فیس بک پیج سے منسلک ہوں

بعد از انتخابات منظر نامہ : تحریک انصاف،ن لیگ،پی پی اور مذہیبی جماعتیں

بعد از دھاندلی کے الزام زدہ انتخابات پاکستان کا منظر نامہ کچھ یوں ہے کہ اقتدار کے سنگھاسن تک پہنچے کی کوششوں میں مصروف تحریک انصاف نے شہری اور شہری /دیہی علاقوں کے درمیانے طبقے جو قدامت پسندی اور جدیدیت سے رومانویت کے مغلوب ذہنیت رکھتے ہیں انہی کا ووٹ حاصل کیا جیت میں جو کسر تھی وہ تحریک کے سرمایہ دار اور ریاستی نوکر شاہی پوری کرنے کو تاحال کوشاں ہے کسی عامل کے اشتہار کی عبارت مانند ” کامیابی مقدر ٹھہرے گی”۔

شہری آبادی کا درمیانی طبقہ مشرف مخالف تحریک میں سرگرم ہوا جس میں دائیں بازو کے قدامت پسند اور بائیں بازو کے ترقی پسند رجحانات رکھنے والے مجتمع تھے اور پھر اس غیر نظریاتی اور موقع پرست درمیانی طبقے کی مذہبی جماعتوں کے بے جان جلسوں سے بیزاری تو اک قطعی امر تھا سو تحریک انصاف کے جلسوں میں دوطرفہ مواقع میسر ہوئے تو ان کے ہو لئے۔

خصوصا شہری اور دیہی شہری پر مشتمل درمیانی طبقہ، کارل مارکس نے کہا تھا کہ” درمیانی طبقہ کے پاوں کیچڑ اور نظریں آسمان پر ہوتی ہیں”۔ گو حالیہ انتخابات میں روایتی مذہبی جماعتوں کے ووٹ بنک کو دھچکا تو لگا مگر تحریک انصاف کی صورت مذہبی جنونیت اور ذہنیت بتدریج پنپ رہی۔ جس کا اظہار عمران خان نے انتخابی مہم کے اختتامیہ پر انکی جیت میں رکاوٹ بھارت کی روایتی دشمنی اور عالمی طاقتوں کا بیانیے اپنے پیروکاروں کو دیا۔

ریاستی اداروں نے اس درمیانے طبقہ کے سیاسی ابھارے کے لئے بھرپور محنت کی۔ کرپشن کے نعرے کو تقویت دینے کےلئے دائیں بازو کے پرانے اتحادی نواز شریف اور انکی بیٹی مریم اور کیپٹن صفدر کو جیل تو پہنچا دیا جس کے نتیجہ میں مسلم لیگ ن کسی حد تک پنجاب میں حکومت بنانے سے محدود تو کردی گئی مگر تحلیل نہیں کی جا سکی۔ مسلم لیگ ن ریاستی اداروں کے تمام حربوں کے باوجود اپنی ساکھ برقرار رکھنے میں کامیاب رہی قیادت کی تبدیلی سے بھی مسلم لیگ ن میں کوئی بڑا دھچکا نہیں لگا۔ تاہم مسلم لیگ ن کو مستقبل میں اپنی سیاست کو نئے حالات سے نبرد آزما ہونے کے لئے محنت کرنی پڑے گی۔

تاہم آنے والے دنوں میں پنجاب سے تحریک انصاف کو دائیں بازو کے رجحانات رکھنے والی درمیانے طبقہ سے افرادی قوت ملتی رہی گی۔ جس سے دائیں بازو کی جماعتیں مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی ، جے یو آئی ف ،پاکستان عوامی تحریک متاثر ہوں گی۔ سماج میں دائیں بازو کی ذہنیت والے درمیانی طبقے میں مذہبی جماعتوں سے بیزاری کی مقبول وجہ یہی دکھائی دیتی کہ وہ مراعات اور آسائش بھی چاہتے ہیں اورسماجی سطح پر ایماندارانہ شناخت بھی۔ ان سماجی محرکات کو تحریک انصاف نے اپنی گذشتہ سال سے جاری انتخابی مہم میں گو کہ بھرپور استفادہ کیا مگر اس کے باوجود مستقبل میں تحریک انصاف کوئی بڑا حجم نہیں بنا پائے گی۔

