فیس بک پیج سے منسلک ہوں

…. اور پھر امن کی جھنکار ، نفرت کی پھنکار میں بدل گئی

 

 

 

 

 

 

 

 

پاکستان کے نومنتخب وزیراعظم عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں بھارت کو خطے میں امن اور متنازعہ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی پیشکش کی تھی اور کہا تھا بھارت ایک قدم بڑھائے ہم دو قدم بڑھائیں گے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی وزیراعظم عمران خان کو فون کال کے ذریعے وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی ۔ اس کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کو شکریہ کا ایک خط چودہ ستمبر کو لکھا جس میں عمران خان نے بھارتی وزیراعظم کے اس رائے کو کہ ” دونوں ممالک کے پاس آگے بڑھنے کا راستہ صرف تعمیری رابطوں میں ہے ” سے اتفاق کیا۔

خط میں وزیراعظم عمران خان نے اٹل بہاری واجپائی انتقال پر پاکستانی وفد کی خصوصی شرکت کا ذکر کرتے ہوئے اٹل بہاری واجپائی کے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں مثبت تبدیلی لانے کے کردار کو سراہا ۔وزیراعظم عمران خان نے خط میں کشمیر ، سیاچن اور سرکریک تنازعات پر باہمی مفادات میں توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعظم عمران خان کے خط میں ایک نمایاں یک سطری یہ پیغام بھی دیا گیا تھا کہ ” پاکستان دہشتگردی کے معاملہ پر بات چیت کے لئے اب بھی تیار ہے” خط میں پاکستانی وزیراعظم نے نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پرامن کی باہمی خواہش کے تناظر میں سارک ممالک وزراء خارجہ کے باضابطہ اجلاس سے قبل پاک بھارت وزراء خارجہ کی سائیڈ لائن ملاقات کی تجویز دی۔ پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے اس خط کا جواب چھ روز بعد بیس ستمبر کو ملا جب بھارتی وزارت خارجہ نے نیویارک میں وزرائے خارجہ کی ملاقات پر آمادگی ظاہر کردی۔ بھارت کی جانب سے وزرائے خارجہ کی سطح کی ملاقات پر آمادگی کے بعد یہ امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ جنوبی ایشیا کی ان دونوں ہم سایہ ریاستوں کے درمیان ایک طویل عرصے سے پیدا تعلقات میں کشیدگی میں کسی حد تک کمی آ سکے گی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی اس مجوزہ ملاقات کا خیرمقدم کیا تھا۔ مگر پھر ایسا کیا ہوا کہ ۔۔۔۔۔ یہ ساری امن کی مالا جو وزیراعظم عمران خان اور نریندر مودی نے ایک ماہ میں پروئی تھی کیسے ٹوٹی اور اس میں سے جنگ اور نفرت کے الاو پھر کیسے دہکنے لگے؟

اس حوالے سے پاکستان کے دفاعی اداروں پر نظر رکھنے والے سینیٹر فرحت اللہ بابر کا سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر دیا گیا پیغام تحقیقی سوچ کو ابھارنے والا ہے۔ فرحت اللہ بابر نے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ

https://twitter.com/FarhatullahB/status/1043182804752916481

Were Burhan Wani commemorative stamps issued by Pakistan Post long before elections and Imran Khan taking oath but the news was released within hours of India agreeing to the proposal for FM’s meeting in NY? Hope it is not so. But some explanation needed if that indeed is so

” پاکستان کے برہان وانی کی یادگاری ٹکٹ جاری کرنے کا معاملہ انتخابات اور عمران خان کے وزارت عظمی کے حلف اٹھانے سےبہت پہلے کا ہے، مگر اسکی خبر بھارت کی جانب سے وزراء خارجہ سطح کی نیویارک میں ملاقات پر رضامندی کے چند گھنٹے بعد جاری ہوئی، امید ہے کہ ایسا نہیں ہے. لیکن کچھ وضاحت کی ضرورت ہے اگر یہ واقعی ہے تو۔”

بیس ستمبر کو ہی بھارت کی جانب سے وزراء خارجہ ملاقات پرآمادگی ظاہر کی جاتی ہے اور اسی روز ایک نیوز ایجنسی خبر جاری کرتی ہے

Islamabad, September 20 (KMS): Pakistan Post has issued special postage stamps to portray popular martyred Kashmiri youth leader, Burhan Wani, describing him a Freedom Icon.

Pakistan Post had issued 20 special postage stamps on July 24, this year, to locally and internationally highlight the brutalities of Indian troops on the people of occupied Kashmir engaged in a peaceful struggle to achieve freedom from India’s illegal occupation of their homeland.

The stamps carry photos of Burhan Wani and his two associates killed in a fake encounter by Indian troops in Islamabad district of south Kashmir in July 2016.

The commemorative stamps also portray the victims of pellet guns and destruction caused by the chemical weapons used by the Indian forces’ personnel in the occupied territory

It is to mention here that the extrajudicial killing of Burhan Wani on July 8, 2016 triggered the ongoing

mass uprising in occupied Kashmir.

https://kmsnews.org/news/2018/09/20/pak-issues-postage-stamps-portraying-burhan-wani-pellet-victims/

 یہی وہ خبر ہے جس جانب سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں اشارہ دیا ہے۔ بھارت کی جانب سے اگلے روز اکیس ستمبر کو اسی خبر کے متن کو جواز بنا کروزراء خارجہ سطح کی نیویارک میں ملاقات منسوخی کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اور پھر مذاکرات پر آمادگی سے پھوٹنے والی  امن کی جھنکار ، نفرت اور جنگ تک کے بیانوں کی پھنکار میں میں بدل جاتی ہے۔۔