فیس بک پیج سے منسلک ہوں

وزیراعظم انتخاب ، شہباز شریف کو ووٹ پر پی پی میں کیا کھچڑی پک رہی ؟

انتخابات کے بعد آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پیپلزپارٹی کی پارلیمانی اننگز کا آغاز ہو گیا۔ پہلے مرحلے میں پیپلزپارٹی نے اپوزیشن جماعتوں سے انتخابی دھاندلی کے معاملے پر اتحاد بنایا اور پارلیمنٹ میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخابات میں اپوزیشن کے متفقہ امیدوار لانے تک کامیابی سے اہداف حاصل کئے مگر وزیر اعظم کے انتخابی مرحلے پر پیپلزپارٹی کا ن لیگ کے امیدوار پر اعتراض سامنے آگیا کہ پی پی کے اراکین اسمبلی شہباز شریف کو ووٹ دینے کو تیار نہیں۔

نواز شریف گرفتاری سے قبل اپنے انٹرویوز میں یہ قرار دے چکے ہیں کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری کو پیپلزپارٹی کا سربراہ تسلیم کیا۔  کیونکہ پی پی میں اس وقت تک آصف علی زرداری کی سربراہی کو چیلنج کرنے والی سوچ موجود تھی۔ پارٹی میں کچھ سینئر رہنما مخدوم امین فہیم کو پارٹی کی سربراہی دینے کی مہم چلا رہے تھے۔ نواز شریف نے اس بات کا انٹرویو میں کریڈٹ لیا کہ انہوں نے آصف علی زرداری کو مشکل صورتحال میں ریسکیو کیا تھا۔

وزیراعظم کیلئے شہباز شریف کو امیدوار بنانے پر پیپلزپارٹی کی ناپسندیدگی  یقینا آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی پرغیر اخلاقی انداز تنقید ایک وجہ تو ٹھہری۔ گو کہ شہباز شریف جو کہ اب مسلم لیگ ن کے سربراہ بھی ہیں اگر سیاسی اقدار کو ملحوظ ہی رکھتے تو انتخابات سے قبل کی تنقید اورالزامات کو سیاسی بیان قرار دیکر پیپلزپارٹی سے بہتر تعلقات استوار کرنے کی بنیاد رکھ سکتے تھے ۔ تاہم شہباز شریف کی جانب سے سیاسی وضعداری سامنے نہیں آئی جبکہ جواب یہ ملا پیپلزپارٹی کو اگر شہباز شریف کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے تو ان کے اس فیصلے کو بھی فراخدلی سے قبول کرتے ہیں۔

سابق صدر آصف علی زرداری کی سوچ ظاہر رہی ہے۔ نواز شریف تمام تر سیاسی وعدہ خلافیوں کے باوجود میچور سیاستدان بہر حال ہیں اور اور آصف علی زرداری یہ قرار دے چکے ہیں کہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد ن لیگ کا ووٹ بنک مریم نواز کی وراثت بنے گا۔ بعین ہی مسلم لیگ ن بلاول بھٹو کو پیپلزپارٹی کا وارث تسلیم کرتی ہے۔
شہباز شریف کی مخالفت اور نواز شریف و مریم نوازبارے آصف علی زرداری کی حالیہ انٹرویوز میں سامنے آنے والی سوچ  نوازاور زرداری سیاسی اقدار رواداری کی مثال ہی قرار پائے گی۔ خوب ہو اگر شہباز شریف بھی اب مسلم لیگ ن کے سربراہ کی حثیت سے اس روایت کا حصہ بنیں بعین مثال عمران خان سے لی جا سکتی ہے جنہوں نے اپنی ساری تنقید کے باوجود پارلیمنٹ میں سابق صدر آصف علی زرداری سے ہاتھ ملایا۔
تاہم مسلم لیگ ن کی جانب سے شہباز شریف کے نام پر اعتراض پر جو جواب ملا ہے اس سے پیپلزپارٹی کے اندر کچھڑی پکنے لگی ہے کہ شہباز شریف کیخلاف پیپلزپارٹی میں مخالفت یا اپوزیشن جماعتوں سے طے پانے والے اصولی فیصلے میں  سے کس سے پیچھے ہٹا جائے۔