فیس بک پیج سے منسلک ہوں

خبیر پختو نخواہ: ایمرجنسی کے نام پر شروع 78 منصوبوں کا کام غیر معیاری نکلنے کا انکشاف

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/معظم رضاتبسم: سینٹ کی قائمہ کمیٹی مواصلات کے اجلاس میں خبیر پختو نخواہ میں ایمرجنسی کے نام پر شروع کئے گئے 78 منصوبوں کا کام غیر معیاری نکلنے کا انکشاف ، ادائیگیاں روک لی گئیں منصوبوں کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی قائم کردی گئی۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات نے  این ایچ اے کی 219 گاڑیوں کو نیلام کرنے کے بجائے موٹر وے پولیس کو دینے کی سفارش کردی۔ سینٹ  کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہدایت اللہ کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے گریڈ17 اور اوپر کے ملازمین کی تعداد ، تعلیمی قابلیت ، کنڑیکٹ ملازمین کی تعداد ، افسران کے خلاف انکوائریوں ،مختلف منصوبہ جات کے لئے سٹاف ، کنسلٹنٹ اور وزارت مواصلات میں سرکاری گاڑیوں کی تعداد اور ان پر ہونے والے اخراجات ، موٹرویز اور ہائی ویز پر بی اوٹی کے تحت بننے والے وزن اسٹیشنز اور ٹول پلازوں کی ٹینڈرنگ کے طریقہ کار اور معاہدات کے علاوہ او ر این ایچ اے کے جاری منصوبہ جات کے فنڈز کے اجراء نہ ہونے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔ چیئرمین و اراکین کمیٹی نے ورکنگ پیپر ز کی کمیٹی اجلاس میں قانون کے مطابق عدم فراہمی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ رولز کے مطابق 72 گھنٹے کمیٹی اجلاس سے پہلے اراکین کمیٹی کو فراہم کیے جائیں ۔ جس پر سیکرٹری مواصلات شعیب صدیقی نے کہا کہ آج ہی تمام ذیلی اداروں کو ہدایت کر دی جائے گی کہ کمیٹی اجلاس سے پہلے ورکنگ پیپر تمام ارکان کو فراہم کر دیئے جائیں ورنہ متعلقہ افسر اور ادارے کے خلاف تادیبی کارروائی ہو گی۔ چیئرمین این ایچ اے نے کمیٹی کو بتایا کہ این ایچ اے میں کل 3600 ملازمین کام کر رہے ہیں جن میں 509 آفیسرز ہیں۔ادارے میں ریگولر ملازمین 228 کنٹریکٹ پر آ کر مستقل ہونے والے 203 ، سی ایس ایس آفیسرز 13 اور ایکس کیڈر 11 ملازمین ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کرنے کے حوالے سے وزیر مملکت موصلات نے جائزہ لینے کا فیصلہ کیا اور اس حوالے سے کیبنٹ ڈویژن سے ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے۔ این ایچ اے میں کرپشن پر گزشتہ ایک سال میں 7ملازمین کو معطل کیاگیا۔ایمرجنسی کے نام پر منصوبے صوبہ بلوچستان اور خبیر پختو نخواہ میں منصوبے لیے گئے بلوچستان میں 103.8 کروڑ اور خبیر پختو نخوا ہ میں 35 کروڑ ٹھیکے لیے گئے کمیٹی کو بتایا گیا ۔ خبیر پختو نخواہ میں 78 منصوبوں کا 45 فیصد غیر معیاری تھا ان کی ادائیگی بھی نہیں کی گئی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو کا م کا جائزہ لے کر پھر ادائیگی کرے گی ۔ سینیٹر اشوک کمار نے کہا کہ بلوچستان کے علاقہ حب میں گیارہ کروڑ سڑک کی مرمت کا ٹھیکہ دیا گیا کام نہیں ہو ا اس کی انکوائری کرائی جائے۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ خبیر پختو نخواہ کے تمام صوبوں کی انکوائری رپورٹ دی جائے ۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ سولہ افسران کو اگلے گریڈ کی پی سی ون اسامیوں کے تحت تنخواہ دی جائے کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران این ایچ اے میں پندرہ کنسلنٹ اور 20 منصوبوں سے متعلقہ سٹاف بھرتی کیا گیا ۔این ایچ اے میں سرکاری گاڑیوں کی تعداد 811 گاڑیاں ہے اورپیٹرول کی مد میں دو سال میں 26 کروڑ 20 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔یہ گاڑیاں ڈپٹی ڈائریکٹر سطح کے آفیسرز کے زیر استعمال ہیں۔این ایچ اے ہیڈ کواٹرز میں 302 گاڑیاں زیر استعمال ہیں۔پراجیکٹ کی گاڑیاں اس کے علاؤہ ہیں۔ این ایچ اے ہیڈ کواٹرز میں آفیسرز کی تعداد تقریبا دو سو ہے۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ این ایچ اے 219 گاڑیوں کو نیلام کرنے جا رہے ہیں۔ان میں بڑی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔جن کی نیلامی 16 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہو گی۔قائمہ کمیٹی کو ڈی آئی جی موٹر وے پولیس نے بتایاکہ موٹر ویز پولیس کے پاس 1026 گاڑیاں ہیں جن میں 626 گاڑیاں اپنی مدت پوری کر چکی ہیں۔جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا کہ موٹر ویز پولیس کے پاس گاڑیوں کی بہت کمی ہے۔ پہلے ہی کمیٹی کی جانب سے سفارش کی گئی ہے کہ موٹر ویز پولیس کو گاڑیاں فراہم کی جائیں۔اس سے نہ صرف ان کی کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ عوام کو بھی محفوظ سفر میسر ہو گا قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ پشاور اسلام آباد موٹر وے پر آزمائشی بنیاد پر آٹو میٹک سپیڈ (سمارٹ سسٹم) متعارف کرانے کی کوشش کر رہے ہیں اوراس نظام کی تنصیب سے افرادی قوت اور گاڑیوں کی بچت ہو گی۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ این ایچ اے ایکٹ 1991 ء میں بنا اور 2001 میں ترمیمی کی گئی جس میں این ایچ اے کو پی پی پراجیکٹ تیار کرنے کی اجازت دی گئی ۔2009 میں نیشنل ہائی وے کونسل کی منظوری دی گئی جس کے تحت این ایچ اے ون ونڈو اپریشن پی پی پی پراسس کیلئے کر رہا ہے ۔موٹرویز اور ہائی ویز پر وزن اسٹیشن کے حوالے سے ممبر فنانس مواصلات نے کمیٹی کو بتایا کہ زائد وزن پر جرمانے موٹروے پولیس کرتی ہے موٹر وے پر 85 وزن اسٹیشن ہیں اور 5 کے علاوہ باقی سب موٹر وے پولیس کے کنڑول میں ہیں ۔ڈی آئی جی موٹر وے پولیس نے کہا کہ ان کا اختیار 14 وزن اسٹیشن پر ہے جس پر قائمہ کمیٹی نے وزارت مواصلات کو ہدایت کی کہ دونوں اداروں کے ساتھ مل کر صحیح رپورٹ کمیٹی کو فراہم کی جائے ۔ سیکرٹری مواصلات نے کہا کہ زائد وزن کو چیک کرنے کا اختیار اور کام صوبوں کا ہے اور اس کیلئے ایک سمری تیار کی ہے کہ تمام صوبے اور مرکز ایک پالیسی کے تحت ٹرانسپورٹ کو وزن کے حوالے سے کنڑول کریں ۔ قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں کیے گئے جرمانوں کی مد میں اکھٹا ہونے والے روپے ، ٹول پلازوں کے معاہدات کتناٹول اکھٹا کیا گیا ،ٹینڈر سسٹم اور چالان کی مد میں کل جرمانہ وغیرہ کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں طلب کر لیں ۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ این ایچ اے کے جاری منصوبوں کیلئے فنڈ کا اجراء نہ ہونے کی وجہ سے کام روک گیا ہے ۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں 532 ارب کی سفارش کی گئی اس میں سے 411 ارب روپے نقد ٹرانسفر کیا گیا اور 121 ارب کی فنانس ایڈجسٹمنٹ کی گئی ۔ این ایچ اے سے 286 ارب روپے بقایا تھے چیک باؤنس ہو گئے تھے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے پہلے کوارٹر کے 22 ارب کی این ایچ اے سے طلب آئی تھی اور 12 ارب کی منظوری ہو چکی ہے صرف اجراء کرنا باقی ہے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ تمام جاری منصوبوں میں سے کچھ منصوبوں کی مدت تکمیل ختم ہو گئی تھی کچھ کی لاگت پیدائش میں اضافہ ہوگیا تھا اس وجہ سے فنڈ کا اجراء نہیں کیا گیا ۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ادارے کی طرف سے اضافی فنڈ کیوں مانگے گئے تھے اور جن منصوبوں کی تاریخ ہی ختم ہو چکی تھی ۔ قائمہ کمیٹی نے معاملات کو جلد حل کرنے کی سفارش کر دی ۔ قائمہ کمیٹی اجلاس میں سینیٹرز میر محمد یوسف بادینی ، احمد خان ، ڈاکٹر اشوک کمار، آغا شاہ زیب خان درانی ، محمد عثمان خان کاکٹر ، بہرامند خان تنگی ، فدا محمد اور لیاقت خان ترکئی کے علاوہ سیکرٹری مواصلات شعیب احمد صدیقی ، جوائنٹ سیکرٹری مواصلات حافظ شیرعلی ، ڈی آئی جی موٹر وے پولیس راجہ رفعت ،چیئرمین این ایچ اے جواد رفیق ملک کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