پاکستان پیپلزپارٹی ان انتخابات میں گو کہ پنجاب میں بڑی کامیابی تو حاصل نہیں کر سکی مگر چئیرمین بلاول بھٹو نے اپنی پہلی انتخابی مہم میں جو موقف اور طرز سیاست اختیار کیا اس نے جہاں پنجاب میں جیالیوں کا جگایا ہے وہیں پنجاب میں پسے ہوئے مزدور ، کسان ، خواتین اور نوجوان نسل کو اپنے سیاسی بیانیے پر بھی متوجہ کیا ہے۔ یہی وجہ رہی کہ بلاول بھٹو کا راستہ روکنے کے لئے ریاستی اداروں کا استعمال ہوا، ریلیاں متاثر کی گئیں۔ انتخابی مہم میں بہت سی رکاوٹوں کا سامانا کرنا پڑا۔ ریاستی اداروں نے آصف علی زرداری اور انکی ہمشیرہ فریال پر منی لانڈرنگ کا مبینہ الزام لگا کر انتخابی مہم کو متاثر کرنے کے لئے الزامات کا پرانا حربہ بھی استعمال کیا۔

تاہم پنجاب میں پیپلزپارٹی نے ووٹوں کی تعداد کے حوالے سے ابھار حاصل کیا مگر بلاول بھٹو کو انتخابی مہم کے دوران اختیار کئے گئے نظریاتی پیغام کو پھیلانے کے لئے محنت درکار ہوگی۔ پارٹی کی تنظیموں کو متحرک کرنے اور خصوصا پنجاب میں مزدور اور نوجوان نسل تک براہ راست رابطے کرنے ضروری ہونگے۔ پیپلزپارٹی روایتی طور پر مزدوروں ، کسانوں اور پسے ہوئے طبقات کی جماعت رہی ہے مگر اب اس میں درمیانے طبقہ کے موقع پرستوں کا ہجوم دکھائی دیتا ہے اس ہجوم میں وہ بھی شامل ہیں جو ماضی کے اقتدار سے مستفیض ہوئے اور جن کا مزدوروں ، نوجوانوں کی تنظیم کاری سے زیادہ ذاتی مفادات کو تقویت دینا مطمع نظر دکھائی دیتا رہا اوراب عوام میں انکی ساکھ بھی نہیں ہے۔ بلاول بھٹو کو پیپلزپارٹی کی تنظیم کاری پر توجہ برقرار رکھتے ہوئے عوام میں پذیرائی واپس حاصل کرنے لئے پارلیمان سے چوپال اور محلے کے تھڑوں تک عام آدمی تک پہنچنے کا لائحہ عمل بنانا ہوگا۔

انتخابات 2018ء کے نتیجہ میں پاکستان کسی انقلابی نہیں بلکہ ایک بحرانی دور میں داخل ہو رہا ہے۔ گذشتہ دو دہائیوں میں تشکیل پانے والی نو آموز درمیانے درجے کی سرمایہ دار کلاس جسے خصوصا برطانیہ اور سمندر پاکستانیوں کی حمایت حاصل ہے ایک ایسا سماج بنانے کے مشن پر جس کی بنیاد انتہا پسندی ، مذہبی جنونیت پر ہی رکھی گئی ، نعرہ کرپشن کا لگا مگر ریاستی نوکرشاہی نے مخصوص جماعت کو اقتدار میں لانے کے لئے سیاسی ، سماجی، مذہبی ، قانونی ، آئینی اقداراور روایات تک کو مذاق بنا دیا گیا۔ اب اس کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

بحران کی شکار معیشت والے ملک کو پاوں پر کھڑا رکھنے کےلئے آئی ایم ایف کے بیل آوٹ پیکج کی ضرورت ہے قرضے نہی لینے کا انتخابی اعلان رکھنے والے اب کشکول اٹھاںے کو تیار ہیں مگر آئی ایم ایف پر عالمی طاقتوں کا قرضے نہ دینے کا دباو ہے۔ اعتراض یہ کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لیکر چین کا قرضہ ادا کیا جائے گا، ریاست تو سی پیک کو پاکستان پر چین کی سرمایہ کاری بتاتی رہی مگر اب یہ قرض منکشف ہورہا۔

ابھی حکومت تشکیل نہیں پائی لہذا انتخابی مہم کی پالیسی پر تحریک انصاف کہاں تک عمل پیرا ہو سکے گی ابھی کچھ کہنا قبل از وقت- تاہم برطانیہ اور بیرون ملک پاکستانی اور درمیانہ طبقہ اب اپنی مرضی کے حکمران حاصل کرنے کے بعد حکومت بچانے کے لئے اپنے اثاثے چندے کی صورت پاکستان کو منتقل کرنے بارے سنجیدگی سے سوچیں کیونکہ حکومت بنانا کوئی چیلنج نہیں تھا پاکستان بچانا اصل چیلنج تھا جس کا نعرہ پیپلزپارٹی نے لگایا تھا۔