فیس بک پیج سے منسلک ہوں

بلاول کا پہلا پارلیمانی خطاب : عقل دا گھاٹہ،تربیت دی کمی !

پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک سیاسی رہنما ، پارٹی سربراہ اور مثبت پارلیمانی اقدار کے امین کی حثیت سے بہترین انداز میں پہلا خطاب کیا۔ سیاسی مخالفین نے بھی انتہائی غور سے خطاب سنا۔ بلاول بھٹو زرداری کے پارلیمنٹ میں پہلا خطاب کو بھی ایسی ہی پذیرائی اور داد تحسین ملی جیسی پیپلزپارٹی کی انتخابی مہم میں ان کے مثبت موقف کو عوام اور دنیا نے بخشی۔

پاکستان جہاں عقلیت پسندی اور مثبت اقدار کو ریاستی سطح پر انتہا پسندی اور جہالت کو پروان چڑھا کر تباہ کرنیکا کا رحجان غالب چلا آ رہا ہے۔ پارلیمنٹ میں نوجوان سیاسی رہنما بلاول بھٹو کی پہلی تقریر پر تنقید کرنے والے خود کو علم ، عقل ، سیاسی تربیت اور تدبر سے عاری اور قومی سے زیادہ ذاتی مفادات کے اسیر ہونے سے زیادہ خود کو کچھ ثابت نہیں کرسکتے۔

پاکستان میں بالخصوص گذشتہ چار دہائیوں ریاستی محکمہ زراعت نے سیاسی پنیری لگائی ہیں اس میں چار دہائیوں میں پروان چڑھائے مثلا مولا جٹ کی بڑھک ، بیچ چوراہے ایکدوسرے پر کیچڑ اچھالنے، اپنی چوری چھپانے کے لئے دوسرے کو ڈاکو اور بے ایمانی کا بھانڈا پھوٹنے کے خوف میں دوسرے کے ایمان کو چیلنج کرکے کفر اور قومی مفاد پر ذاتی منفعت کو دی ترجیح کھلنے کے خوف میں دوسروں پر غداری کے فتوے صادر کرنے جیسے تمام خواص موجود ہیں۔

وزیراعظم کے انتخاب کے بعد ایوان قومی اسمبلی میں نئے بننے والے حکمران اور متوقع قائد حزب اختلاف نے جو طرز عمل اختیار کیا اس میں ریاستی داروں کی تریبت کے خواص نمایاں تھے۔ محکمہ زراعت کی ترییت کے تمام خواص عیاں تھے۔ اگر نہیں تھا تو پارلیمانی اقدار، سیاسی روا داری ، مہذب طرز کلام ۔ جبکہ سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والے بلاول بھٹو کے طرز سیاست اور پارلیمنٹ میں خطاب میں وہ سیاسی و پارلیمانی اقدار نمایاں تھیں جو ذوالفقار علی بھٹو ، بینظیر بھٹو سے انہیں ورثہ میں ملیں۔ بلاول بھٹو کی پارلیمنٹ میں تقریر پر ایک جملہ سوشل میڈیا سے گلی کوچوں اور چوک چوراہوں میں سننے کا مل رہا ہے۔

“بہت شکریہ محترمہ بینظیر بھٹو
اس ملک کو بلاول بھٹو جیسا نوجوان سیاستدان دینے کے لیے
آپ لیڈر اور سیاستدان تو تھیں ہی، آپ جیسی ماں کو سلیوٹ، جس کی تربیت آج بیچ پاکستان میں سربلند نظر آئی۔”

دوسری طرف بلاول بھٹو کے پارلیمنٹ میں خطاب پر بے جا تنقید کرنے والوں کو ایک اور جملہ  تسلسل میں سننے کو مل رہا۔

عقل دا گھاٹہ ، تربیت دی کمی  !