فیس بک پیج سے منسلک ہوں

ضمنی انتخابات:حکومتی جیت برقرار نہ رھی،اپوزیشن نےمیدان مار لیا

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/معظم رضا تبسم:ضمنی انتخابات میں حکومت عام انتخابات میں حاصل ہونے والی جیت برقرارنہ رکھ سکی ، اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان سمیت پی ٹی آئی کی خالی  کردہ نشتیں جیت کر ضمنی انتخابات کا میدان مار لیا-
ضمنی الیکشن 2018 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتاٸج  کے مطابق  پاکستان مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی کی 4 پی ٹی آئی 4 مسلم لیگ ق نے 2 جے یو آٸی نے 1 نشست جیتی جبکہ پنجاب اسمبلی کی 12 میں سے 5 ن لیگ 5 پی ٹی آئی 2 آزاد خیبر پختون خواہ 10 نشستوں میں سے پی ٹی آئی 7 اے این پی 2 پی ایم ایل 01 بلوچستان کی 2 نشستوں بی این پی 1 آزاد 1 سندھ کی 2 نشستوں پر پاکستان پیپلزپارٹی کامیاب ہوئی ۔
ملک کے 35 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بلاتعطل جاری رہا۔ قومی اسمبلی کے 11 اور صوبائی اسمبلی کے 24 حلقوں میں 370 امیدوار کے درمیان مقابلہ ہوا جس کے لیے 95 لاکھ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے۔
 ملکی تاریخ میں پہلی بار ضمنی  انتخابات میں انٹرنیٹ ووٹنگ ہوئی۔ 35 حلقوں کے 7364 سمندرپار پاکستانیوں کو انٹرنیٹ ووٹنگ کے تحت اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت تھی جن میں سے 5881 نے ووٹ کاسٹ کیا۔
ضمنی انتخابات میں 40 ہزار سے زائد پاک فوج کے جوان نے فرائض سرانجام دیے جب کہ ایک لاکھ سے زائد پولیس اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے فوجی جوان بھی پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر تعینات رہے- پنجاب میں قومی اسمبلی کی 8، سندھ، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں ایک ایک نشست پر الیکشنز ہوئے جب کہ پنجاب اسمبلی کی 11، خیبر پختونخوا کی 9، سندھ کی 2 اور بلوچستان کی بھی 2 نشستوں پر ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ ہوئی۔92 لاکھ 83 ہزار 74 ووٹرز کو حق رائے دہی کی سہولت دینے کے لیے ساڑھے 7 ہزار پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے۔ مختلف حلقوں کے1727 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا۔قومی اسمبلی کی 11 نشستوں پر پولنگ ہوئی جن میں 8 نشستیں پنجاب سے جبکہ ایک ایک نشست سندھ، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد سے ہے۔این اے 35 بنوں سے ایم ایم اے کے امیدوار زاہد اکرم درانی ایک لاکھ 45 ہزار ووٹ لے کر جیت گئے جب کہ ان کے مدمقابل آزاد امیدوار ملک عدنان خان نے 1 لاکھ 40 ہزار 258 ووٹ حاصل کرلیے۔ این اے 53 اسلام آباد سے پی ٹی آئی کے امیدوار علی نواز اعوان 50 ہزار 943 ووٹ لے کر جیت گئے۔این اے 56 اٹک سے (ن) لیگ کے امیدوار ملک سہیل خان کو برتری حاصل ہے جب کہ پی ٹی آئی کے امیدوار ملک خرم خان پیچھے ہیں۔این اے 60 راولپنڈی سے تحریک انصاف کے امیدوار اور شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق نے 44 ہزار 483 حاصل کرکے کامیابی حاصل کرلی جب کہ ان کے مدمقابل مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سجاد خان نے 43 ہزار 836 ووٹ حاصل کیے۔این اے 63 ٹیکسلا سے پی ٹی آئی کے منصور حیات خان 67 ہزار 422 ووٹ لے کر جیت گئے جب کہ (ن) لیگ کے امیدوار بیرسٹر عقیل 40 ہزار 278 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔این اے 65 چکوال سے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے امیدوار اور چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادے چوہدری سالک حسین جیت گئے جنہوں نے 98 ہزار 364 ووٹ حاصل کیے جب کہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے امیدوار محمد یعقوب 34 ہزار 811 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔این اے 69 گجرات سے (ق) لیگ کے امیدوا مونس الٰہی کو برتری  جب کہ (ن) لیگ کے امیدوار پیچھے رہے۔ این اے 103 فیصل آباد سے پی ٹی آئی کے امیدوار علی گوہر خان 76 ہزار 626 ووٹ لے کر جیت گئے جب کہ (ن) لیگ کے امیدوار محمد سعد اللہ 65 ہزار 583 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔این اے 131 لاہور سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سعد رفیق نے فتح حاصل کرلی، انہوں ںے 60 ہزار 352 ووٹ حاصل کیے جب کہ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے امیدوار ہمایوں اختر خان نے 50 ہزار 155 ووٹ حاصل کیے۔ این اے 124 لاہور سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار و سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی 75 ہزار 12 ووٹ لے کر فتح یاب ہوگئے جب کہ پی ٹی آئی کے امیدوار دیوان محی الدین 30 ہزار 115 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ خاقان عباسی نے اپنے امیدوار پر 45 ہزار ووٹوں کی سبقت حاصل کی۔