ریٹائرڈ جرنیل ۔۔۔ درویشی بھی عیاری ، سلطانی بھی عیاری

 سپریم کورٹ ، پاکستان کی اعلی ترین عدالت ہے، اور اس کا چیف جسٹس اعلی ترین جج ہوتا ہے، آئین میں یہی لکھا ہے قانون سے کوئی بالاتر نہیں اور سپریم کورٹ کی جواب طلبی پر تمام ادارے ریکارڈ حاضر کرنے کے پابند ہیں۔ بعین پارلیمنٹ کو بھی تمام ادارے جوابدہ اور طلبی پر ریکارڈ فراہم کرنے کے بھی پابند۔

پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے سیکرٹری جنرل اور سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر سینیٹ سے ریٹائر ہونے سے قبل یہی سوال پارلیمنٹ میں پوچھتے رہے جو سوال چیف جسٹس پاکستان نے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ شجاع پاشا کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی” دوسال معینہ عدت ملازمت ” پوری کئے بغیر بیرون ملک فوجی نوعیت کی نوکری کرنے جانے اور انہیں ایسا کرنے کی سرکاری اجازت دئیے جانے کا ریکارڈ طلب کرکے پوچھا۔

فرحت اللہ کا خط بعنوان ” ریٹائرڈ جنرلز ” آیا تو وہ لمحات نظروں کے سامنے گھوم گئے جب فرحت اللہ بابر نپے تلے انداز میں ایک ایک لفظ واضح بیان کرتے ہوئے یہی سوال سینیٹ اجلاس میں اٹھاتے تھے تو ایوان میں سناٹا چھا جاتا تھا ۔۔۔ پن ڈراپ سائلنٹ ۔۔۔ اور کئی چہروں کو بگڑجاتے اور کئی پیلا پڑتے بھی دیکھے ۔۔۔۔ پارلیمنٹ کے سامنے وزارت دفاع یا وزیر دفاع کو ” جواب سے خالی ” کسی سیکشن افسر کے لکھے جملے دہراتے دیکھا مگر واضح جواب یا ریکارڈ پارلیمنٹ میں پیش ہوتے نہیں دیکھا سنا۔

اپنے خط بعنوان ” ریٹائرڈ جنرلز” میں فرحت اللہ بابر نے لکھا ہے کہ ناصرف اس سوال کا جواب نہیں ملا کہ جنرل راحیل شریف اور جنرل شجاع پاشا کو کیسے بیرونی ملک ملازمت کی اجازت ملی بلکہ یہ بھی بتانے سےگریز کیا گیا کہ جنرل راحیل شریف کو ریٹائرمنٹ پر بیش قیمت 90 ایکڑ اراضی کیسے الاٹ ہوئی۔

فرحت اللہ بابر پارلیمنٹ میں جواب نہ ملنے سے مایوس ضرور ہوئے اور سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی مشق سے بھی کچھ امید نہیں رکھتے مگر انہوں نے ان جواب طلب سوالوں کی بجھتی شمع میں ان اشعار کا تیل ڈال کر پھر نئی روشنی پھونکی ہے۔

“خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں

کہ  درویشی بھی عیاری ہے ،سلطانی بھی عیاری”

This is with reference to the report that the Supreme court has sought record of the permission given to retired Generals Raheel Sharif and Shuja Pasha for accepting jobs abroad within days of retirment

A perusal of the questions asked, replies given and the verbatim discussion in parliament (particulararly in Senate) at the time may provide an answer not only to how permission was given to Raheel Sharif to take up foreign job but also to the allotment of 90 acres of prime land to him as post-retirement benefit

Nothing may come out of the exercise, but new light will be shed on this verse

Khudawanda ye teray saada dil banday kidhar jaaen
ke darweshi be ayyari hai, sultani bhi ayyari

O God, who Thy simple folk turn to
For both the king and the dervish are hypocrites

Senator (r) Farhatullah Babar

Islamabad