فیس بک پیج سے منسلک ہوں

اسد قیصر کو اسپیکر بنتے ہی اپوزیشن احتجاج کا سامنا،اجلاس ملتوی کرنا پڑا

اسلام آباد پالیٹکس رپورٹ /معظم رضا تبسم : پی ٹی آئی کے نامزد کر دہ اسد قیصر اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوتے ہی ایوان میں ن لیگ کا احتجاج ، نعرہ بازی اور اپوزیشن کی جماعتوں نے بھی احتجاج میں ساتھ دیا تاہم پیپلزپارٹی کے اراکین کا احتجاج نعرہ بازی تک محدود تھا۔

پی ٹی آئی کے نومنتخب اسپیکر اسد قیصر نے حلف اٹھانے کے بعد جیسے ہے اجلاس کی صدارت سنبھالی تو سابق ڈپٹی سپیکر اور نومنتخب رکن قومی اسمبلی مرتضے جاوید عباسی نے پی ٹی آئی کے مینڈیٹ کو مصنوعی اور جعلی قرار دیتے ہوئے ووٹ کو عزت دو اور میرا قائد نواز شریف کے نعرے لگانے شروع کر دئیے نعرہ بازی میں پیپلزپارٹی کے اراکین بھی اپنے نشستوں پر بیٹھے شریک رہے جبکہ ن لیگ کے اراکین اسمبلی سپیکر ڈائس اور عمران خان کی نشست کے سامنے جمع ہو کر نعرہ بازی کرتے رہے۔ سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے احتجاج کرنے والے اراکین اسمبلی کو عمران خان کی نشست کے سامنے سے ہٹنے کا کہتے رہے۔

اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں قومی اسمبلی کے اسپیکر کا انتخاب ہو گیا،ایاز صادق نے اسد قیصر کی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر کے لئے330 ووٹ کاسٹ ہوئے جس میں سے 8 ووٹ مسترد ہوئے، اسد قیصر نے 176 ووٹ حاصل کیے جبکہ خورشید شاہ 146 ووٹ حاصل کیے۔

اسپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب کے لئے ووٹنگ تقریباً 3گھنٹے جاری رہی،تحریک انصاف کی جانب سے اسد قیصر اور پیپلز پارٹی و ہم خیال جماعتوں کے امیدوار خورشید شاہ میں کانٹے دار مقابلہ ہوا۔

****

احتجاج کی وڈیودیکھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

اسد قیصر کو اسپیکر کا منصب سنبھالتے ہی اپوزیشن احتجاج کا سامنا