صدارتی انتخاب: مشترکہ امیدوار کی آفر اوراپوزیشن قیادت کی نیتیں

شہراقتدار کی غلام گردشوں میں پارلیمنٹ میں ہونیوالا یہ واقعہ زیر گردش ہے۔ جس کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کے اہم وزیر نے اعتزاز احسن کو پی پی اور پی ٹی آئی کا مشترکہ صدارتی امیدوار بنانے کی تجویز دی تھی۔ “چوہدری وزیر” نے خود اعتزاز احسن کا نام خورشید شاہ اور راجہ پرویز اشرف کو مشترکہ صدارتی امیدوار کے طور پر تجویز کیا تھا

وزیراعظم کے انتخاب کے مرحلہ پر مسلم لیگ ن کے امیدوار شہباز شریف کے پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے سربراہ آصف علی زرداری سے دور رہنے یا گریز کے رویہ پر احتجاج ریکارڈ کروایا۔ شہباز شریف نے وزیراعظم کے عہدے کے لئے انتخابی امیدوار کی حثیت سے آصف علی زرداری سے ووٹ مانگنے کے لئے زرداری ہاوس آنے سے تو گریز کیا سو کیا ، پارلیمنٹ میں آمنا سامنا کرنے سے بھی گریزاں رہے تھے۔ احتجاج کے جواب میں مسلم لیگ کا سرد مہری میں جواب کو یقینا پیپلزپارٹی کے لئے سمجھنا مشکل نہیں تھا کہ شہباز شریف کی پالیسی کیا ہے۔

سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب میں مشترکہ امیدوار لانے کی جمہوری سوچ بھی پیپلزپارٹی کی قیادت نے فراہم کی اور تمام اپوزیشن کو مجتمع کیا تو کہ پیپلزپارٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ ن سے اشتراک کار پر بہت سے شرکاء کے شدید تحفظات تھے مگر آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ میں اپوزیشن اتحاد کو فوقیت دی مگر مسلم لیگ ن میں یہ تاثر پایا گیا کہ شائد پیپلزپارٹی پارلیمان میں رہنما پوزیشن حاصل کر رہی ہے جس کے بعد پیپلزپارٹی بارے مسلم لیگ ن کا رویہ تبدیل ہوا اور وزیراعظم کے انتخاب تک یہ کھل کر سامنے آگیا۔

تاہم اس سب کے باوجود پارلیمانی اور جمہوری تقاضوں کے مطابق پیپلزپارٹی کی قیادت نے اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر مسلم لیگ ن کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے شہباز شریف کی حمایت کا خط سپیکر قومی اسمبلی کو تحریر کیا۔

یہاں یہ امر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ نواز شریف کی نااہلی اور جیل جانے کے بعد شہباز شریف ن لیگ کی پالیسی پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں پنجاب اسمبلی میں انہوں نے حمزہ شہباز کو وہی سٹیٹس دیا جو قومی اسمبلی میں ان کا اپنا تھا جس پر ن لیگ کے اراکین پنجاب اسمبلی میں تحفظات ہیں ن لیگ میں فارورڈ بلاک کے ساتھ ساتھ سابق دور حکومت میں کرپشن کیسوں کی تلوار بھی ان کے سر پرلٹک رہی ہے تاہم شہباز شریف جرنیل شاہی کے پسندیدہ سمجھے جاتے ہیں اوران کے سیاسی فیصلوں پر ان معاملات کے اثرات ہونا فطری ہے۔

انتخابات 2018 کے بعد پیپلز پارٹی کے مشاورتی اجلاسوں میں پارلیمان ، سپیکرو ڈپٹی سپیکر، وزیراعظم اور صدارتی انتخاب میں پارٹی کی لائن پر مشاورت ہوئی تھی۔ جس کا پہلا مظاہرہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر انتخاب میں مثبت جمہوری و پارلیمانی کردار تھا۔ پیپلزپارٹی کی سیاست اور پالیسی کا منطقی تجزیہ ہی نکلتا ہے کہ پیپلزپارٹی وفاق میں دوسری بڑی پارلیمانی پارٹی کی حثیت سے کسی ٹکراو یا بڑے حادثے سے بچتے ہوئے جمہوریت کے تسلسل میں اپنا کردار دیکھ رہی ہے۔ اس مثبت سوچ کو اگر کوئی ” سہولت کاری” کہے یا دباو، جیسا کہ انتخابات 2018 ء میں رکاوٹیں ڈالنے سے لیکر صدارتی انتخابات تک ہر مرحلے پر اچانک پیپلزپارٹی قیادت کو تحقیقاتی اداروں کے نوٹسزاورعدالتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ماضی میں پیپلزپارٹی قیادت پر کرپشن مقدمات کا انجام اظہرمن الشمس ہے اور اب جو ہو رہا یہ تاریخ کا حصہ رہیگا۔

صدارتی انتخاب کے لئے پیپلزپارٹی نے اعتزاز احسن کا نام تو تجویز کیا تھا مگر ن لیگ اور حامی جماعتوں کے فضل الرحمان کو امیدوار مقابل لانے کے بعد پیپلزپارٹی نے اپنے انتخابی امیدوارکا حتمی فیصلہ چیئرمین بلاول بھٹو کے ٹویٹ سے کیا” میرا پہلا امیدوار اعتزاز ، دوسرا امیدوار اعتزاز اورتیسرا امیدواربھی اعتزاز “۔  پی ٹی آئی حکومت کے پہلے دوہفتے میں فیصلوں پر سوشل میڈیا اور میڈیا پر بنتی درگت سےکسی کو اگر بلاول بھٹو کا نعرہ مستانہ سمجھ آگیا تو گیم ہی الٹ پلٹ بھی سکتی ہے۔