحریک جس کو ایوب خان نے حسن ناصر جیسے لیڈروں کو رات کی تاریکی میں قتل اور نیپ کی قیادت کو گرفتار اور سیاسی سرگرمیوں پابندیوں سے ختم کرنے کی کوشش کی تھی اس کے بھرپور اثرات موجود تھے۔

ہندوستان پاکستان جنگ کے خاتمے پر تاشقند معاہدے پر عوام کا ردعمل، ایوب خان کی آمریت کیخلاف چھوٹے بڑے سیاسی گروپوں، پارٹیوں، طالبعلموں اور مزدوروں کی بڑھتی ہوئی بے چینی اور ابھرتی ہوئی تحاریک، مہنگائی اور ریاستی جبر، ون یونٹ کی عوامی سطح پر مخالفت، پاکستان سے باہر عرب اسرائیل جنگ، ویتنام جنگ اور اسکا امریکہ اور دنیا بھر میں ردعمل، بائیں بازو سمیت نت نئے سیاسی اور سماجی نظریات، بھٹو کے اپنے آبائی صوبے سندھ اور مشرقی بنگال میں اٹھتی ہوئی قوم پرستانہ طلبہ اور متوسط طبقے میں لہر پرذوالفقار علی بھٹو کی اپنی سحر انگیز شخصیت، لفاظی اور انداز خطابت نے رنگ جما لیا تھا ۔

یہ اور بات ہے کہ کل کے داس کیپٹل پڑھے جو اب خود ’سیٹھ کیپٹل داس‘ بنے بیٹھے ہیں ، یہ کہتے رہے کہ پاکستان میں ’حقیقی انقلاب‘ کا راستہ روکنے کو بھٹو اور انکی پیپلزپارٹی کو میدان میں لایا گیا تھا۔

حقیقتا- ایوب خان اس وقت بائیں بازو کی جماعتوں کو انقلاب کے راستے سے پاکستانی قوم کو تقسیم کے عمل کے ذریعے ہٹا چکا تھا مگربھٹو نے مغربی پاکستان میں اس تحریک سے متاثر عوام اورمتحرک رہنماووں سے مل کر نئی سیاسی جماعت کی کامیابی کا ادراک کر لیا ۔

سابق پاکستانی سفاتکار اور سوشلسٹ سوچ رکھنے والے جے اے رحیم ہی تھے جنہوں نے بھٹو کی پارٹی کا منشور لکھا۔ ایک سخت روایتی پاکستانی معاشرے میں بھٹو نے سوشلزم کو اسلامی رنگ میں ’روٹی کپڑا اور مکان‘ کے پرکشش نعرے کی صورت قابل قبول بنایا۔ پاکستانی سیاست کو پہلی بار چودھری کے ڈیرے اور وڈیرے کی اوطاق، خان اور ملا کے حجرے سے نکال کر بھاٹی چوک، لیاقت پارک، ککری گراؤنڈ, موچی دروازے اور دھوبی گھاٹ تک لے آیا۔

انیس سو ستر کے انتخابات کے نتائج میں پیپلز پارٹی تب کے مغربی پاکستان میں سب سے اکثریتی پارٹی کی صورت جیت کر ابھری ۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ ذوالفقارعلی بھٹو کے اسٹیبلشمنٹ سے کمپرومائزبڑھتے گئے۔مگر فوج نے ذوالفقار علی بھٹو کو تمام کمپرومائز کرنے کے باوجود نئے بین الاقوامی منظر نامے میں جہاں امریکہ کو روس کیخلاف پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے مل کر پاکستان کو فرنٹ لائن سٹیٹ بنا کر نئی جنگ لڑنی تھی پاکستان میں طاقت کے توازن کی تشکیل نو کرنی تھی وہاں ذوالفقار علی بھٹو مس فٹ تھا اور پھر بھٹو کو ختم کر دیا گیا مگر پیپلزپارٹی ختم نہیں ہو سکی ۔ وہ منشوراورپارٹی جس میں عوام کے ہزاروں نفوس کا خون شامل ہو چکا تھا کیسے ختم کی جاسکتی تھی۔

