نومنتخب کپتان اعظم اورسردار اعلی پنجاب سے سوال

 منتخب ہونے کے بعد وزیراعظم ملٹری سیکرٹری کی رہائش گاہ میں منتقل ہو گئے ۔ عوام میں بلا بلا کے تبصرے جاری ہیں تاہم یہ تو کہنا انتہائی غیر مناسب ہوگا کہ بین الاقوامی میڈیا اور حکومتیں جو مرضی کہتی رہیں کہ کون اقتدار میں لایا ہمیں تو تب یقین آیا جب نومنتخب وزیر اعظم نے جس کوٹہ سے اقتدار لیا اسی کوٹہ کی وزیراعظم ہاوس میں رہائش گاہ لی۔ نومنتخب وزیراعظم نے ایک انتخابی منشور دیا تھا اور پھر سو دن کا پروگرام بھی دیا جس کا ذکر پہلے “خطاب فتح ” میں گول کر گئے ۔ پھر وزیراعظم بننے کے بعد پارلیمنٹ میں ” خطاب فتح ” سے لگا کہ وہ دوبارہ کنٹینر پر چڑھ گئے چڑھتے بھی کیوں نہیں ان کے وزارت اعظمی کے لئے مد مقابل بھی تو انتخابی جلسے والے موڈ سے ابھی باہر نہیں نکلے تھے۔

یہ تو بھلا ہو بلاول بھٹو زرداری کا کہ جس کے خطاب سے احساس ہوا کہ پارلیمنٹ میں ہی یہ سب کچھ ہو رہا تھا ڈی چوک یا مال روڈ کا جلسہ لائیو نشر نہیں ہو رہا تھا۔ اب جبکہ عمران خان وزیراعظم کی حثیت سے اپنا پہلا قوم سے باضابطہ خطاب کرنے والے ہیں تو امید رکھنی چاہئیے کہ وہ بقول بلاول بھٹو خود کو ” زندہ لاشوں ، گدھوں ، بھیڑوں اور بکریوں” کا بھی خود کو وزیراعظم سمجھیں گے۔

کپتان وزیراعظ٘م کی اعلان ہونیوالی کابینہ سے یہی تاثر ابھرتا ہے کہ نئی بننے والی حکومت 2002 ء کے پرویزمشرف دور کا پارٹ ٹو ہوگی۔ پرویز مشرف کی غداری کیس میں وکالت کرنے والے ایم کیو ایم جو اب پاکستانی قرار پا چکی ہے فروغ نسیم وزیر قانون ہیں تو وزارت داخلہ چونکہ عمران خان کے پاس رہیگی تو یہ قیاس کرنا مشکل نہیں کہ گذشتہ دو حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت میں بھی جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف جو کہ غداری کیس میں مجرم ہیں ان کے لئے خیر ہی رہیگی۔ عمران خان پر پرویز مشرف کا احسان بھی تو ہے کہ 2002ء میں پہلی بار پارلیمنٹ میں لانے کا سہرا بھی انہیں کو جاتا۔ پرانے پاکستان میں اس اہم غداری مقدمے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ماسوائے ڈکٹیڑ کو ریڈ کارپیٹڈ گارڈ آف آنر کے ساتھ ملک سے رخصت کرنے کے تاہم دیکھتے ہیں نئے پاکستان میں پرویز مشرف کیس کی عمران خان کیا تفہیم طے کرتے۔ بحثیت صحافی ہم تو سوال ہی کر سکتے کہ نئے پاکستان میں غداری کیس کا کیا بنے گا ؟

پنجاب میں بھی کپتان وزیراعظم کے نامزد کردہ تونسہ سے تعلق رکھنے والے سردارعثمان بزدار تخت لہور کے سنگھاسن فتح کرنے میں کامیاب رہے مگر ان کے ووٹ سپیکر پرویز الہی سے کم ہی رہے۔ عثمان بزدار زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ان کے والد بھی رکن اسمبلی رہے عثمان گزدار بھی بار بار رکن صوبائی اسمبلی بنے مگر جتنی بار بھی رکن اسمبلی بنے ۔ وزیراعلی بننے کے بعد وہ اپنی نامزدگی کا میرٹ یہی بتا رہے کہ ان کے آبائی گھر میں بجلی نہیں گیس نہیں سڑک نہیں، وہ پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔

تخت لہور سنبھالنے والے سردار اعلی پنجاب سے سوال یہ ہے کہ انکے والد اور انہیں گذشتہ حکومتوں میں جن کا وہ حصہ بھی رہے، ان کے حلقے کیلئے جو ترقیاتی فنڈز ملے تھے کہاں خرچ کئے یا کدھر کئے ؟؟ ویسے بھی نو منتخب وزیراعلی پنجاب کی بجلی اور سہولتوں سے مزیں رہائش ڈی جی خان میں بتائی جاتی ہے جس کا ذکر کرتے یقینا انہیں شرمندگی ہوگی اور اس سے بڑھ کر یوتھیوں پر کیا گزرے گی کہ انکے سرداراعلی پنجاب نے اپنے علاقے کے عوام کو جوہڑ سے جانوروں کے ساتھ پانی پینے پر مجبور چھوڑے رکھا۔