فیس بک پیج سے منسلک ہوں

ونٹی لیڑ پر سانسیں لیتی ادھار کی سیاسی زندگی

نیا پاکستان تشکیل پاتے ہی ڈالر گر گیا ، ملکی معیشت پر آئے برے وقت سے بے خبر کھلاڑی میڈیا اور سوشل میڈیا پراس کا کریڈٹ بھی متوقع وزیراعظم کپتان کو دیتے رہے۔ کوئی حیرانی نہیں ہوگی کوئی مرید اپنے مرشد کی پھونک کا کرشمہ بھی قرار دے سکتا۔ ڈالر کی قمیت میں کمی کوئی جادو ٹونے سے نیچے آئی یا یہ کپتان کی قسمت ، کیا ہے پاکستان کے معیشت نامہ پر ایک نظر ڈالنے سے ہی راز کھل جاتا۔

انتخابات 2018 سے پانچ دن پہلے ڈالر 130٫50 روپے کے تاریخی عروج پر تھا۔ انتخابات سے کئی ماہ پہلے اس کی پیش گوئی سابق صدر اور پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے سربراہ آصف علی زرداری نے کی تھی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین سال سے سابق حکومت نے مصنوعی طریقے سے روپے کو 106 روپے کی قیمت پر مستحکم کر رکھا تھا یقینا آصف علی زرداری اس سے بے خبر تو نہیں ہونگے۔ تاہم انتخابات کا انعقاد ہوتے ہی ڈالر کی قیمت نیچے آنی شروع ہوئی تو کھلاڑیوں نے اسے کپتان کی “ادھار کی جیت” کا کرشمہ قرار دینا شروع کردیا۔

ڈالر کی قیمت میں کمی بھی کپتان کی جیت کی طرح ” ادھار کی سانسیں” ہیں جو روپیہ لے رہا ہے۔ بین الاقوامی اور مقامی تجزیہ کار عندیہ دے رہے ہیں کہ روپے کو ایک اور “حبس” کا سامنا کرنا پڑیگا جب ڈالر کی قیمت آنے والے دنوں میں ایکبار پھر 140 روپے کے ہندسے کو چھوئے گی۔ واضح رہے کہ ڈالر کی قیمیت دو دن 122 روپے تک کم ہونے کے بعد ایکبار پھر 124 روپے تک بڑھ گئی۔

ڈالر کی قیمت میں موجودہ کمی چین سے ملنے والے دو ارب ڈالر چینی قرضے اور اسلامی ترقیاتی بنک کے ساڑھے چار ارب ڈالر کریڈٹ کی مرہون منت ہے۔ جو انتخابات کے انعقاد سے قبل پاکستان پہنچے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نئی بننے جا رہی حکومت کو روپے کو گراوٹ سے بچانے کے لئے مزید 8 سے 10 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی تاکہ رواں مالی سال میں روپے کی عزت برقرار رہے۔

متوقع بننے جار رہی کپتانی حکومت کے وزارتی کھلاڑیوں کو انتخابی مہم میں عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے لگائی ” قرضہ نہیں لینگے” کی تھوکی بھڑک کو چاٹتے ہوئے پاکستانی معیشت کے بحران سے نکلنے کے لئے آئی ایم ایف سے دس ارب ڈالر بیل آوٹ پیکج لینا پڑے گا ، یعنی پاکستان کے قرضوں میں مزید اضافہ کپتان کی حکومت لانے سے پہلے سو دن قوم کو بارہ ارب ڈالر قرضے میں پڑینگے۔

ابھی “ادھار کے مینڈیٹ” پر کھلاڑیوں کی حکومت بنی نہیں تھی مگر متوقع وزیر خزانہ اسد عمر نے کشکول اٹھا کر آئی ایم ایف کے پاس جانے کی نوید سنا کر “رنگ میں بھنگ” ڈال دیا۔ دوسری طرف امریکہ نے آئی ایم ایف کو متنبہ کرکے کہ پاکستان کو بیل آوٹ پیکج نہ دیا جائے ،”ادھار کی جیت” کے”ہنیگ اورر” پر بھی پانی ڈال دیا۔ چین کو بھی تشویش ہے کہ آئی ایم ایف نے امریکی انتباہ پر قرضہ نہ دیا تو پاکستان کا کیا بنے گا ؟ چین نے امریکی انتباہ پر ردعمل بھی دیا کہ آئی ایم ایف اپنے ضابطہ کار کے مطابق پاکستانی قرضے کی درخواست پر فیصلہ کرے۔

قبل از انتخاب دھاندلی کے نتیجہ میں “ادھار کے مینڈیٹ” سے کپتان کو ملی حکومت یوم پیدائش سے ہی وینٹی لیٹر پر ہے ۔ مگر اس کی بقاء کی فکر پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹ میں چند دن کی مہمان قائد حزب اختلاف نائب صدر سینیٹر شیری رحمان کو بھی بہت ہے ۔ جونہی آئی ایم ایف کو امریکی انتباہ کی خبر چلی، سینیٹر شیری رحمان نے کپتان کو قرضہ دئیے جانے کی حمایت کے لئے سوشل میڈیا پر بھاشن دے ڈالا اور آئی ایم ایف کی ری سٹرکچرنگ کئے جانے بارے موقف کی حمایت کرڈالی ۔ شیری رحمان کا سوشل میڈیا یہ پیغام انکا ذاتی حثیت میں پاکستانی مقتدر حلقوں کو خوش کرنے کی روایتی کوشش تھی یا پیپلزپارٹی کی پالیسی ؟ تاہم بلاول بھٹو کی ڈٹ کر اپوزیشن کرنے کے دعوے پر سوالیہ نشان لگ گیا۔

آئی ایم ایف نے امریکی انتباہ کے جواب میں انتا ہی کہا ہے کہ ابھی پاکستان سے بیل آوٹ قرضے کے لئے درخواست نہیں آئی۔ نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر کا کہنا ہے کہ مالیاتی خسارہ اور کرنٹ اکاونٹ خسارہ نفسیاتی حدوں سے باہر نکل رہا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر جو کہ کم ترین سطح 10 ارب ڈالر پر رہ گئے ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر کی امپورٹ بل کی صورت نکاسی روکنے کے لئے کپتان کی حکومت کو قرضہ لینے کے لئے پاکستان روپے کی قدر کو مزید کم کرنے کی آئی ایم ایف کی شرط کا سامنا کرنا پڑے گا۔