گو کہ انیس سو ستر کے انتخابات سے لیکر آج تک پیپلزپارٹی احباب کی بے وفائیوں اور حالات کے جبر میں کمپرومائز کرتی رہی مگر عوام ضیاء سے لیکر مشرف آمریت اور اب  تک جبر کیخلاف بڑی لڑائی لڑتے آئے اس منشور کیلئے جس میں روٹی کپڑا اور مکان کی صورت میں فلاحی ریاست کا خواب موجود تھا جہاں ہر انسان کی حرمت انسانیت کی بنیاد پر محفوظ ہو گی۔

1978 میں ضیائالحق کی ایما پر معروف صحافی کے ایچ برنی نے بھٹوشہید پر قرطاس ابیض کی متعدد جلدیں مرتب کیں لیکن بھٹو پر کسی قابل ذکر مالی بدعنوانی کا الزام نہیں عائد کر پائے۔ پاکستان کی بدلتی ہوئی سیاسی کثافت کا ایک اشاریہ یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی کے گزشتہ دونوں ادوار میں نچلے درجے کی قیادت سے لے کر بینظیر بھٹو شہید اور صدر آصف علی زرداری تک مالی بدعنوانیوں کے ان گنت الزامات سامنے آئے مگر نتیجہ ایسا ہی ہے جیساکہ ذوالفقار علی بھٹو پر الزامات کا ہوا۔

تاحال یہ سلسلہ جاری ہے کہ مقتدر حلقوں کا یہ سیاسی قیادتوں کو عوام میں غیرمقبول بنانے کا قیام پاکستان سے ہی رائج حربہ رہا۔ تاہم انفرادی طورپر کہیں پارٹی میں بدعنوانی ہونا خارج از امکان نہیں ہوتااور ایسے افراد ہی  پارٹی کو امتحان ڈالتے رہے۔

سنہ دوہزار دو کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کے منتخب ارکان اسمبلی نے پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی پیڑیاٹ قائم کی اور مسلم لیگ قاف کو حکومت بنانے میں مکمل مدد اور تعاون فراہم کیا۔پیپلز پارٹی پیڑیاٹ اور پیپلز پارٹی شرپاؤکے انضمام کے بعد اس جماعت کوپاکستان پیپلز پارٹی کے نام سے رجسٹر کرایا گیا تھا تاہم بعدازاں آفتاب شرپاؤ کے سوا پیپلز پارٹی پیڑیاٹ مسلم لیگ قاف میں شامل ہوگئی۔

بینظیر بھٹو نے پیپلز پارٹی پیڑیاٹ اور پیپلز پارٹی شرپاؤ انضمام کے بعد اس جماعت کو پیپلز پارٹی کے نام سے رجسٹر کرنے کے اقدام کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جس پر سندھ ہائی کورٹ نے پیپلز پارٹی پیڑیاٹ اور شرپاؤ گروپوں کے انضمام کرکے انہیں پیپلز پارٹی کے نام سے رجسٹر کرنے کے اقدام کو کالعدم قرار دیا اور پیپلز پارٹی کا نام بحال کر دیا۔

پیپلزپارٹی نے محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد سن دوہزار آٹھ کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد مسلم لیگ ن، ایم کیو ایم، جے یو آئی ف اور عوامی نیشنل پارٹی سے ملکر حکومت بنائی مگر جلد ہی مسلم لیگ ن اقتدار سے الگ ہو گئی اور اپوزیشن بن بیٹھی۔ اقتدار کے پانچ ادوار کے بعد پیپلزپارٹی کی عوامی سطح پر تنظیم کمزور ہو کر رہ گئی ۔ اب پیپلزپارٹی کی قیادت شہید بینظیر بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو کے ہاتھ سونپی گئی ہے مگر ابھی سیاست کا آغاز ہے اور امتحان بھی۔

پیپلز پارٹی اپنے قیام سے اب تک پانچ مرتبہ اقتدار میں آئی اور دو مرتبہ پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم بنے اور دو مرتبہ ان کی بیٹی بینظیر بھٹو کو اقتدار میں رہنے کاموقع ملاجبکہ پیپلزپارٹی کے پانچویں دور میں کوئی بھٹووزیراعظم نہیں تھا اور پیپلزپارٹی نے اسٹیبلشمنٹ سے محبت اور نفرت کے دوراہے پر اپنا پانچواں دور حکومت مکمل کیا اور انتخابات 2013میں شکست کے بعد مسلم لیگ ن کو انتقال اقتدار کیا ۔ مسلم لیگ ن کے پانچ سال کے دوران بھی پیپلزپارٹی کاکردار اپوزیشن سے زیادہ جمہوریت بچانے والی جماعت کا رہا۔

