فیس بک پیج سے منسلک ہوں

انتخابی دھاندلی تحقیقاتی کمیٹی: بلاول بھٹو نے کیا پیغام دیا کہ حکومت مجبور ہوگئی ؟

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ/ معظم رضا تبسم : پاکستان پیپلزپارٹی کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت کی اعلان کردہ تحقیقاتی کمیٹی میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین کی برابر تعداد کا تعین بلاول بھٹو زرداری کے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو دو ٹوک پیغام کے ممکن ہوا۔

پیپلزپارٹی ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کے سینئر پارلیمانی رہنماووں کے ذریعے انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے کمیٹی کی تشکیل کے مرحلہ پر حکومت اور اپوزیشن کے اراکین کو برابر نمائندگی دینے کی تجویوز دی تھی۔ جس پر حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں پارٹیوں کی عددی حثیت کے تناسب سے نمائندگی دینے کی بات سامنے آئی تو پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس فارمولہ کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے دو ٹوک انداز میں حکومت اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو پیغام دیا کہ کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن اراکین کی تعداد برابر نہ رکھنے کی صورت میں کمیٹی کا حصہ نہیں بنے گی اور کمیٹی کا بائیکاٹ کریگی۔

پیپلزپارٹی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اب جبکہ کمیٹی میں اپوزیشن اور حکومت کی نمائندگی کا مقصد حاصل ہو چکا ہے تو پیپلزپارٹی کی کوشش ہے کہ حکومت کی بنائی کمیٹی میں سینٹ کی نمائندگی دیکر پارلیمانی کمیٹی کی حثیت دی جائے ۔ اس حوالے سے پیپلزپارٹی پارلیمانی سیاسی قیادت کو قائل کرنے کے لئے کوشاں ہے۔