این اے 243 کراچی سے پی ٹی آئی کے امیدوار اور فکس اٹ مہم کے بانی عالمگیر خان 35 ہزار 727 ووٹ لے کر جیت گئے جب کہ ایم کیو ایم کے امیدوار عامر ولی چشتی 15 ہزار 113 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔پنجاب اسمبلی کی 11 نشستوں پر الیکشن ہوئے جن میں سے پی پی 118 ٹوبہ ٹیک سنگھ سے آزاد امیدوار بلال اصغر 55 ہزار 316 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جب کہ پی ٹی آئی کے امیدوار اسد زمان 47 ہزار 834 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 164 لاہور سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سہیل شوکت بٹ 23 ہزار 727 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، پی ٹی آئی کے امیدوار یوسف علی 15 ہزار 102 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔پی پی 165 لاہور سے (ن ) لیگ کے امیدوار سیف الملوک 28 ہزار 589 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے پی ٹی آئی کے منشا سندھو 23 ہزار 149 ووٹ لے کر ہار گئے۔پی پی 201 ساہیوال سے پی ٹی آئی کے امیدوار صمصام علی شاہ بخاری 58 ہزار 280 ووٹ کے ساتھ فتح یاب ہوگئے اور (ن) لیگ کے امیدوار محمد طفیل 51 ہزار 662 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔پی پی 222 ملتان سے آزاد امیدوار قاسم عباس خان 38 ہزار 539 ووٹ لے کر جیت گئے ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے امیدوار سہیل احمد نون نے 31 ہزار 990 ووٹ حاصل کیے۔پی پی 261 رحیم یار خان سے پی ٹی آئی کے امیدوار فواز احمد 25 ہزار 414 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جب کہ پیپلز پارٹی کے امیدوار مخدوم حسن رضا 13 ہزار ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 292 ڈی جی خان سے (ن) لیگ کے امیدوار سردار اویس احمد خان لغاری 32 ہزار 845 ووٹ لے کر جیت گئے جب کہ تحریک انصاف کے امیدوار مسعود خان لغاری 21 ہزار 938 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے پی ایس 30 خیرپور سے پیپلز پارٹی کے امیدوار احمد رضا شاہ 36 ہزار 890 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جب کہ ان کے مدمقابل گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کے امیدوار محرم شاہ 21 ہزار 470 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہے۔ پی ایس 87 ملیر کراچی سے پیپلز پارٹی کے امیدوار ساجد جوکھیو 32 ہزار 566 ووٹ لے کر جیت گئے ان کے مدمقابل امیدوار قادر بخش گبول نے 12 ہزار 341 ووٹ حاصل کیے۔ پی بی 40 خضدار سے بی این پی کے امیدوار محمد اکبر 23 ہزار 742 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے کے مدمقابل آزاد امیدوار میر شفیق الرحمان 14 ہزار 512 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کی 9 نشستوں پر رائے شماری ہوئی۔ پی کے 3 سوات سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سردار احمد خان 16 ہزار 604 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، پی ٹی آئی کے امیدوار ساجد علی 15 ہزار 807 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔پی کے 44 صوابی سے پی ٹی آئی کے عاقب اللہ نے 18 ہزار 676 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جب کہ اے این پی کے غلام حسن 17067 ووٹ حاصل کرسکے۔پی کے 53 مردان سے اے این پی کے امیدوار احمد خان بہادر 19 ہزار 65 ووٹ لے کر جیت گئے جب کہ پی ٹی آئی کے امیدوار عبدالسلام آفریدی 19 ہزار 44 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ دونوں امیدواروں کے نتیجے کے درمیان محض 21 ووٹ کا فرق ہے۔پی کے 61 نوشہرہ سے پی ٹی آئی کے امیدوار محمد ابراہیم 14 ہزار 600 ووٹ لے کر جیت گئے جب کہ اے این پی کے امیدوار نور عالم خان 8 ہزار 300 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ پی کے 64 نوشہرہ سے پی ٹی آئی کے امیدوار لیاقت خان 22 ہزار 775 ووٹ لے کر فتح یاب ہوگئے، اے این پی کے امیدوار محمد شاہد صرف 9ہزار 560 ووٹ لے سکے۔ پی کے 78 پشاور سے اے این پی کی امیدوار ثمر ہارون بلور 20 ہزار 916 ووٹ لے کر جیت گئیں جب کہ پی ٹی آئی کے محمد عرفان 16 ہزار 819 ووٹ لے سکے۔ پی کے 97 ڈی آئی خان سے پی ٹی آئی کے امیدوار فیصل امین 18 ہزار 170 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جب کہ پیپلز پارٹی کے امیدوار فرحان افضل 7609 ووٹ لے سکے۔ پی کے 99 ڈی آئی خان سے پی ٹی آئی کے امیدوار آغاز اکرام گنڈا پور 31 ہزار 853 ووٹ حاصل کرکے جیت گئے ان کے مدمقابل آزاد امیدوار فتح ا للہ خان 22 ہزار 700 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار فرحان افضل دھپ صرف 7609 ووٹ حاصل کرسکے۔