فیس بک پیج سے منسلک ہوں

وزیراعظم عمران خان کے خلاف نا اہلی کی درخواست غیر مؤثر ہونے پر خارج

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ /اللہ داد صدیقی :سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف نا اہلی کی درخواست غیر مؤثر ہونے کی بنیاد پر خارج کردی ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔

تین رکنی بینچ میں جسٹس عمرعطا بند یال اور جسٹس اعجازالاحسن بھی شامل تھے۔

عمران خان کی نااہلی کی درخواست راولپنڈی سے مسلم لیگ(ن) کے رہنما دانیال چوہدری نے 2017 میں دائر کی تھی، درخواست گزار نے مؤقف اپنایا تھا کہ عمران خان آئین کے آرٹیکل 62، 63 پر پورا نہیں اترتے اس لیے انہیں بطور ممبر قومی اسمبلی نااہل قرار دیا جائے۔
وزیراعظم کے خلاف نااہلی کی درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی زیر سماعت ہیں جہاں درخواستوں کی سماعت کرنے والا بینچ تیسری بار ٹوٹ گیا تھا، اس کے بعد سے درخواستوں کی سماعت نہیں ہوئی ہے۔
عمران خان کی نااہلی کے لیےدرخواستیں سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس (ر) افتخارمحمد چوہدری کی جماعت جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے عبدالوہاب بلوچ اور شہدا فاؤنڈیشن کے حافظ احتشام نے دائر کر رکھی ہیں۔
ہائی کورٹ میں دائر درخواستوں میں مؤقف اپنایا گیا کہ وزیراعظم نے انتخابی کاغذات میں حقائق چھپائے اور امریکی خاتون سے بغیر شادی کے پیدا ہونے والی بیٹی ٹیریان کا ذکر نہیں کیا ہے جس کے سبب وہ صادق و امین نہیں رہے۔
حافظ احتشام کی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ریحام خان نے اپنی کتاب میں عمران خان پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں، ایسے شخص کا وزیراعظم بننا ملکی سالمیت اور وقار کے خلاف ہے، وہ آئین کے آرٹیکل 62 کے تحت رکن قومی اسمبلی بننے کے اہل نہیں ہیں۔