ایک روایتی اپوزیشن کا کردار نہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تحریک انصاف نئی سیاسی جماعت کے طور پر عوام میں منظم ہوئی اور ماضی کی طرح ایکبار پھر مبینہ طور پر مقتدر حلقوں کی آشیر باد سے اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھا دی گئی ہے۔

پچاس برس بعد اب پیپلز پارٹی تیر بھی ہے اور تلوار بھی 150 آصف علی زرداری کی سربراہی میں تیر کے نشان کے ساتھ پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی صورت اور بلاول بھٹو کی سربراہی میں دوہری تلوار کے نشان کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کی صورت 150 مگر اس تیر اور تلوار کو چلانے کے لٗئے کارکنوں کی فوج کم پڑ گئی ہے ۔ روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے کی روایت آج بھی عوام میں زندہ تو ہے مگر پیپلز پارٹی کی قیادت سے ہی سوال کی صورت !

دوہزار تیرہ اور حالیہ دوہزار اٹھارہ عام انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی کا ووٹ بنک سندھ اربن کے ساتھ ساتھ پنجاب ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں اس حد تک کم ہوا کہ اب پیپلزپارٹی اندرون سندھ اور کسی حد تک کراچی کی نمائندہ پارٹی بن کر رہ گئی ہے۔ حالیہ ضمنی انتخابات میں پنجاب ، کے پی کے اور بلوچستان میں پیپلزپارٹی نے بھلا اسی میں جانا کہ دوسری جماعتوں کی حمایت کرکے دوہزار اٹھارہ میں تنہا انتخابات میں اترنے کی غلطی کا کفارہ ادا کرتے ہوئے جیتنے کی پوزیشن رکھنے کے دوسری جماعتوں کے امیدواروں کو حمایت دی جائے مگر پکے جیالے اس پارٹی لائحہ عمل سے بھی حلقہ حلقہ بغاوت کرتے دکھائی دئیے۔

پیپلزپارٹی نے انتخابات سے قبل نئی رکنیت سازی مہم تو کی مگر اس کے نتائج کیا رہے ابھی تک منظر عام پر نہیں آسکے۔ تاہم پیپلزپارٹی کی قیادت اس سب صورتحال میں ایسے لائحہ عمل پر گامزن دکھائی دیتی ہے جس کے تحت نوجوان خون کو پارٹی میں شامل کیا جانا ہدف ہے جو ملک کا سب سے بڑا ووٹ بنک ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری نے عام انتخابات میں سب سے بڑے صوبے پنجاب میں نظریاتی سیاست واپس لانے کا اعلان کیا تھاجو کہ متعصابانہ اور مفاداتی سیاسی گروہوں کے شنکنجے میں ہے ۔ مگر بعین صورتحال پنجاب ہی نہیں پارٹی کی دوسری صوبائی شاخوں میں دکھائی دیتی ہے۔ کئی اہم اور حساس نظریاتی معاملات پر پارٹی کے منتخب نمائندے بھی متعصبانہ اور مفاداتی سوچ میں بغلیں جھانکتے دکھائی دیتے ہیں۔

انتخابات کے بعد پارٹی کی تنظیم نو کے لئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری متحرک اور یوتھ ونگز کو خصوصی توجہ کا مرکز بنائے ہوئے ہیں تاہم انہیں پیپلزپارٹی کو ماضی جیسی تابناکی دینے کے لئے بہت محنت درکار ہوگی۔ پارٹی کی تنظیم سازی اورکارکنوں کو عصرحاضر کے سیاسی تقاضوں اور نظریات سے آشنا اور ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہوگی۔

ٓذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے نظریات کوعصر حاضر سے ہم آہنگ کرنا اورنوجوان نسل تک پہنچانا ایک الگ سے بڑا چیلنج ہے ۔ ادھار کی ذہانت پر پالیسی سازی کے بجائے پارٹی کے اندر تھنک ٹینک اورنچلی سطح تک کے کارکنوں کو ملکی مسائل پر مباحثہ میں شامل کرکے ہی عصرحاضر کا نیا نظریاتی کارکن تیار کرکے پارٹی کھویا مقام بحال کرسکتی ہے۔